تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحج (22) — آیت 49

قُلۡ یٰۤاَیُّہَا النَّاسُ اِنَّمَاۤ اَنَا لَکُمۡ نَذِیۡرٌ مُّبِیۡنٌ ﴿ۚ۴۹﴾
کہہ دے اے لوگو! میں تو بس تمھارے لیے کھلم کھلا ڈرانے والا ہوں۔ En
(اے پیغمبر) کہہ دو کہ لوگو! میں تم کو کھلم کھلا نصیحت کرنے والا ہوں
En
اعلان کر دو کہ لوگو! میں تمہیں کھلم کھلا چوکنا کرنے واﻻ ہی ہوں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ اپنے بندے اور رسول محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کوحکم دیتا ہے کہ وہ تمام لوگوں سے مخاطب ہوکر کہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق ہیں، اہل ایمان کو ثواب کی خوشخبری سنانے والے اور کافروں اور ظالموں کو اس کے عذاب سے ڈرانے والے ہیں۔ ﴿ مُّبِیْنٌ یعنی واضح طور پر ڈرانے والے ہیں۔ انذار سے مراد ایسا ڈرانا ہے جس میں اس امر سے بھی خبردار کیا گیا ہو جس سے ڈرانا مقصود ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جس امر سے ان کو ڈرایا، اس کی صداقت پر روشن اور واضح دلائل قائم كيے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يأمر تعالى عبده ورسوله محمداً - صلى الله عليه وسلم - أن يخاطِبَ الناس جميعاً بأنَّه رسولُ اللَّه حقًّا؛ مبشراً للمؤمنين بثواب اللَّه، منذراً للكافرين والظالمين من عقابِهِ. وقولُهُ: {مبينٌ} أي؛ بيِّنُ الإنذار، وهو التخويف مع الإعلام بالمَخُوف، وذلك لأنَّه أقام البراهين الساطعة على صدق ما أنذرهم به.