تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحج (22) — آیت 47

وَ یَسۡتَعۡجِلُوۡنَکَ بِالۡعَذَابِ وَ لَنۡ یُّخۡلِفَ اللّٰہُ وَعۡدَہٗ ؕ وَ اِنَّ یَوۡمًا عِنۡدَ رَبِّکَ کَاَلۡفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴿۴۷﴾
اور وہ تجھ سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اللہ ہرگز اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرے گا اور بے شک ایک دن تیرے رب کے ہاں ہزار سال کے برابر ہے، اس گنتی سے جو تم شمار کرتے ہو۔ En
اور (یہ لوگ) تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں اور خدا اپنا وعدہ ہرگز خلاف نہیں کرے گا۔ اور بےشک تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک روز تمہارے حساب کے رو سے ہزار برس کے برابر ہے
En
اللہ ہرگز اپنا وعده نہیں ٹالے گا۔ ہاں البتہ آپ کے رب کے نزدیک ایک دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

عذاب کی تکذیب کرنے والے، اپنی جہالت، ظلم، عناد، اللہ تعالیٰ کو عاجز سمجھتے اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جلدی عذاب نازل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ عذاب کا جو وعدہ کیا ہے وہ ضرور واقع ہو کر رہے گا کوئی روکنے والا اس کو روک نہیں سکتا۔ رہا اس عذاب کا جلدی آنا تو اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کے اختیار میں نہیں ان کے جلدی مچانے اور ہمیں عاجز گرداننے پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہلکا نہ سمجھیں، قیامت کا دن ان کے سامنے ہے، جس میں اللہ تعالیٰ تمام اولین و آخرین کو اکٹھا کرے گا، ان کو ان کے اعمال کی جزا دی جائے گی اور ان کو دردناک عذاب میں ڈالا جائے گا، اس لیے فرمایا: ﴿ وَاِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ یعنی قیامت کا دن اپنی طوالت، اپنی شدت اور اپنی ہولناکی کی وجہ سے ہزار برس کا لگے گا … لہذا خواہ ان پر دنیا کا عذاب نازل ہو جائے یا آخرت تک عذاب کو موخر کر دیا جائے یہ دن تو بہرطور ان پر آکر رہے گا۔
اور یہ احتمال بھی ہے کہ مراد یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نہایت حلم والا ہے، پس اگر وہ عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں تو (انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک دن تمھارے شمار کے ہزاربرس کے برابر ہے۔ پس یہ مدت خواہ تم اس کو کتنا ہی لمبا کیوں نہ سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کو کتنا ہی دور کیوں نہ سمجھو، اللہ تعالیٰ بہت طویل مدتوں تک مہلت عطا کرتا رہتا ہے مگر حساب لیے بغیر، بے فائدہ نہیں چھوڑتا حتیٰ کہ جب وہ ظالموں کو اپنے عذاب کی گرفت میں لے لیتا ہے تو پھر ان کو چھوڑتا نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: يتعجَّلُك هؤلاء المكذِّبون بالعذاب لجهلهم وظلمهم وعنادهم وتعجيزاً لله وتكذيباً لرسله، ولن يُخْلِفَ الله وعده؛ فما وَعَدَهُم به من العذاب لا بدَّ من وقوعه، ولا يمنعُهم منه مانعٌ، وأمَّا عَجَلَتُهُ والمبادرةُ فيه؛ فليس ذلك إليك يا محمدُ، ولا يستفزنَّك عجلتُهم وتعجيزُهم إيَّانا؛ فإنَّ أمامهم يوم القيامة الذي يُجمع فيه أولهم وآخرهم، ويجازَوْن بأعمالهم، ويقع بهم العذابُ الدائم الأليم، ولهذا قال: {وإنَّ يوماً عند ربِّكَ كألفِ سنةٍ مما تَعُدُّونَ}: من طوله وشدَّته وهولِهِ؛ فسواء أصابهم عذابٌ في الدنيا أم تأخَّر عنهم العذاب؛ فإنَّ هذا اليوم لا بدَّ أن يدرِكهم.

ويُحتمل أنَّ المراد أنَّ الله حليمٌ، ولو استعجلوا العذاب؛ فإنَّ يوماً عنده كألف سنة مما تعدُّون؛ فالمدَّة وإنْ تطاوَلْتُموها، واستبطأتم فيها نزول العذاب؛ فإنَّ الله يمهل المدد الطويلةَ، ولا يُهمل، حتى إذا أخذ الظالمين بعذابه؛ لم يُفْلِتْهم.