تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَكَاَیِّنْمِّنْقَ٘رْیَةٍاَمْلَیْتُلَهَا ﴾ یعنی میں نے ایک طویل مدت تک ان کو مہلت دی ﴿ وَهِیَظَالِمَةٌ ﴾ یعنی ان کے ظلم کے باوجود اور ان کا ظلم میں سبقت کرنا ہمارے عذاب میں جلدی کا موجب نہ بنا ﴿ ثُمَّاَخَذْتُهَا﴾ پھر میں نے ان کو عذاب کی گرفت میں لے لیا۔ ﴿ وَاِلَیَّالْمَصِیْرُ ﴾ دنیا میں ان پر عذاب نازل کرنے کے باوجود، انھیں اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے پھر وہ انھیں ان کے گناہوں کی پاداش میں عذاب دے گا۔ یہ ظالم اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی مہلت سے فریب نہ کھائیں اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کے نازل ہونے سے بچیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{وكأيِّنْ من قريةٍ أمليتُ لها}؛ أي: أمهلتها مدة طويلة، {وهي ظالمةٌ}؛ أي: مع ظلمهم، فلم يكنْ مبادرتُهم بالظُّلم موجباً لمبادرتِنا بالعقوبة، {ثم أخذتُها} بالعذابِ {وإليَّ المصيرُ}؛ أي: مع عذابها في الدنيا سترجِعُ إلى الله فيعذِّبُها بذنوبها؛ فليحذر هؤلاء الظالمون من حلول عقاب اللَّه، ولا يغترُّوا بالإمهال.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔