(آیت 107){ رَبَّنَاۤاَخْرِجْنَامِنْهَا …:} یہ مطالبہ وہ اس سے پہلے بھی کئی بار کر چکے ہوں گے۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت (۹۹)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
107۔ پروردگار! ہمیں اس آگ سے نکال اگر ہم دوبارہ ایسا [101] قصور کریں تو واقعی ہم ظالم ٹھہرے“
[101] ظالم لوگ موت کے وقت بھی دوبارہ دنیا میں واپس جانے کی التجا کریں گے جیسا کہ اس سورۃ کی آیت نمبر 100 میں گزر چکا ہے اور دوزخ میں داخل ہونے کے وقت بھی۔ لیکن ان کی یہ التجا کن وجوہ کی بنا پر ناقابل قبول ہو گی، اس کی تشریح مذکورہ بالا آیت کے حاشیہ میں ملاحظہ فرما لیجئے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ رَبَّنَاۤاَخْرِجْنَامِنْهَافَاِنْعُدْنَافَاِنَّاظٰ٘لِمُوْنَ ﴾”اے ہمارے رب! ہمیں اس سے نکال لے، پھر اگر ہم یہی کام کریں تو یقینا ظالم ہوں گے۔“ وہ اپنے اس وعدے میں بھی جھوٹے ہیں کیونکہ تب بھی ان کا حال وہی ہو گا جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَلَوْرُدُّوْالَعَادُوْالِمَانُهُوْاعَنْهُ ﴾ (الانعام:6؍28) ”اگر ان کو دنیا میں لوٹا دیا جائے تو دوبارہ وہی کام کریں گے جن سے ان کو منع کیا گیا ہے۔“ اللہ تبارک و تعالیٰ نے کوئی حجت باقی نہیں رکھی بلکہ ان کے تمام عذر منقطع کر دیے اور دنیا میں ان کو اس نے اتنی عمریں دیں کہ اس میں نصیحت پکڑنے والے نصیحت پکڑلیتے ہیں اور مجرم جرم سے باز آجاتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ربَّنا أخْرِجْنا منها فإنْ عُدْنا فإنَّا ظالِمونَ}: وهم كاذِبون في وعدِهم هذا؛ فإنَّهم كما قال تعالى: {لو رُدُّوا لَعادوا لما نُهوا عنه}، ولم يُبْقِ الله لهم حجَّة، بل قطع أعذارَهم، وعَمَّرَهم في الدُّنيا ما يتذكَّر فيه من تذكَّر ، ويرتدِعُ فيه المجرمُ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔