تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 107

رَبَّنَاۤ اَخۡرِجۡنَا مِنۡہَا فَاِنۡ عُدۡنَا فَاِنَّا ظٰلِمُوۡنَ ﴿۱۰۷﴾
اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال لے، پھر اگر ہم دوبارہ ایسا کریں تو یقینا ہم ظالم ہوں گے۔ En
اے پروردگار! ہم کو اس میں سے نکال دے، اگر ہم پھر (ایسے کام) کریں تو ظالم ہوں گے
En
اے ہمارے پروردگار! ہمیں یہاں سے نجات دے اگر اب بھی ہم ایسا ہی کریں تو بےشک ہم ﻇالم ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ رَبَّنَاۤ اَخْرِجْنَا مِنْهَا فَاِنْ عُدْنَا فَاِنَّا ظٰ٘لِمُوْنَ اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال لے، پھر اگر ہم یہی کام کریں تو یقینا ظالم ہوں گے۔ وہ اپنے اس وعدے میں بھی جھوٹے ہیں کیونکہ تب بھی ان کا حال وہی ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَوْ رُدُّوْا لَعَادُوْا لِمَا نُهُوْا عَنْهُ (الانعام:6؍28) اگر ان کو دنیا میں لوٹا دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو منع کیا گیا ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوئی حجت باقی نہیں رکھی بلکہ ان کے تمام عذر منقطع کر دیے اور دنیا میں ان کو اس نے اتنی عمریں دیں کہ اس میں نصیحت پکڑنے والے نصیحت پکڑلیتے ہیں اور مجرم جرم سے باز آجاتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ربَّنا أخْرِجْنا منها فإنْ عُدْنا فإنَّا ظالِمونَ}: وهم كاذِبون في وعدِهم هذا؛ فإنَّهم كما قال تعالى: {لو رُدُّوا لَعادوا لما نُهوا عنه}، ولم يُبْقِ الله لهم حجَّة، بل قطع أعذارَهم، وعَمَّرَهم في الدُّنيا ما يتذكَّر فيه من تذكَّر ، ويرتدِعُ فيه المجرمُ.