اس آیت کی تفسیر آیت 102 میں تا آیت 104 میں گزر چکی ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
103۔ اور جن کے ہلکے ہوں گے تو یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو [99] خسارے میں رکھا وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔
[99] میزان الاعمال کے نتائج:۔
ان دو آیات میں قیامت کے دن کا ایک دوسرا منظر سامنے لایا گیا ہے۔ جبکہ ہر شخص کے اعمال کا ٹھیک ٹھیک وزن کیا جائے گا اور پلڑا بھاری ہونے سے یہاں مراد نیکیوں والا پلڑا ہے۔ اور اصل چیز جو اس پلڑے کو بھاری اور وزن دار بنا سکتی ہے وہ کلمہ توحید اور اس پر استقامت ہے۔ پھر اسی کے مطابق اعمال صالح اس کی تائید مزید کریں گے۔ نیکیوں کا پلڑا جھکنے پر فوراً صاحب عمل کو معلوم ہو جائے گا کہ وہ دنیا کے امتحان میں پاس ہو گیا ہے اور اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہے گی۔ اور جس کا نیکیوں کا پلڑا ہلکا ہونے کی وجہ سے اوپر اٹھ گیا اور برائیوں کا پلڑا بھاری ہوا تو ایسے لوگ اس امتحان میں فیل اور ناکام ہو جائیں گے پھر ایک تو اس ناکامی پر انھیں افسوس اور حسرت ہو گی، دوسرے اس کے نتیجہ میں جہنم کا عذاب ان کے لئے پہلے ہی تیار ہو گا اور ان کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یہ ہو گی کہ وہ اللہ کی توحید کے اقرار کے ساتھ شرک بھی کرتے رہے ہوں گے اور خسارہ کی صورت یہ ہو گی کہ وہ اچھے عمل بھی کرتے رہے، لعنت بھی کی مگر شرک کی آمیزش کی وجہ سے وہ اعمال ان کے کام بھی نہ آئے۔ الٹا جہنم کے عذاب سے دو چار ہونا پڑ گیا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَمَنْخَفَّتْمَوَازِیْنُهٗ ﴾ اور جس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے سے بھاری ہوگا اور اس کے پلڑے پر برائیاں چھا جائیں گی۔ ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَالَّذِیْنَخَسِرُوْۤااَنْفُسَهُمْ ﴾”پس یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈالا۔“ اس خسارے کی نسبت دنیا کا بڑے سے بڑا خسارہ بھی بہت معمولی ہے۔ یہ بہت بڑا اور ناقابل برداشت خسارہ ہے جس کی تلافی ممکن ہی نہیں۔ یہ ابدی خسارہ اور دائمی بدبختی ہے اس نے اپنے شرف کے حامل نفس کو خسارے میں مبتلا کر دیا جس کے ذریعے سے وہ ابدی سعادت حاصل کر سکتا تھا۔ پس اس نے اپنے رب کریم کے پاس ابدی نعمتوں کو ہاتھ سے گنوا دیا۔ ﴿ فِیْجَهَنَّمَخٰؔلِدُوْنَ ﴾”وہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔“ وہ ابد الآباد تک اس سے نہیں نکلیں گے۔ یہ وعید، جیسا کہ ہم گزشتہ سطور میں ذکر کر چکے ہیں، اس شخص کے لیے ہے جس کی برائیاں اس کی نیکیوں پر چھا گئی ہوں گی اور ایسا شخص کافر ہی ہو سکتا ہے۔ اس طرح اس کا حساب اس شخص کے حساب کی مانند نہیں ہوگا جس کی نیکیوں اور برائیوں دونوں کا وزن ہوگا کیونکہ کفار کے پاس تو کوئی نیکی ہی نہیں ہوگی، البتہ ان کی بداعمالیوں کو اکٹھا کرکے شمار کیا جائے گا۔ وہ ان بداعمالیوں کا مشاہدہ اور ان کا اقرار کریں گے اور رسوائی اٹھائیں گے۔
رہا وہ شخص جو بنیادی طور پر مومن ہے مگر اس کی برائیوں کا پلڑا نیکیوں کے پلڑے کے مقابلے میں جھکا ہوا ہوگا… تو وہ اگرچہ جہنم میں داخل ہوگا مگر وہ اس میں ہمیشہ نہیں رہے گا جیسا کہ کتاب و سنت کی نصوص اس پر دلالت کرتی ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ومَنْ خَفَّتْ موازينُهُ}: بأن رَجَحَتْ سيئاتُه على حسناتِهِ وأحاطتْ بها خطيئاتُهُ؛ {فأولئك الذين خَسِروا أنْفُسَهم}: كلُّ خسارةٍ غير هذه الخسارةِ؛ فإنَّها بالنسبة إليها سهلةٌ، ولكن هذه خسارةٌ صعبةٌ؛ لا يُجْبَرُ مُصابها، ولا يُسْتَدْرَكُ فائِتُها؛ خسارةٌ أبديَّة وشقاوةٌ سرمديَّة، قد خسر نفسَه الشريفة التي يتمكَّن بها من السعادة الأبديَّة، ففوَّتها هذا النعيم المقيم في جوار الربِّ الكريم. {في جهنَّمَ خالدونَ}: لا يخرُجون منها أبدَ الآبدينَ، وهذا الوعيد إنَّما هو ـ كما ذكرنا ـ لمن أحاطَتْ خطيئاتُهُ بحسناتِهِ، ولا يكون ذلك إلاَّ كافراً؛ فعلى هذا لا يُحاسَبُ محاسبةَ من توزَنُ حسناتُه وسيئاتُه؛ فإنَّهم لا حسنات لهم، ولكن تعدُّ أعمالُهم وتُحصى، فيوقَفون عليها، ويقرَّرون بها، ويُخْزَوْن بها.
وأمَّا مَنْ مَعَهُ أصلُ الإيمان، ولكنْ عَظُمَتْ سيئاتُه، فرجَحَتْ على حسناتِهِ؛ فإنَّه وإن دَخَلَ النار؛ لا يَخْلُدُ فيها كما دلَّت على ذلك نصوص الكتاب والسنة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔