تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 110

فَاتَّخَذۡتُمُوۡہُمۡ سِخۡرِیًّا حَتّٰۤی اَنۡسَوۡکُمۡ ذِکۡرِیۡ وَ کُنۡتُمۡ مِّنۡہُمۡ تَضۡحَکُوۡنَ ﴿۱۱۰﴾
تو تم نے انھیں مذاق بنالیا، یہاں تک کہ انھوں نے تم کو میری یاد بھلا دی اور تم ان سے ہنسا کرتے تھے۔ En
تو تم ان سے تمسخر کرتے رہے یہاں تک کہ ان کے پیچھے میری یاد بھی بھول گئے اور تم (ہمیشہ) ان سے ہنسی کیا کرتے تھے
En
(لیکن) تم انہیں مذاق میں ہی اڑاتے رہے یہاں تک کہ (اس مشغلے نے) تم کو میری یاد (بھی) بھلا دی اور تم ان سے مذاق ہی کرتے رہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَاتَّؔخَذْتُمُوْهُمْ لیکن تم نے ان کو بنا لیا۔ اے حقیر اور ناقص العقل کا فرو!﴿ سِخْرِیًّا مذاق (کا موضوع) یعنی تم ان کے ساتھ استہزا کرتے تھے اور ان کے ساتھ حقارت سے پیش آتے تھے حتیٰ کہ تم انھیں بیوقوف سمجھتے تھے﴿ حَتّٰۤى اَنْسَوْؔكُمْ ذِكْرِیْ وَؔكُنْتُمْ مِّؔنْهُمْ تَضْحَكُوْنَ یہاں تک کہ (اس شغل نے) تمھیں میری یاد ہی بھلا دی اور تم ان سے مذاق کرتے رہے۔ اہل ایمان کے ساتھ استہزاء میں ان کی مشغولیت، ان کے لیے ذکر کو بھلا دینے کی موجب ہوئی، جیسے ذکر کو فراموش کر دینا ان کو تمسخر و استہزاء پر آمادہ کرتا رہا۔ پس دونوں امور ایک دوسرے کے لیے معاون بنے رہے۔ کیا اس جرأت سے بڑھ کر کوئی جرأت ہے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فاتَّخَذْتُموهم}: أيُّها الكفرةُ الأنذالُ ناقصو العقول والأحلام، {سِخْرِيًّا}: تهزؤون بهم وتحتقرونهم حتى اشتغلتُم بذكر السَّفه، {حتى أنْسَوْكُم ذِكْري وكنتم منهم تَضْحَكونَ}: وهذا الذي أوجبَ لهم نسيان الذِّكر اشتغالُهم بالاستهزاء بهم؛ كما أنَّ نسيانهم للذِّكر يحثُّهم على الاستهزاء؛ فكلٌّ من الأمرين يمدُّ الآخر؛ فهل فوق هذه الجرأة جرأة؟!