تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 103

وَ مَنۡ خَفَّتۡ مَوَازِیۡنُہٗ فَاُولٰٓئِکَ الَّذِیۡنَ خَسِرُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ فِیۡ جَہَنَّمَ خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۰۳﴾ۚ
اور وہ شخص جس کے پلڑے ہلکے ہوگئے تو وہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنی جانوں کا نقصان کیا، جہنم ہی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ En
اور جن کے بوجھ ہلکے ہوں گے وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے تئیں خسارے میں ڈالا، ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے
En
اور جن کے ترازو کا پلہ ہلکا ہوگیا یہ ہیں وه جنہوں نے اپنا نقصان آپ کر لیا جو ہمیشہ کے لئے جہنم واصل ہوئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَمَنْ خَفَّتْ مَوَازِیْنُهٗ اور جس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا اور اس کے پلڑے پر برائیاں چھا جائیں گی۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْۤا اَنْفُسَهُمْ پس یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا۔ اس خسارے کی نسبت دنیا کا بڑے سے بڑا خسارہ بھی بہت معمولی ہے۔ یہ بہت بڑا اور ناقابل برداشت خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن ہی نہیں۔ یہ ابدی خسارہ اور دائمی بدبختی ہے اس نے اپنے شرف کے حامل نفس کو خسارے میں مبتلا کر دیا جس کے ذریعے سے وہ ابدی سعادت حاصل کر سکتا تھا۔ پس اس نے اپنے رب کریم کے پاس ابدی نعمتوں کو ہاتھ سے گنوا دیا۔ ﴿ فِیْ جَهَنَّمَ خٰؔلِدُوْنَ وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ وہ ابد الآباد تک اس سے نہیں نکلیں گے۔ یہ وعید، جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں، اس شخص کے لیے ہے جس کی برائیاں اس کی نیکیوں پر چھا گئی ہوں گی اور ایسا شخص کافر ہی ہو سکتا ہے۔ اس طرح اس کا حساب اس شخص کے حساب کی مانند نہیں ہوگا جس کی نیکیوں اور برائیوں دونوں کا وزن ہوگا کیونکہ کفار کے پاس تو کوئی نیکی ہی نہیں ہوگی، البتہ ان کی بداعمالیوں کو اکٹھا کرکے شمار کیا جائے گا۔ وہ ان بداعمالیوں کا مشاہدہ اور ان کا اقرار کریں گے اور رسوائی اٹھائیں گے۔
رہا وہ شخص جو بنیادی طور پر مومن ہے مگر اس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے کے مقابلے میں جھکا ہوا ہوگا… تو وہ اگرچہ جہنم میں داخل ہوگا مگر وہ اس میں ہمیشہ نہیں رہے گا جیسا کہ کتاب و سنت کی نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ومَنْ خَفَّتْ موازينُهُ}: بأن رَجَحَتْ سيئاتُه على حسناتِهِ وأحاطتْ بها خطيئاتُهُ؛ {فأولئك الذين خَسِروا أنْفُسَهم}: كلُّ خسارةٍ غير هذه الخسارةِ؛ فإنَّها بالنسبة إليها سهلةٌ، ولكن هذه خسارةٌ صعبةٌ؛ لا يُجْبَرُ مُصابها، ولا يُسْتَدْرَكُ فائِتُها؛ خسارةٌ أبديَّة وشقاوةٌ سرمديَّة، قد خسر نفسَه الشريفة التي يتمكَّن بها من السعادة الأبديَّة، ففوَّتها هذا النعيم المقيم في جوار الربِّ الكريم. {في جهنَّمَ خالدونَ}: لا يخرُجون منها أبدَ الآبدينَ، وهذا الوعيد إنَّما هو ـ كما ذكرنا ـ لمن أحاطَتْ خطيئاتُهُ بحسناتِهِ، ولا يكون ذلك إلاَّ كافراً؛ فعلى هذا لا يُحاسَبُ محاسبةَ من توزَنُ حسناتُه وسيئاتُه؛ فإنَّهم لا حسنات لهم، ولكن تعدُّ أعمالُهم وتُحصى، فيوقَفون عليها، ويقرَّرون بها، ويُخْزَوْن بها.

وأمَّا مَنْ مَعَهُ أصلُ الإيمان، ولكنْ عَظُمَتْ سيئاتُه، فرجَحَتْ على حسناتِهِ؛ فإنَّه وإن دَخَلَ النار؛ لا يَخْلُدُ فيها كما دلَّت على ذلك نصوص الكتاب والسنة.