تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 112

قٰلَ کَمۡ لَبِثۡتُمۡ فِی الۡاَرۡضِ عَدَدَ سِنِیۡنَ ﴿۱۱۲﴾
فرمائے گا تم زمین میں سالوں کی گنتی میں کتنی مدت رہے؟ En
(خدا) پوچھے گا کہ تم زمین میں کتنے برس رہے؟
En
اللہ تعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ تم زمین میں باعتبار برسوں کی گنتی کے کس قدر رہے؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قٰلَ اللہ تعالیٰ ملامت کے اسلوب میں ان سے کہے گا۔ یہ اسلوب اس لیے بھی ہو گا کیونکہ وہ بیوقوف تھے انھوں نے اس تھوڑی سی مدت میں ہر برائی کا ارتکاب کیا جو اس کے غضب اور عقاب کا باعث بنتی ہے۔ انھوں نے ان نیکیوں کا اکتساب نہ کیا جن کا اکتساب اہل ایمان نے کیا تھا جو ان کے لیے دائمی سعادت اور ان کے رب کی رضا کی باعث بنیں۔ ﴿ كَمْ لَبِثْتُمْ فِی الْاَرْضِ عَدَدَ سِنِیْنَ۰۰ قَالُوْا لَبِثْنَا یَوْمًا اَوْ بَعْضَ یَوْمٍ تم زمین میں کتنے برس رہے، وہ کہیں گے ایک دن یا دن کا کچھ حصہ۔ ان کا یہ کلام، ان کے دنیا میں رہنے، اس سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں بہت ہی کم اندازے پر مبنی ہے مگر یہ اس کی مقدار کو کوئی فائدہ دیتی ہے نہ اس کی تعیین کرتی ہے۔ اس لیے وہ کہیں گے۔ ﴿ فَسْـَٔلِ الْعَآدِّیْنَ یعنی اس کی تعداد کا حساب کتاب رکھنے والوں سے پوچھ لیجیے۔ وہ خود تو اب ایک شغل اور اس کے عدد کی معرفت سے غافل کر دینے والے عذاب میں مبتلا ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا: ﴿اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا نہیں ٹھہرے تم مگر بہت کم۔ خواہ تم اس کی تعداد کا تعین کرو یا نہ کرو تمھارے لیے برابر ہے۔ ﴿ لَّوْ اَنَّـكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ کاش تمھیں علم ہوتا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قال} لهم على وجهِ اللَّوم وأنَّهم سفهاءُ الأحلام حيث اكْتَسَبوا في هذه المدَّة اليسيرةِ كلَّ شرٍّ أوصَلَهم إلى غضبِهِ وعقوبتِهِ، ولم يكتَسِبوا ما اكْتَسَبَه المؤمنون من الخير الذي يوصِلُهم إلى السعادة الدائمة ورضوان ربِّهم: {كم لَبِثْتُم في الأرضِ عددَ سنينَ. قالوا لَبِثْنا يوماً أو بعضَ يوم}: كلامُهم هذا مبنيٌّ على استقصارِهم جدًّا لمدَّة مُكْثِهِم في الدُّنيا، وأفاد ذلك، لكنَّه لا يفيدُ مقدارَه ولا يُعَيِّنُه؛ فلهذا قالوا: {فاسألِ العادِّينَ}؛ أي: الضابطين لعددِهِ، وأمَّا هم؛ ففي شغل شاغل وعذاب مذهل عن معرفةِ عددِهِ. فقال لهم: {إن لبثتم إلاَّ قليلاً}: سواء عيَّنْتُم عدَدَه أم لا، {لو أنكم كنتُم تعلمونَ}.