تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 106

قَالُوۡا رَبَّنَا غَلَبَتۡ عَلَیۡنَا شِقۡوَتُنَا وَ کُنَّا قَوۡمًا ضَآلِّیۡنَ ﴿۱۰۶﴾
وہ کہیں گے اے ہمارے رب! ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی اور ہم گمراہ لوگ تھے۔ En
اے ہمارے پروردگار! ہم پر ہماری کم بختی غالب ہوگئی اور ہم رستے سے بھٹک گئے
En
کہیں گے کہ اے پروردگار! ہماری بدبختی ہم پر غالب آگئی (واقعی) ہم تھے ہی گمراه En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ اس وقت اپنے ظلم کا اقرار کریں گے جب اقرار کوئی فائدہ نہ دے گا۔ ﴿ قَالُوْا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَیْنَا شِقْوَتُنَا کہیں گے: ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی جس نے ظلم، حق سے روگردانی، ضرررساں امور کو اختیار کرنے اور فائدہ مند امور کو ترک کرنے سے جنم لیا۔ ﴿ وَؔكُنَّا قَوْمًا ضَآلِّیْ٘نَ اور ہم گمراہ لوگ تھے۔ یعنی اپنے عمل میں گمراہ تھے اگرچہ وہ جانتے تھے کہ وہ ظالم ہیں، یعنی ہم نے دنیا میں اس طرح کام كيے جس طرح گمراہ، بیوقوف اور حیران و سرگرداں لوگ کام کرتے ہیں۔ جس طرح ایک اور آیت میں ان کا قول نقل ہوا ہے۔ ﴿وَقَالُوْا لَوْ كُنَّا نَ٘سْمَعُ اَوْ نَعْقِلُ مَا كُنَّا فِیْۤ اَصْحٰؔبِ السَّعِیْرِ (الملک:67؍10) اور کہیں گے: اگر ہم سنتے یا سمجھتے ہوتے تو جہنمیوں میں سے نہ ہوتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فحينئذٍ أقرُّوا بظلمهم حيث لا ينفع الإقرار: {قالوا ربَّنا غَلَبَتْ عَلَيْنا شِقْوَتُنا}؛ أي: غلبت علينا الشَّقاوة الناشئةُ عن الظُّلم والإعراض عن الحقِّ والإقبال على ما يضرُّ وتركِ ما ينفعُ، {وكنَّا قوماً ضالِّين}: في عملهم، وإن كانوا يَدْرون أنَّهم ظالمون؛ أي: فعلنا في الدُّنيا فعلَ التائِهِ الضالِّ السفيهِ؛ كما قالوا في الآية الأخرى: {وقالوا لو كُنَّا نَسْمَعُ أو نَعْقِلُ ما كُنَّا في أصحابِ السَّعير}.