تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحج (22) — آیت 52

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ قَبۡلِکَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ وَّ لَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤی اَلۡقَی الشَّیۡطٰنُ فِیۡۤ اُمۡنِیَّتِہٖ ۚ فَیَنۡسَخُ اللّٰہُ مَا یُلۡقِی الشَّیۡطٰنُ ثُمَّ یُحۡکِمُ اللّٰہُ اٰیٰتِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ عَلِیۡمٌ حَکِیۡمٌ ﴿ۙ۵۲﴾
اور ہم نے تجھ سے پہلے نہ کوئی رسول بھیجا اور نہ کوئی نبی مگر جب اس نے کوئی تمنا کی شیطان نے اس کی تمنا میں (خلل) ڈالا تو اللہ اس (خلل) کو جو شیطان ڈالتا ہے، مٹادیتا ہے، پھر اللہ اپنی آیات کو پختہ کر دیتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔ En
اور ہم نے تم سے پہلے کوئی رسول اور نبی نہیں بھیجا مگر (اس کا یہ حال تھا کہ) جب وہ کوئی آرزو کرتا تھا تو شیطان اس کی آرزو میں (وسوسہ) ڈال دیتا تھا۔ تو جو (وسوسہ) شیطان ڈالتا ہے خدا اس کو دور کردیتا ہے۔ پھر خدا اپنی آیتوں کو مضبوط کردیتا ہے۔ اور خدا علم والا اور حکمت والا ہے
En
ہم نے آپ سے پہلے جس رسول اور نبی کو بھیجا اس کے ساتھ یہ ہوا کہ جب وه اپنے دل میں کوئی آرزو کرنے لگا شیطان نے اس کی آرزو میں کچھ ملا دیا، پس شیطان کی ملاوٹ کو اللہ تعالیٰ دور کر دیتا ہے پھر اپنی باتیں پکی کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دانا اور باحکمت ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ اور اپنے بندوں کے لیے جو کچھ اختیار کررکھا ہے اس کے بارے میں آگاہ فرماتا ہے، نیز بیان فرماتا ہے کہ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے ﴿مِنْ رَّسُوْلٍ وَّلَا نَبِیٍّ اِلَّاۤ اِذَا تَمَنّٰۤى جو بھی رسول اور نبی گزرا، جب بھی اس نے تمنا کی یعنی قراء ت کی جس کے ذریعے سے وہ لوگوں کو نصیحت کرتا، ان کو معروف کا حکم دیتا اور منکر سے روکتا ﴿ اَلْ٘قَى الشَّ٘یْطٰ٘نُ فِیْۤ اُمْنِیَّتِهٖ تو شیطان اس کی تمنا میں القاء کر دیتا ہے۔ یعنی اس کی قراءت میں ایسے امر سے فریب دینے کی کوشش کرتا جو اس قراء ت کے مناقض (مخالف) ہوتا … حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء و رسل کو تبلیغ رسالت کے ضمن میں معصوم رکھا ہے اور ہر چیز سے اپنی وحی کی حفاظت کی ہے تاکہ اس میں کوئی اشتباہ یا اختلاط واقع نہ ہو۔ مگر اس شیطانی القاء کو استقرار اور دوام نہیں ہوتا۔ یہ ایک عارض ہے جو پیش آتا ہے پھر زائل ہو جاتا ہے اور عوارض کے کچھ احکام ہیں اس لیے فرمایا: ﴿ فَ٘یَنْسَخُ اللّٰهُ مَا یُلْ٘قِی الشَّ٘یْطٰ٘نُ یعنی اللہ تعالیٰ اس القاء کو زائل کرکے باطل کر دیتا ہے اور واضح کر دیتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی آیات نہیں ہیں۔
﴿ ثُمَّ یُحْكِمُ اللّٰهُ اٰیٰتِهٖ یعنی پھر اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو محکم اور متحقق کر دیتا ہے اور ان کی حفاظت کرتا ہے پس اللہ تعالیٰ کی آیات شیطانی القاء کے اختلاط سے محفوظ اور خالص رہتی ہیں۔ ﴿ وَاللّٰهُ عَلِیْمٌ اور اللہ تعالیٰ کامل قوت و اقتدار کا مالک ہے۔ وہ اپنی قوت کاملہ سے اپنی وحی کی حفاظت کرکے شیطانی القاء کو زائل کر دیتا ہے۔ ﴿ حَكِیْمٌ وہ اشیاء کو ان کے لائق شان مقام پر رکھتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى بحكمته البالغة واختيارِهِ لعبادِهِ وأنَّ الله ما أرسل قبل محمدٍ {من رسول ولا نبيٍّ إلاَّ إذا تمنَّى}؛ أي: قرأ قراءته التي يذكِّر بها الناسَ ويأمرُهم وينهاهم، {ألقَى الشَّيطَانُ في أُمْنِيَّتِهِ}؛ أي: في قراءته من طرقه ومكايده ما هو مناقض لتلك القراءة مع أنَّ الله تعالى قد عَصَمَ الرسل بما يبلِّغون عن الله وحَفِظَ وحيَه أن يشتبِهَ أو يختلطَ بغيرِهِ، ولكنْ هذا إلقاءٌ من الشيطان غير مستقرٍّ ولا مستمرٍّ، وإنَّما هو عارضٌ يعرِضُ ثم يزول، وللعوارض أحكامٌ، ولهذا قال: {فينسخُ الله ما يُلْقي الشيطانُ}؛ أي: يزيله، ويذهبهُ، ويبطلُه، ويبيِّنُ أنه ليس من آياته. و {يُحْكِمُ الله آياتِهِ}؛ أي: يتقنها، ويحرِّرها، ويحفظها، فتبقى خالصةً من مخالطة إلقاء الشيطان. {واللَّه [عزيزٌ] }؛ أي: كامل القوة والاقتدار؛ فبكمال قوَّته يحفظ وحيَه، ويزيل ما تلقيه الشياطين. {حكيمٌ}: يضعُ الأشياء مواضعَها.