(آیت 51){ وَالَّذِيْنَسَعَوْافِيْۤاٰيٰتِنَا …: ”مُعٰجِزِيْنَ“ } باب مفاعلہ سے اسم فاعل ہے، مقابلے میں عاجز کر دینے والے، نیچا دکھانے والے۔ یہ نذارت یعنی ڈرانے کی آیت ہے، یعنی جن لوگوں کی کوشش ہے کہ ہماری آیات کا مقابلہ کرتے ہوئے ہمیں نیچا دکھا دیں یا عاجز کر دیں، کبھی انھیں جھوٹا کہتے ہیں، کبھی جادو کہتے ہیں، کبھی کہانت، کبھی شعر اور کبھی پہلے لوگوں کی فرضی کہانیاں، تاکہ لوگوں کو ان پر ایمان لانے سے روکیں، تو یہ لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، حتیٰ کہ ان کا لقب ہی {”اَصْحٰبُالْجَحِيْمِ“} (بھڑکتی ہوئی آگ والے لوگ) ہے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
51۔ 1 مُعٰجِزِیْنَ کا مطلب ہے یہ گمان کرتے ہوئے کہ ہمیں عاجز کردیں گے، تھکا دیں گے اور ہم ان کی گرفت کرنے پر قادر نہیں ہو سکیں گے۔ اس لئے کہ وہ بعث بعد الموت اور حساب کتاب کے منکر تھے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
51۔ اور جو لوگ ہماری آیات [79] کو نیچا دکھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں تو یہی لوگ اہل جہنم ہیں۔
[79] یعنی ہماری آیات کا انکار کر کے اور پھر اسلام کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر کے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ اسی طرح اسلام اور اہل اسلام کو دبا لیں گے تو یہ ان کی بھول ہے البتہ ان کی ان کرتوتوں کے عوض انھیں جہنم کا عذاب ضرور ہو گا۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَالَّذِیْنَسَعَوْافِیْۤاٰیٰتِنَامُعٰجِزِیْنَ ﴾”وہ لوگ جو ہماری آیتوں کو پست کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ “ یعنی جو بزعم خود اللہ تعالیٰ کی آیات کو نیچا دکھانے کے لیے بڑھ چڑھ کر کوشش کرتے ہیں یہ امید رکھتے ہوئے کہ اسلام کے خلاف ان کی سازش کامیاب ہو جائے گی۔ ﴿ اُولٰٓىِٕكَ ﴾”یہی لوگ “ جو آیات الٰہی کو نیچا دکھانے کی کوشش کرنے سے موصوف ہیں۔“﴿ اَصْحٰؔبُالْجَحِیْمِ ﴾”جہنمی ہیں۔“ یعنی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے اور ہر وقت وہیں رہیں گے۔ ان کے عذاب میں کوئی تخفیف ہوگی نہ لمحہ بھر کے لیے یہ دردناک عذاب ان سے ہٹایا جائے گا۔
حاصل معنی یہ ہے کہ جو لوگ قرآن کے خلاف جدوجہد کرتے ہیں اور بزعم خود اہل ایمان کو نیچا دکھانے کے لیے ان کی مخالفت اور ان سے دشمنی کرتے ہیں اور سمجھتے کہ اس طرح وہ اپنا مقصد حاصل کرلیں گے۔ یہ لوگ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں رہیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{والذين كفروا}؛ أي: جَحَدوا نعمةَ ربِّهم، وكذَّبوا رُسُله وآياته]. فأولئك {أصحابُ الجحيم}؛ أي: الملازمون لها، المصاحبون لها في كلِّ أوقاتهم؛ فلا يخفَّف عنهم من عذابِها، ولا يفتَّرُ عنهم لَحْظةٌ من عقابها.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔