ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحج (22) — آیت 50

فَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَہُمۡ مَّغۡفِرَۃٌ وَّ رِزۡقٌ کَرِیۡمٌ ﴿۵۰﴾
تو وہ لوگ جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے ان کے لیے عظیم بخشش اور باعزت رزق ہے۔ En
تو جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے ان کے لئے بخشش اور آبرو کی روزی ہے
En
پس جو ایمان ﻻئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان ہی کے لئے بخشش ہے اور عزت والی روزی En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 50) ➊ {فَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ:} یہ بشارت کی آیت ہے۔ { مَغْفِرَةٌ } میں تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ عظیم بخشش کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ایمان میں دل سے تصدیق، زبان سے اقرار اور اعضاء سے عمل تینوں چیزیں شامل ہیں، مگر اعمال صالحہ کا الگ ذکر خاص طور پر تاکید کے لیے فرمایا، کیونکہ اس میں عموماً کوتاہی ہوتی ہے۔
➋ {لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ رِزْقٌ كَرِيْمٌ:} اس سلسلۂ کلام کا آغاز قتال کے اذن سے ہوا ہے، اس وقت مسلمان کفار کے ظلم و ستم کی وجہ سے گھروں سے بے گھر تھے اور مالی طور پر بھی نہایت تنگی کی حالت میں تھے، اس لیے انھیں بشارت دینے کا حکم ہوا کہ ایمان اور عمل صالح کے حامل مجاہد افراد کے لیے عظیم بخشش بھی ہے اور باعزت رزق بھی۔ باعزت رزق سے مراد دنیا میں مال غنیمت اور آخرت میں جنت ہے کہ دونوں میں اللہ کے سوا کسی کے احسان کا بار نہیں ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

50۔ سو جو لوگ ایمان لے آئے اور انہوں نے نیک عمل کئے ان کے لئے تو بخشش بھی ہے اور عزت کی روزی [78] بھی۔
[78] رزق کریم یعنی عزت کی روزی کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ اہل جنت کو جو کچھ بھی کھانے پینے کو ملے گا اعلیٰ قسم کا ہو گا خواہ پھل ہوں، مشروبات ہوں یا دوسری اشیاء جن پر لفظ رزق کا اطلاق ہوتا ہے اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ جو کچھ انھیں کھانے پینے کو دیا جائے گا وہ اعلیٰ قسم کے برتنوں میں اور عزت سے تختوں پر بٹھا کر پیش کیا جائے گا۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اطاعت الٰہی سے روکنے والوں کا حشر ٭٭
چونکہ کفار عذاب مانگا کرتے تھے اور ان کی جلدی مچاتے رہتے تھے ان کے جواب میں اعلان کرایا جا رہا ہے کہ ’ لوگو! میں تو اللہ کا بھیجا ہوا آیا ہوں کہ تمہیں رب کے عذابوں سے جو تمہارے آگے ہیں چوکنا کر دوں، تمہارا حساب میرے ذمے نہیں۔ عذاب اللہ کے بس میں ہے چاہے اب لائے چاہے دیر سے لائے۔ مجھے کیا معلوم کہ تم میں کس کی قسمت میں ہدایت ہے اور کون اللہ کی رحمت سے محروم رہنے والا ہے چاہت اللہ کی ہی پوری ہونی ہے حکومت اسی کے ہاتھ ہے مختار اور کرتا دھرتا وہی ہے «لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهِ وَهُوَ سَرِيعُ الْحِسَابِ» ۱؎ [13-الرعد:41]‏‏‏‏ ’ کسی کو اس کے سامنے چوں چرا کی مجال نہیں وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے ‘۔ میری حیثیت تو صرف ایک آگاہ کرنے والے کی ہے ‘۔
جن کے دلوں میں یقین و ایمان ہے اور اس کی شہادت ان کے اعمال سے بھی ثابت ہے۔ ان کے کل گناہ معافی کے لائق ہیں اور ان کی کل نیکیاں قدردانی کے قابل ہیں۔ رزق کریم سے مراد جنت ہے۔ جو لوگ اوروں کو بھی اللہ کی راہ سے اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روکتے ہیں وہ جہنمی ہیں، سخت عذابوں اور تیز آگ کے ایندھن ہیں، اللہ ہمیں بچائے۔
اور آیت میں ہے کہ «الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ زِدْنَاهُمْ عَذَابًا فَوْقَ الْعَذَابِ بِمَا كَانُوا يُفْسِدُونَ» ۱؎ [16-النحل:88]‏‏‏‏ ’ ایسے کفار کو ان کے فساد کے بدلے عذاب پر عذاب ہیں ‘۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اللہ تعالیٰ نے اس انذار اور تبشیر کی تفصیل بیان فرمائی ﴿ فَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰؔلِحٰؔتِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ اہل ایمان اور عمل صالح کرنے والوں کے لیے مغفرت ہے۔ یعنی ان سے کسی گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دیتا ہے۔ ﴿ وَّرِزْقٌ كَرِیْمٌ اس سے مراد جنت ہے، یعنی رزق کی اقسام میں بہترین قسم، جو تمام فضائل کی جامع اور تمام کمالات سے بڑھ کر ہے۔
آیت کریمہ کا حاصل معنی یہ ہے کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور یہ ایمان ان کے دلوں میں گھر کر گیا اور پھر ایمان صادق بن گیا … اور اس ایمان کے ساتھ انھوں نے نیک کام بھی كيے، ان کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان گناہوں کی مغفرت ہے جو ان سے واقع ہوگئے تھے اور ان کے لیے جنت میں بہترین رزق ہوگا اور یہ رزق تمام فضائل و کمالات کا جامع ہوگا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم ذَكَرَ تفصيل النِّذارة والبِشارة، فقال: {فالذين آمنوا}: بقلوبهم إيماناً صحيحاً صادقاً، {وعملوا الصالحات}: بجوارِحِهم [{في جنَّاتِ النعيم}؛ أي: الجنات التي يُتَنَعَّمُ بها بأنواع النعيم من المآكل والمشارب والمناكح والصُّوَر والأصوات والتنعُّم برؤية الربِّ الكريم وسماع كلامه.