تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
پھر اللہ تعالیٰ نے اس انذار اور تبشیر کی تفصیل بیان فرمائی ﴿ فَالَّذِیْنَاٰمَنُوْاوَعَمِلُواالصّٰؔلِحٰؔتِلَهُمْمَّغْفِرَةٌ ﴾”اہل ایمان اور عمل صالح کرنے والوں کے لیے مغفرت ہے۔“ یعنی ان سے کسی گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ وَّرِزْقٌكَرِیْمٌ ﴾ اس سے مراد جنت ہے، یعنی رزق کی اقسام میں بہترین قسم، جو تمام فضائل کی جامع اور تمام کمالات سے بڑھ کر ہے۔
آیت کریمہ کا حاصل معنی یہ ہے کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور یہ ایمان ان کے دلوں میں گھر کر گیا اور پھر ایمان صادق بن گیا … اور اس ایمان کے ساتھ انھوں نے نیک کام بھی كيے، ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان گناہوں کی مغفرت ہے جو ان سے واقع ہوگئے تھے اور ان کے لیے جنت میں بہترین رزق ہوگا اور یہ رزق تمام فضائل و کمالات کا جامع ہوگا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ثم ذَكَرَ تفصيل النِّذارة والبِشارة، فقال: {فالذين آمنوا}: بقلوبهم إيماناً صحيحاً صادقاً، {وعملوا الصالحات}: بجوارِحِهم [{في جنَّاتِ النعيم}؛ أي: الجنات التي يُتَنَعَّمُ بها بأنواع النعيم من المآكل والمشارب والمناكح والصُّوَر والأصوات والتنعُّم برؤية الربِّ الكريم وسماع كلامه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔