تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ:} یعنی پھر ہم اس میں روح پھونکتے ہیں تو وہ نہایت خوب صورت دیکھنے، سننے، سمجھنے اور حرکت کرنے والا انسان بن جاتا ہے۔ جس کی شکل و صورت ہی اور ہوتی ہے۔ اب پہلی صورت کے ساتھ اس کی کوئی مناسبت نہیں، یعنی مٹی سے اس کا دور کا بھی کوئی تعلق نہیں، پہلے بے جان تھا اب جاندار ہے۔ پہلے اندھا، بہرا اور گونگا تھا اب آنکھ، کان اور زبان والا ہے۔ پہلے گوشت کا بے حس ٹکڑا تھا، اب اس کے ذرّے ذرّے میں اللہ تعالیٰ کی عجیب و غریب باریکیاں اور ہزاروں قسم کے احساسات ہیں۔ اس پر آنے والا ہر لمحہ نئی سے نئی تبدیلی لے کر آ رہا ہے، پہلے جنین پھر دودھ پیتا بچہ، جو پیدا ہوتے ہی اپنا اختیار استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے، پھر لڑکا پھر نوجوان پھر جوان پھر ادھیڑ عمر پھر بوڑھا، پھر ایسا بوڑھا کہ بچپن کی کمزوری کی طرف پلٹ جاتا ہے۔ انھی منزلوں میں سے کسی منزل میں اسے موت اپنی آغوش میں لے لیتی ہے۔
➌ { فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ:} اللہ تعالیٰ نے اس سے پہلے انسان کی پیدائش کا ذکر ایسے مدلل اور خوب صورت انداز میں فرمایا ہے کہ خود بخود یہ جملہ زبان پر آجاتا ہے: «فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ» ”سو بہت برکت والاہے اللہ جو بنانے والوں میں سب سے اچھا ہے۔“ حقیقت یہ ہے کہ یہ کسی کلام کی خوبی کی انتہا ہے۔ چنانچہ ایک شاعر نے چند قصیدوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے:
{قَصَائِدٌ إِنْ تَكُنْ تُتْلٰي عَلٰي مَلَإٍ
صُدُوْرُهَا عُلِمَتْ مِنْهَا قَوَافِيْهَا}
”وہ ایسے قصیدے ہیں کہ لوگوں کے سامنے ان کے ابتدائی اشعار پڑھے جائیں تو ان کے آخری اشعار خود بخود معلوم ہو جاتے ہیں۔“ غالب نے کیا خوب کہا ہے:
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
➍ { الْخٰلِقِيْنَ:} یہاں {”خَلْقٌ“} کا لفظ ظاہری شکل و صورت بنانے کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جیسا کہ عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق فرمایا: { وَ اِذْ تَخْلُقُ مِنَ الطِّيْنِ كَهَيْـَٔةِ الطَّيْرِ بِاِذْنِيْ } [المائدۃ: ۱۱۰] ”اور جب تو مٹی سے پرندے کی شکل کی مانند میرے حکم سے بناتا تھا۔“ اور جیسا کہ حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تصویر بنانے والوں سے فرمائے گا: [أَحْيُوْا مَا خَلَقْتُمْ] [بخاري، البیوع، باب التجارۃ فیما یکرہ… ۲۱۰۵، عن عائشۃ رضی اللہ عنھا] ”تم نے جو خلق کیا ہے اسے زندہ کرو۔“ پیدا کرنے اور زندگی بخشنے کے معنی میں خالق صرف اللہ تعالیٰ ہے۔
➍ {” اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ “} کے لفظ میں انسان کے حسن و جمال کی طرف بھی واضح اشارہ ہے۔ (بقاعی)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[15] اب اگر انسان ذرا سا بھی غور کرے کہ کس طرح ایک حقیر پانی کی بوند سے اس کی زندگی کا آغاز ہوا۔ اور مختلف مراحل طے کرانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اسے کیا سے کیا بنا دیا۔ تو بے اختیار اس کی زبان سے یہ الفاظ نکل آتے ہیں کہ: ﴿فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ﴾ یعنی اللہ تعالیٰ کی ذات مقدس کس قدر خیرو خوبی والی اور حکمتوں اور قدرتوں والی ہے جس نے انسانی تخلیق کا آغاز مٹی سے یا نطفہ سے کیا پھر مختلف مراحل طے کرا کر محیر العقول طریقوں سے اسے ایک با شعور اور صاحب ادارہ و اختیار انسان بنا دیا۔ واضح رہے کہ تبارک کا لفظ عموماً اللہ تعالیٰ سے مخصوص ہے اور ان خیر کے کاموں کے سلسلہ میں آتا ہے جو صرف اللہ تعالیٰ سے مختص ہیں۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ثم خلقنا النطفةَ}: التي قد استقرَّت قبل {علقةً}؛ أي: دماً أحمر بعد مضيِّ أربعين يوماً من النطفة، ثم {خلقنا العلقةَ}: بعد أربعين يوماً {مضغةً}؛ أي: قطعة لحم صغيرةٍ بقدر ما يُمْضَغ من صغرها، {فَخلْقنا المضغة}: اللينةَ {عظاماً}: صلبةً قد تخلَّلت اللحم بحسب حاجة البدن إليها، {فكَسَوْنا العظام لحماً}؛ أي: جعلنا اللحم كسوة للعظام؛ كما جعلنا العظام عماداً للحم، وذلك في الأربعين الثالثة، {ثم أنشأناه خَلْقاً آخر}: نفخ فيه الروح، فانتقل من كونه جماداً إلى أنْ صار حيواناً. {فتبارك الله}؛ أي: تعالى وتعاظم وكثر خيره، {أحسنُ الخالقينَ}: {الذي أحسنَ كلَّ شيءٍ خَلَقَهُ وبدأ خَلْقَ الإنسان من طين. ثم جعل نسله من سلالةٍ من ماءٍ مَهين. ثم سوَّاه ونَفَخَ فيه من روحِهِ وجعل لكم السمع والأبصار والأفئدةَ قليلاً ما تشكرون}؛ فخلقه كلُّه حسنٌ، والإنسان من أحسن مخلوقاته، بل هو أحسنها على الإطلاق؛ كما قال تعالى: {لقد خَلَقْنا الإنسان في أحسن تقويم}، ولهذا كان خواصُّه أفضل المخلوقات وأكملها.