تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ المؤمنون (23) — آیت 104

تَلۡفَحُ وُجُوۡہَہُمُ النَّارُ وَ ہُمۡ فِیۡہَا کٰلِحُوۡنَ ﴿۱۰۴﴾
ان کے چہروں کو آگ جھلسائے گی اور وہ اس میں تیوری چڑھانے والے ہوں گے۔ En
آگ ان کے مونہوں کو جھلس دے گی اور وہ اس میں تیوری چڑھائے ہوں گے
En
ان کے چہروں کو آگ جھلستی رہے گی اور وه وہاں بدشکل بنے ہوئے ہوں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے کافروں کے برے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ﴿ تَ٘لْ٘فَ٘حُ وُجُوْهَهُمُ النَّارُ جھلسائے گی ان کے چہروں کو آگ۔ یعنی آگ انھیں ہر جانب سے ڈھانپ لے گی حتیٰ کہ ان کے تمام قابل شرف و احترام اعضاء کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی آگ کے شعلے ان کے چہروں سے ٹکڑے ہو ہو کر گریں گے۔ ﴿ وَهُمْ فِیْهَا كٰلِحُوْنَ اور وہ اس میں بدشکل ہوں گے۔ شدت عذاب کی وجہ سے ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ان کے ہونٹ اوپر کی طرف سکڑ جائیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذَكَرَ تعالى سوءَ مصير الكافرين، فقال: {تَلْفَحُ وجوهَهُم النارُ}؛ أي: تغشاهم من جميع جوانِبِهم، حتى تصيبَ أعضاءهم الشريفةَ، ويتقطَّع لهبُها عن وجوههم، {وهم فيها كالِحونَ}: قد عَبَسَتْ وجوهُهم وقَلَصَتْ شفاهُهم، من شدَّة ما هم فيه، وعظيم ما يَلْقَوْنَه.