تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحج (22) — آیت 46

اَفَلَمۡ یَسِیۡرُوۡا فِی الۡاَرۡضِ فَتَکُوۡنَ لَہُمۡ قُلُوۡبٌ یَّعۡقِلُوۡنَ بِہَاۤ اَوۡ اٰذَانٌ یَّسۡمَعُوۡنَ بِہَا ۚ فَاِنَّہَا لَا تَعۡمَی الۡاَبۡصَارُ وَ لٰکِنۡ تَعۡمَی الۡقُلُوۡبُ الَّتِیۡ فِی الصُّدُوۡرِ ﴿۴۶﴾
پھر کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھر ے نہیں کہ ان کے لیے ایسے دل ہوں جن کے ساتھ وہ سمجھیں، یا کان ہوں جن کے ساتھ وہ سنیں۔ پس بے شک قصہ یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں اور لیکن وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ En
کیا ان لوگوں نے ملک میں سیر نہیں کی تاکہ ان کے دل (ایسے) ہوتے کہ ان سے سمجھ سکتے۔ اور کان (ایسے) ہوتے کہ ان سے سن سکتے۔ بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں (وہ) اندھے ہوتے ہیں
En
کیا انہوں نے زمین میں سیر وسیاحت نہیں کی جو ان کے دل ان باتوں کے سمجھنے والے ہوتے یا کانوں سے ہی ان (واقعات) کو سن لیتے، بات یہ ہے کہ صرف آنکھیں ہی اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وه دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بنابریں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو زمین میں چلنے پھرنے کی دعوت دی ہے تاکہ وہ غور و فکر کریں اور عبرت پکڑیں، چنانچہ فرمایا: ﴿ اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ کیا وہ اپنے قلب و بدن کے ساتھ زمین میں چلے پھرے نہیں۔ ﴿ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُ٘لُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ یعنی اللہ تعالیٰ کی آیات کو سمجھتے اور عبرت کے لیے ان میں غور و فکر کرتے۔ ﴿ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا یعنی گزرے ہوئے لوگوں کے واقعات اور جن قوموں پر عذاب نازل کیا گیا ان کی خبریں سنتے… وگرنہ محض آنکھوں اور کانوں سے سننا اور تفکر اور عبرت سے خالی ہوکر زمین میں چلنا پھرنا کوئی فائدہ نہیں دیتا اور نہ اس سے مطلوب کا حصول ممکن ہے، اسی لیے فرمایا: ﴿ فَاِنَّهَا لَا تَ٘عْمَى الْاَبْصَارُ وَلٰكِنْ تَ٘عْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِیْ فِی الصُّدُوْرِ یعنی یہ اندھا پن جو دین کے لیے ضرر رساں ہے، درحقیقت حق کے بارے میں قلب کا اندھاپن ہے حتیٰ کہ جیسے بصارت کا اندھا مرئیات کا مشاہدہ نہیں کر سکتا اسی طرح بصیرت کا اندھا حق کا مشاہدہ کرنے سے عاری ہے لیکن بصارت کا اندھا تو صرف دنیاوی منفعت تک پہنچنے سے محروم ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولهذا دعا الله عبادَه إلى السير في الأرض لينظُروا ويعتبِروا، فقال: {أفلم يَسيروا في الأرض}: بأبدانهم وقلوبهم؛ {فتكون لهم قلوبٌ يعقِلونَ بها}: آياتِ الله ويتأمَّلون بها مواقعَ عِبَرِهِ، {أو آذانٌ يسمعونَ بها}: أخبارَ الأمم الماضين وأنباء القرون المعذَّبين، وإلاَّ فمجرَّد نظر العين وسماع الأذُن وسير البدن الخالي من التفكُّر والاعتبار غير مفيدٍ ولا موصل إلى المطلوب، ولهذا قال: {فإنَّها لا تَعْمى الأبصارُ ولكن تَعْمى القلوبُ التي في الصُّدور}؛ أي: هذا العمى الضارُّ في الدين عمى القلب عن الحقِّ حتى لا يشاهدَه كما لا يشاهِدُ الأعمى المرئيَّات، وأما عمى البصر؛ فغايتُه بلغةٌ ومنفعةٌ دنيويَّةٌ.