تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
قیامت کے روز بعض مقامات ایسے ہوں گے جو شدید کرب ناک اور سخت تکلیف دہ ہوں گے جیسے میزان عدل کا مقام، جہاں بندے کے اعمال کا وزن کیا جائے گا اور نہایت عدل و انصاف سے دیکھا جائے گا کہ اس کے نیک اور بداعمال کیا ہیں اور اس وقت نیکی اور بدی کا ذرہ بھر وزن بھی ظاہر ہو جائے گا۔ ﴿فَمَنْثَقُلَتْمَوَازِیْنُهٗ ﴾ پس جس کی نیکیوں کا پلڑا برائیوں کے پلڑے سے جھک جائے گا ﴿ فَاُولٰٓىِٕكَهُمُالْمُفْلِحُوْنَ ﴾”تو یہی لوگ کامیاب ہیں۔“ یعنی یہی لوگ جہنم سے نجات حاصل کریں گے اور جنت کے استحقاق سے بہرہ ور ہوں گے اور ثنائے جمیل سے سرفراز ہوں گے
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وفي القيامة مواضعُ يشتدُّ كربُها ويعظُمُ وقْعُها؛ كالميزان الذي يُمَيَّزُ به أعمالُ العبدِ، ويُنْظَرُ فيه بالعدل ما له وما عليه، وتَبين فيه مثاقيلُ الذَّرِّ من الخيرِ والشر. {فَمَنْ ثَقُلَتْ موازينُهُ}: بأن رَجَحَتْ حسناتُه على سيئاته؛ {فأولئك هم المفلحونَ}: لنجاتِهِم من النار، واستحقاقِهِم الجنَّة، وفوزِهم بالثناء الجميل.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔