تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 108

قَالَ اخۡسَـُٔوۡا فِیۡہَا وَ لَا تُکَلِّمُوۡنِ ﴿۱۰۸﴾
فرمائے گا اس میں دور دفع رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔ En
(خدا) فرمائے گا کہ اسی میں ذلت کے ساتھ پڑے رہو اور مجھ سے بات نہ کرو
En
اللہ تعالیٰ فرمائے گا پھٹکارے ہوئے یہیں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمائے گا: ﴿ اخْسَـُٔوْا فِیْهَا وَلَا تُكَلِّمُوْنِ پھٹکارے ہوئے اسی میں پڑے رہو اور مجھ سے کلام نہ کرو۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا یہ کلام… ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کا سوال کرتے ہیں … علی الاطلاق بہت بڑا قول ہے جو مجرموں کو ناکامی، زجروتوبیخ، ذلت، خسارے، ہر بھلائی سے مایوسی اور ہر شر کی خوشخبری کے طور پر سننے کو ملے گا۔ یہ کلام اور رب رحیم کا غیظ و غضب جہنم کے عذاب سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقال الله جواباً لسؤالهم: {اخسؤوا فيها ولا تُكَلِّمونِ}: وهذا القول ـ نسألُه تعالى العافيةَ ـ أعظمُ قول على الإطلاق يسمعهُ المجرِمون في التخييبِ والتوبيخ والذُّلِّ والخسارِ والتأييس من كلِّ خيرٍ والبُشرى بكل شرٍّ، وهذا الكلام والغضب من الربِّ الرحيم أشدُّ عليهم، وأبلغُ في نِكايتهم من عذاب الجحيم.