تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَالَّذِیْنَسَعَوْافِیْۤاٰیٰتِنَامُعٰجِزِیْنَ ﴾”وہ لوگ جو ہماری آیتوں کو پست کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ “ یعنی جو بزعم خود اللہ تعالیٰ کی آیات کو نیچا دکھانے کے لیے بڑھ چڑھ کر کوشش کرتے ہیں یہ امید رکھتے ہوئے کہ اسلام کے خلاف ان کی سازش کامیاب ہو جائے گی۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾”یہی لوگ “ جو آیات الٰہی کو نیچا دکھانے کی کوشش کرنے سے موصوف ہیں۔“﴿ اَصْحٰؔبُالْجَحِیْمِ ﴾”جہنمی ہیں۔“ یعنی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے اور ہر وقت وہیں رہیں گے۔ ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہوگی نہ لمحہ بھر کے لیے یہ دردناک عذاب ان سے ہٹایا جائے گا۔
حاصل معنی یہ ہے کہ جو لوگ قرآن کے خلاف جدوجہد کرتے ہیں اور بزعم خود اہل ایمان کو نیچا دکھانے کے لیے ان کی مخالفت اور ان سے دشمنی کرتے ہیں اور سمجھتے کہ اس طرح وہ اپنا مقصد حاصل کرلیں گے۔ یہ لوگ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں رہیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{والذين كفروا}؛ أي: جَحَدوا نعمةَ ربِّهم، وكذَّبوا رُسُله وآياته]. فأولئك {أصحابُ الجحيم}؛ أي: الملازمون لها، المصاحبون لها في كلِّ أوقاتهم؛ فلا يخفَّف عنهم من عذابِها، ولا يفتَّرُ عنهم لَحْظةٌ من عقابها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔