تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَاتَّؔخَذْتُمُوْهُمْ ﴾”لیکن تم نے ان کو بنا لیا۔“ اے حقیر اور ناقص العقل کا فرو!﴿ سِخْرِیًّا ﴾”مذاق (کا موضوع)“ یعنی تم ان کے ساتھ استہزا کرتے تھے اور ان کے ساتھ حقارت سے پیش آتے تھے حتیٰ کہ تم انھیں بیوقوف سمجھتے تھے﴿ حَتّٰۤىاَنْسَوْؔكُمْذِكْرِیْوَؔكُنْتُمْمِّؔنْهُمْتَضْحَكُوْنَ ﴾”یہاں تک کہ (اس شغل نے) تمھیں میری یاد ہی بھلا دی اور تم ان سے مذاق کرتے رہے۔“ اہل ایمان کے ساتھ استہزاء میں ان کی مشغولیت، ان کے لیے ذکر کو بھلا دینے کی موجب ہوئی، جیسے ذکر کو فراموش کر دینا ان کو تمسخر و استہزاء پر آمادہ کرتا رہا۔ پس دونوں امور ایک دوسرے کے لیے معاون بنے رہے۔ کیا اس جرأت سے بڑھ کر کوئی جرأت ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فاتَّخَذْتُموهم}: أيُّها الكفرةُ الأنذالُ ناقصو العقول والأحلام، {سِخْرِيًّا}: تهزؤون بهم وتحتقرونهم حتى اشتغلتُم بذكر السَّفه، {حتى أنْسَوْكُم ذِكْري وكنتم منهم تَضْحَكونَ}: وهذا الذي أوجبَ لهم نسيان الذِّكر اشتغالُهم بالاستهزاء بهم؛ كما أنَّ نسيانهم للذِّكر يحثُّهم على الاستهزاء؛ فكلٌّ من الأمرين يمدُّ الآخر؛ فهل فوق هذه الجرأة جرأة؟!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔