تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحج (22) — آیت 48

وَ کَاَیِّنۡ مِّنۡ قَرۡیَۃٍ اَمۡلَیۡتُ لَہَا وَ ہِیَ ظَالِمَۃٌ ثُمَّ اَخَذۡتُہَا ۚ وَ اِلَیَّ الۡمَصِیۡرُ ﴿٪۴۸﴾
اور کتنی ہی بستیاں ہیں جنھیں میں نے مہلت دی، اس حال میں کہ وہ ظالم تھیں، پھر میں نے انھیں پکڑ لیا اور میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے۔ En
اور بہت سی بستیاں ہیں کہ میں ان کو مہلت دیتا رہا اور وہ نافرمان تھیں۔ پھر میں نے ان کو پکڑ لیا۔ اور میری طرف ہی لوٹ کر آنا ہے
En
بہت سی ﻇلم کرنے والی بستیوں کو میں نے ڈھیل دی پھر آخر انہیں پکڑ لیا، اور میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَكَاَیِّنْ مِّنْ قَ٘رْیَةٍ اَمْلَیْتُ لَهَا یعنی میں نے ایک طویل مدت تک ان کو مہلت دی ﴿ وَهِیَ ظَالِمَةٌ یعنی ان کے ظلم کے باوجود اور ان کا ظلم میں سبقت کرنا ہمارے عذاب میں جلدی کا موجب نہ بنا ﴿ ثُمَّ اَخَذْتُهَا پھر میں نے ان کو عذاب کی گرفت میں لے لیا۔ ﴿ وَاِلَیَّ الْمَصِیْرُ دنیا میں ان پر عذاب نازل کرنے کے باوجود، انھیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے پھر وہ انھیں ان کے گناہوں کی پاداش میں عذاب دے گا۔ یہ ظالم اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے فریب نہ کھائیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کے نازل ہونے سے بچیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وكأيِّنْ من قريةٍ أمليتُ لها}؛ أي: أمهلتها مدة طويلة، {وهي ظالمةٌ}؛ أي: مع ظلمهم، فلم يكنْ مبادرتُهم بالظُّلم موجباً لمبادرتِنا بالعقوبة، {ثم أخذتُها} بالعذابِ {وإليَّ المصيرُ}؛ أي: مع عذابها في الدنيا سترجِعُ إلى الله فيعذِّبُها بذنوبها؛ فليحذر هؤلاء الظالمون من حلول عقاب اللَّه، ولا يغترُّوا بالإمهال.