تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 111

اِنِّیۡ جَزَیۡتُہُمُ الۡیَوۡمَ بِمَا صَبَرُوۡۤا ۙ اَنَّہُمۡ ہُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ ﴿۱۱۱﴾
بے شک میں نے انھیں آج اس کے بدلے جو انھوں نے صبر کیا، یہ جزا دی ہے کہ بے شک وہی کامیاب ہیں۔ En
آج میں نے اُن کو اُن کے صبر کا بدلہ دیا، کہ وہ کامیاب ہوگئے
En
میں نے آج انہیں ان کے اس صبر کا بدلہ دے دیا ہے کہ وه خاطر خواه اپنی مراد کو پہنچ چکے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا میں نے آج ان کو اپنی اطاعت کرنے اور تمھاری اذیتوں کو برداشت کرنے کا بدلہ دیا ہے، حتیٰ کہ وہ مجھ تک پہنچ گئے۔﴿اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآىِٕزُوْنَ۠ بے شک وہی لوگ کامیاب ہیں۔ یعنی دائمی نعمتیں اور جہنم سے چھٹکارا پاکر کامیاب ہوئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک اور آیت کریمہ میں فرماتا ہے ﴿فَالْیَوْمَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنَ الْكُفَّارِ یَضْحَكُوْنَ (المطففین:83؍34) آج وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کافروں پر ہنسیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إنِّي جزيتُهُمُ اليومَ بما صَبَروا}: على طاعتي وعلى أذاكم حتى وصلوا إليَّ {أنَّهم هُمُ الفائزونَ}: بالنعيم المقيم والنَّجاة من الجحيم؛ كما قال في الآية الأخرى: {فاليومَ الذين آمنوا من الكُفَّارِ يَضْحَكونَ ... } الآيات.