تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { وَ لَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ:} مشرکین جس یقین کے ساتھ عذاب نازل ہونے کو جھٹلاتے تھے اسی تاکید کے ساتھ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف ہر گز نہیں کرے گا، جو اس نے فرمایا ہے ہو کر رہے گا، مگر اس وقت پر جو اس نے مقرر فرمایا ہے۔
➌ { وَ اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ …:} یعنی رب تعالیٰ تمھاری طرح تنگ ظرف اور جلد باز نہیں بلکہ بے حد حلیم اور وسعت والا ہے۔ اس کی دی ہوئی تھوڑی سی مہلت بھی بہت زیادہ ہوتی ہے، تمھارا ایک ہزار سال اس کے نزدیک صرف ایک دن ہے، وہ اتنا حلیم ہے کہ آدھے دن کی مہلت دے تو وہ بھی پانچ سو برس ہو گی اور ایک گھنٹہ کی مہلت دے تو چالیس برس سے زیادہ ہو گی۔ اس کے حلم کی وجہ یہ ہے کہ وہ انتقام پر قادر ہے، کوئی چیز اس کی گرفت سے نکل نہیں سکتی، خواہ وہ کتنی مہلت دے یا رسی دراز کرے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
چنانچہ وہ اللہ سے بھی کہتے تھے کہ «وَإِذْ قَالُوا اللَّـهُمَّ إِن كَانَ هَـٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ» ۱؎ [8-الأنفال:32] ’ الٰہی اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے سنگ باری کر یا اور کسی طرح کا درد ناک عذاب بھیج ‘۔
کہتے تھے کہ «وَقَالُوا رَبّنَا عَجِّلْ لَنَا قِطّنَا قَبْل يَوْم الْحِسَاب» ۱؎ [38-ص:16] ’ حساب کے دن سے پہلے ہی ہمارا معاملہ صاف کر دے ‘۔
اللہ فرماتا ہے «وَلَنْ يُخْلِف اللَّه وَعْده» ۱؎ [22-الحج:47] ’ یاد رکھو اللہ کا وعدہ اٹل ہے قیامت اور عذاب آ کر ہی رہیں گے ‘۔ اولیاء اللہ کی عزت اور اعداء اللہ کی ذلت یقینی اور ہو کر رہنے والی ہے۔
اصمعی کہتے ہیں میں ابوعمرو بن علا کے پاس تھا کہ عمرو بن عبید آیا اور کہنے لگا کہ اے ابوعمرو! کیا اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کا خلاف کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا ”نہیں“، اس نے اسی وقت عذاب کی ایک آیت تلاوت کی اس پر آپ نے فرمایا کیا تو عجمی ہے؟ سن عرب میں «الْوَعْد» کا یعنی اچھی بات سے وعدہ خلافی کو برا فعل سمجھا جاتا ہے لیکن «الْإِيعَاد» کا یعنی سزا کے احکام کا ردو بدل یا معافی بری نہیں سمجھی جاتی بلکہ وہ کرم ورحم سمجھا جاتا ہے دیکھو شاعر کہتا ہے۔ «فَإِنِّي وَإِنْ أَوْعَدْته أَوْ وَعَدْته» «لَمُخْلِف إِيعَادِي وَمُنْجِز مَوْعِدِي» میں کسی کو سزا کہوں یا اس سے انعام کا وعدہ کروں۔ تو یہ تو ہوسکتا ہے کہ میں اپنی دھمکی کے خلاف کر جاؤں بلکہ قطعا ہرگز سزا نہ دوں لیکن اپنا وعدہ تو ضرور پورا کر کے ہی رہوں گا۔ الغرض سزا کا وعدہ کر کے سزا نہ کرنا یہ وعدہ خلافی نہیں۔ لیکن رحمت انعام کا وعدہ کر کے پھر روک لینا یہ بری صفت ہے جس سے اللہ کی ذات پاک ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ ایک ایک دن اللہ کے نزدیک تمہارے ہزار ہزار دنوں کے برابر ہے یہ بہ اعتبار اس کے حلم اور بردباری کے ہے کیونکہ اسے علم ہے کہ وہ ہر وقت ان کی گرفت پر قادر ہے اس لیے عجلت کیا ہے؟ ‘ گو کتنی ہی سے مہلت مل جائے، گو کتنی ہی سے رسی دراز ہو جائے لیکن جب چاہے گا سانس لینے کی بھی مہلت نہ دے گا اور پکڑ لے گا۔
اسی لیے اس کے بعد ہی فرمان ہوتا ہے ’ بہت سی بستیوں کے لوگ ظلم پر کمر کسے ہوئے تھے، میں نے بھی چشم پوشی کر رکھی تھی۔ جب مست ہو گئے تو اچانک گرفت کر لی، سب مجبور ہیں سب کو میرے ہی سامنے حاضر ہونا ہے، سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے ‘۔
ترمذی وغیرہ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں فقراء مسلمان مالدار مسلمانوں سے آدھا دن پہلے جنت میں جائیں گے یعنی پانچ سو برس پہلے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2353،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]
ابوداؤد کی کتاب الملاحم کے آخر میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ وہ میری امت کو آدھے دن تک تو ضرور مؤخر رکھے گا }۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا آدھا دن کتنے عرصے کا ہوگا؟ آپ نے فرمایا پانچ سو سال کا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4350،قال الشيخ الألباني:صحیح]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت «وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَن يُخْلِفَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ» کو پڑھ کر فرمانے لگے یہ ان دنوں میں سے جن میں اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ [ابن جریر]
امام محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ ایک نو مسلم اہل کتاب سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین چھ دن میں پیدا کیا اور ایک دن تیرے رب کے نزدیک مثل ایک ہزار سال کے ہے جو گنتے ہو۔ اللہ نے دنیا کی اجل چھ دن کی کی ہے ساتویں دن قیامت ہے اور ایک ایک دن مثل ہزار ہزار سال کے ہے پس چھ دن تو گزر گئے اور اب تم ساتویں دن میں ہو اب تو بالکل اس حاملہ کی طرح ہے جو پورے دنوں میں ہو اور نہ جانے کب بچہ ہو جائے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: يتعجَّلُك هؤلاء المكذِّبون بالعذاب لجهلهم وظلمهم وعنادهم وتعجيزاً لله وتكذيباً لرسله، ولن يُخْلِفَ الله وعده؛ فما وَعَدَهُم به من العذاب لا بدَّ من وقوعه، ولا يمنعُهم منه مانعٌ، وأمَّا عَجَلَتُهُ والمبادرةُ فيه؛ فليس ذلك إليك يا محمدُ، ولا يستفزنَّك عجلتُهم وتعجيزُهم إيَّانا؛ فإنَّ أمامهم يوم القيامة الذي يُجمع فيه أولهم وآخرهم، ويجازَوْن بأعمالهم، ويقع بهم العذابُ الدائم الأليم، ولهذا قال: {وإنَّ يوماً عند ربِّكَ كألفِ سنةٍ مما تَعُدُّونَ}: من طوله وشدَّته وهولِهِ؛ فسواء أصابهم عذابٌ في الدنيا أم تأخَّر عنهم العذاب؛ فإنَّ هذا اليوم لا بدَّ أن يدرِكهم.
ويُحتمل أنَّ المراد أنَّ الله حليمٌ، ولو استعجلوا العذاب؛ فإنَّ يوماً عنده كألف سنة مما تعدُّون؛ فالمدَّة وإنْ تطاوَلْتُموها، واستبطأتم فيها نزول العذاب؛ فإنَّ الله يمهل المدد الطويلةَ، ولا يُهمل، حتى إذا أخذ الظالمين بعذابه؛ لم يُفْلِتْهم.