(آیت 111){ اِنِّيْجَزَيْتُهُمُالْيَوْمَ …:} دنیا میں اہل ایمان کے لیے ایک صبر آزما مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ جب وہ دین پر عمل کرتے ہیں تو دین سے جاہل اور ایمان سے بے خبر لوگ انھیں ہنسی مذاق اور ملامت کا نشانہ بنا لیتے ہیں۔ کتنے ہی کمزور ایمان والے ہیں جو ان ملامتوں سے ڈر کر بہت سے احکام الٰہی پر عمل کرنے سے گریز کرتے ہیں، جیسے مشرکانہ رسوم سے کنارہ کشی اور ان کا رد ہے، ڈاڑھی ہے، پردے کا مسئلہ ہے، شادی بیاہ اور موت وغیرہ کی ہندوانہ رسوم سے اجتناب ہے وغیرہ وغیرہ۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو کسی بھی ملامت کی پروا نہیں کرتے اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے کسی بھی موقع پر انحراف نہیں کرتے۔ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن انھیں اس کی بہترین جزا عطا فرمائے گا اور انھی کو کامیابی سے سرفراز فرمائے گا۔ یا اللہ! تو ہمیں بھی ان خوش نصیبوں میں شامل فرما۔ (آمین) سورۂ مطففین کی آیات (۲۹ تا ۳۶) بھی ملاحظہ فرمائیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
111-1دنیا میں اہل ایمان کے لئے ایک صبر آزما مرحلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ جب دین و ایمان پر عمل کرتے ہیں تو دین سے ناآشنا اور ایمان سے بیخبر لوگ انھیں ہنسی مذاق و ملامت کا نشانہ بنا لیتے ہیں۔ کتنے ہی کمزور ایمان والے ہیں کہ وہ ان ملامتوں سے ڈر کر بہت سے احکام اللہ پر عمل کرنے سے کرتے ہیں، جیسے ڈاڑھی ہے، پردے کا مسئلہ ہے، شادی بیاہ کی ہندوانہ رسومات سے اجتناب ہے وغیرہ وغیرہ۔ خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو کسی بھی ملامت کی پروا نہیں کرتے اور اللہ و رسول کی اطاعت سے کسی بھی موقع پر انحراف نہیں کرتے، اللہ تعالیٰ قیامت والے دن انھیں اس کی بہترین جزا عطا فرمائے گا اور انھیں کامیابی سے سرفراز کرے گا۔ جیسا کہ اس آیت سے واضح ہے۔ اللَّھُمَّ! اَجْعَلْنَامِنْھُمْ۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
111۔ آج میں نے انھیں ان کے صبر کا بدلہ [104] دے دیا ہے۔ بلا شبہ وہی کامیاب رہے ہیں“
[104] لیکن تمہارے اس تمسخر اور مذاق کے مقابلہ میں میرے مخلص بندے دنیا میں صبر ہی کرتے رہے۔ آج میں تمہیں تمہاری کرتوتوں کی پوری سزا دوں گا اور انھیں ان کے صبر کی پوری پوری جزاء دے رہا ہوں۔ میں انھیں ایسا مقام عطا کر رہا ہوں جہاں وہ ہر طرح کی لذتوں اور مسرتوں سے ہمکنار ہوں گے اور یہی صبر کرنے والے لوگ ہیں جو ہر طرح سے کامیاب رہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اِنِّیْجَزَیْتُهُمُالْیَوْمَبِمَاصَبَرُوْۤا ﴾ میں نے آج ان کو اپنی اطاعت کرنے اور تمھاری اذیتوں کو برداشت کرنے کا بدلہ دیا ہے، حتیٰ کہ وہ مجھ تک پہنچ گئے۔﴿اَنَّهُمْهُمُالْفَآىِٕزُوْنَ۠ ﴾”بے شک وہی لوگ کامیاب ہیں۔“ یعنی دائمی نعمتیں اور جہنم سے چھٹکارا پاکر کامیاب ہوئے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک اور آیت کریمہ میں فرماتا ہے ﴿فَالْیَوْمَالَّذِیْنَاٰمَنُوْامِنَالْكُفَّارِیَضْحَكُوْنَ﴾ (المطففین:83؍34) ”آج وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں کافروں پر ہنسیں گے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{إنِّي جزيتُهُمُ اليومَ بما صَبَروا}: على طاعتي وعلى أذاكم حتى وصلوا إليَّ {أنَّهم هُمُ الفائزونَ}: بالنعيم المقيم والنَّجاة من الجحيم؛ كما قال في الآية الأخرى: {فاليومَ الذين آمنوا من الكُفَّارِ يَضْحَكونَ ... } الآيات.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔