تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کے برے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ تَ٘لْ٘فَ٘حُوُجُوْهَهُمُالنَّارُ ﴾”جھلسائے گی ان کے چہروں کو آگ۔“ یعنی آگ انھیں ہر جانب سے ڈھانپ لے گی حتیٰ کہ ان کے تمام قابل شرف و احترام اعضاء کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی آگ کے شعلے ان کے چہروں سے ٹکڑے ہو ہو کر گریں گے۔ ﴿ وَهُمْفِیْهَاكٰلِحُوْنَ ﴾”اور وہ اس میں بدشکل ہوں گے۔“ شدت عذاب کی وجہ سے ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ان کے ہونٹ اوپر کی طرف سکڑ جائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذَكَرَ تعالى سوءَ مصير الكافرين، فقال: {تَلْفَحُ وجوهَهُم النارُ}؛ أي: تغشاهم من جميع جوانِبِهم، حتى تصيبَ أعضاءهم الشريفةَ، ويتقطَّع لهبُها عن وجوههم، {وهم فيها كالِحونَ}: قد عَبَسَتْ وجوهُهم وقَلَصَتْ شفاهُهم، من شدَّة ما هم فيه، وعظيم ما يَلْقَوْنَه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔