ترجمہ و تفسیر — سورۃ الحج (22) — آیت 47

وَ یَسۡتَعۡجِلُوۡنَکَ بِالۡعَذَابِ وَ لَنۡ یُّخۡلِفَ اللّٰہُ وَعۡدَہٗ ؕ وَ اِنَّ یَوۡمًا عِنۡدَ رَبِّکَ کَاَلۡفِ سَنَۃٍ مِّمَّا تَعُدُّوۡنَ ﴿۴۷﴾
اور وہ تجھ سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اللہ ہرگز اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرے گا اور بے شک ایک دن تیرے رب کے ہاں ہزار سال کے برابر ہے، اس گنتی سے جو تم شمار کرتے ہو۔ En
اور (یہ لوگ) تم سے عذاب کے لئے جلدی کر رہے ہیں اور خدا اپنا وعدہ ہرگز خلاف نہیں کرے گا۔ اور بےشک تمہارے پروردگار کے نزدیک ایک روز تمہارے حساب کے رو سے ہزار برس کے برابر ہے
En
اللہ ہرگز اپنا وعده نہیں ٹالے گا۔ ہاں البتہ آپ کے رب کے نزدیک ایک دن تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کا ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 47) ➊ {وَ يَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ:} مشرکین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جلد از جلد عذاب لانے کا مطالبہ کرتے رہتے تھے۔ اس مطالبے سے ان کا مقصد عذاب آنے کا انکار اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانا، آپ کا مذاق اڑانا اور آپ کو لاجواب کرنا تھا۔ قرآن مجید نے ان کے اس مطالبے کا کئی جگہ ذکر فرمایا ہے، چنانچہ فرمایا: «‏‏‏‏وَ يَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ» [الأنبیاء: ۳۸] اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا، اگر تم سچے ہو۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ يَسْتَعْجِلُوْنَكَ بِالْعَذَابِ وَ لَوْ لَاۤ اَجَلٌ مُّسَمًّى لَّجَآءَهُمُ الْعَذَابُ» [العنکبوت: ۵۳] اور وہ تجھ سے جلدی عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر ایک مقرر وقت نہ ہوتا تو ان پر عذاب ضرور آ جاتا۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ سے براہ ِراست عذاب کی دعا سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے: «‏‏‏‏وَ قَالُوْا رَبَّنَا عَجِّلْ لَّنَا قِطَّنَا قَبْلَ يَوْمِ الْحِسَابِ» [صٓ: ۱۶] اور انھوں نے کہا اے ہمارے رب!ہمیں ہمارا حصہ یوم حساب سے پہلے جلد ی دے دے۔ اور فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِذْ قَالُوا اللّٰهُمَّ اِنْ كَانَ هٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِنْدِكَ فَاَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَآءِ اَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ اَلِيْمٍ» ‏‏‏‏ [الأنفال: ۳۲] اور جب انھوں نے کہا اے اللہ! اگر صرف یہی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا، یا ہم پر کوئی دردناک عذاب لے آ۔
➋ { وَ لَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ وَعْدَهٗ:} مشرکین جس یقین کے ساتھ عذاب نازل ہونے کو جھٹلاتے تھے اسی تاکید کے ساتھ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف ہر گز نہیں کرے گا، جو اس نے فرمایا ہے ہو کر رہے گا، مگر اس وقت پر جو اس نے مقرر فرمایا ہے۔
➌ { وَ اِنَّ يَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ …:} یعنی رب تعالیٰ تمھاری طرح تنگ ظرف اور جلد باز نہیں بلکہ بے حد حلیم اور وسعت والا ہے۔ اس کی دی ہوئی تھوڑی سی مہلت بھی بہت زیادہ ہوتی ہے، تمھارا ایک ہزار سال اس کے نزدیک صرف ایک دن ہے، وہ اتنا حلیم ہے کہ آدھے دن کی مہلت دے تو وہ بھی پانچ سو برس ہو گی اور ایک گھنٹہ کی مہلت دے تو چالیس برس سے زیادہ ہو گی۔ اس کے حلم کی وجہ یہ ہے کہ وہ انتقام پر قادر ہے، کوئی چیز اس کی گرفت سے نکل نہیں سکتی، خواہ وہ کتنی مہلت دے یا رسی دراز کرے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

47۔ 1 اس لئے یہ لوگ تو اپنے حساب سے جلدی کرتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے حساب میں ایک دن بھی ہزار سال کا ہے اس اعتبار سے وہ اگر کسی کو ایک دن (24 گھنٹے) کی مہلت دے تو ہزار سال، نصف یوم کی مہلت تو پانچ سو سال، 6 گھنٹے (جو 24 گھنٹے کا چوتھائی ہے) مہلت دے تو ڈھائی سو سال کا عرصہ عذاب کے لئے درکار ہے، اس طرح اللہ کی طرف سے کسی کو ایک گھنٹے کی مہلت مل جانے کا مطلب کم و بیش چالیس سال کی مہلت ہے (ایسر التفاسیر) ایک دوسرے معنی یہ ہیں کہ اللہ کی قدرت میں ایک دن اور ہزار سال برابر ہیں اس لیے تقدیم و تاخیر سے کوئی فرق نہیں پڑتا یہ جلدی مانگتے ہیں وہ دیر کرتا ہے تاہم یہ بات تو یقینی ہے کہ وہ اپنا وعدہ ضرور پورا کرکے رہے گا اور بعض نے اسے آخرت پر محمول کیا ہے کہ شدت ہولناکی کی وجہ سے قیامت کا ایک دن ہزار سال بلکہ بعض کو پچاس ہزار سال کا لگے گا اور بعض نے کہا کہ آخرت کا دن واقعی ہزار سال کا ہوگا۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

47۔ یہ لوگ عذاب کے جلد آنے کا مطالبہ کرتے ہیں حالانکہ اللہ کبھی اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا مگر تمہارے پروردگار کا ایک دن تمہارے شمار کے حساب سے ہزار سال [75] کا ہوتا ہے۔
[75] قوموں کی طبعی عمر؟
اس آیت کا یہ مطلب نہیں کہ ہر ابھرنے والی قوم یا تہذیب کی طبعی عمر ہزار سال ہوتی ہے یا ہونی چاہئے۔ بلکہ یہ الفاظ انسان کے عذاب کو جلد طلب کرنے اور اس کے قانون تدریج و امہال کے مطابق تاخیر میں تقابل کے طور پر ذکر کئے گئے ہیں۔ یہ عین ممکن ہے کہ کسی قوم کے ظلم و جور میں اس قدر زیادتی واقع ہو جائے تو تین چار صدیاں گزرنے پر بھی اسے تباہ کر دیا جائے۔ اور یہ بھی عین ممکن ہے۔ کہ کوئی قوم یا تہذیب ہزار سال سے بھی زیادہ عرصہ زندہ رہے۔ یہ سب باتیں کسی قوم کے گناہوں کی رفتار پر منحصر ہوتی ہیں۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ذرا صبر ، عذاب کا شوق پورا ہو گا ٭٭
اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلوات اللہ وسلامہ علیہ سے فرما رہا ہے کہ ’ یہ ملحد کفار اللہ کو اس کے رسول کو اور قیامت کے دن کو جھٹلانے والے تجھ سے عذاب طلب کرنے میں جلدی کر رہے ہیں کہ جلد ان عذابوں کو کیوں نہیں برپا کر دیا جاتا جن سے ہمیں ہر وقت ڈرایا دھمکایا جا رہا ہے ‘۔
چنانچہ وہ اللہ سے بھی کہتے تھے کہ «وَإِذْ قَالُوا اللَّـهُمَّ إِن كَانَ هَـٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ» ۱؎ [8-الأنفال:32]‏‏‏‏ ’ الٰہی اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے سنگ باری کر یا اور کسی طرح کا درد ناک عذاب بھیج ‘۔
کہتے تھے کہ «وَقَالُوا رَبّنَا عَجِّلْ لَنَا قِطّنَا قَبْل يَوْم الْحِسَاب» ۱؎ [38-ص:16]‏‏‏‏ ’ حساب کے دن سے پہلے ہی ہمارا معاملہ صاف کر دے ‘۔
اللہ فرماتا ہے «وَلَنْ يُخْلِف اللَّه وَعْده» ۱؎ [22-الحج:47]‏‏‏‏ ’ یاد رکھو اللہ کا وعدہ اٹل ہے قیامت اور عذاب آ کر ہی رہیں گے ‘۔ اولیاء اللہ کی عزت اور اعداء اللہ کی ذلت یقینی اور ہو کر رہنے والی ہے۔
اصمعی کہتے ہیں میں ابوعمرو بن علا کے پاس تھا کہ عمرو بن عبید آیا اور کہنے لگا کہ اے ابوعمرو! کیا اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کا خلاف کرتا ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں، اس نے اسی وقت عذاب کی ایک آیت تلاوت کی اس پر آپ نے فرمایا کیا تو عجمی ہے؟ سن عرب میں «الْوَعْد» کا یعنی اچھی بات سے وعدہ خلافی کو برا فعل سمجھا جاتا ہے لیکن «الْإِيعَاد» کا یعنی سزا کے احکام کا ردو بدل یا معافی بری نہیں سمجھی جاتی بلکہ وہ کرم ورحم سمجھا جاتا ہے دیکھو شاعر کہتا ہے۔ «فَإِنِّي وَإِنْ أَوْعَدْته أَوْ وَعَدْته» «لَمُخْلِف إِيعَادِي وَمُنْجِز مَوْعِدِي» میں کسی کو سزا کہوں یا اس سے انعام کا وعدہ کروں۔ تو یہ تو ہوسکتا ہے کہ میں اپنی دھمکی کے خلاف کر جاؤں بلکہ قطعا ہرگز سزا نہ دوں لیکن اپنا وعدہ تو ضرور پورا کر کے ہی رہوں گا۔ الغرض سزا کا وعدہ کر کے سزا نہ کرنا یہ وعدہ خلافی نہیں۔ لیکن رحمت انعام کا وعدہ کر کے پھر روک لینا یہ بری صفت ہے جس سے اللہ کی ذات پاک ہے۔
پھر فرماتا ہے کہ ’ ایک ایک دن اللہ کے نزدیک تمہارے ہزار ہزار دنوں کے برابر ہے یہ بہ اعتبار اس کے حلم اور بردباری کے ہے کیونکہ اسے علم ہے کہ وہ ہر وقت ان کی گرفت پر قادر ہے اس لیے عجلت کیا ہے؟ ‘ گو کتنی ہی سے مہلت مل جائے، گو کتنی ہی سے رسی دراز ہو جائے لیکن جب چاہے گا سانس لینے کی بھی مہلت نہ دے گا اور پکڑ لے گا۔
اسی لیے اس کے بعد ہی فرمان ہوتا ہے ’ بہت سی بستیوں کے لوگ ظلم پر کمر کسے ہوئے تھے، میں نے بھی چشم پوشی کر رکھی تھی۔ جب مست ہو گئے تو اچانک گرفت کر لی، سب مجبور ہیں سب کو میرے ہی سامنے حاضر ہونا ہے، سب کا لوٹنا میری ہی طرف ہے ‘۔
ترمذی وغیرہ میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں فقراء مسلمان مالدار مسلمانوں سے آدھا دن پہلے جنت میں جائیں گے یعنی پانچ سو برس پہلے }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2353،قال الشيخ الألباني:حسن صحیح]‏‏‏‏
اور روایت میں ہے { سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا آدھے دن کی مقدار کیا ہے؟ فرمایا کیا تو نے قرآن نہیں پڑھا؟ میں نے کہا ہاں! تو یہی آیت «وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَن يُخْلِفَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ» سنائی۔ یعنی ’ اللہ کے ہاں ایک دن ایک ہزار سال کا ہے ‘ }۔
ابوداؤد کی کتاب الملاحم کے آخر میں { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ وہ میری امت کو آدھے دن تک تو ضرور مؤخر رکھے گا }۔ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا آدھا دن کتنے عرصے کا ہوگا؟ آپ نے فرمایا پانچ سو سال کا }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:4350،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت «وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ وَلَن يُخْلِفَ اللَّهُ وَعْدَهُ وَإِنَّ يَوْمًا عِندَ رَبِّكَ كَأَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ» کو پڑھ کر فرمانے لگے یہ ان دنوں میں سے جن میں اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ [ابن جریر]‏‏‏‏
بلکہ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ نے کتاب «الرد علی الجمیه» میں اس بات کو کھلے لفظ میں بیان کیا ہے۔ مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ آیت مثل آیت «يُدَبِّرُ الْاَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ اِلَى الْاَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ اِلَيْهِ فِيْ يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهٗٓ اَلْفَ سَـنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ» ۱؎ [32-السجدة:5]‏‏‏‏ کے ہے یعنی ’ اللہ تعالیٰ کام کی تدبیر آسمان سے زمین کی طرف کرتا ہے، پھر اس کی طرف چڑھ جاتا ہے۔ ایک ہی دن میں جس کی مقدار تمہاری گنتی کے اعتبار سے ایک ہزار سال کی ہے ‘۔
امام محمد بن سیرین رحمتہ اللہ علیہ ایک نو مسلم اہل کتاب سے نقل کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آسمان و زمین چھ دن میں پیدا کیا اور ایک دن تیرے رب کے نزدیک مثل ایک ہزار سال کے ہے جو گنتے ہو۔ اللہ نے دنیا کی اجل چھ دن کی کی ہے ساتویں دن قیامت ہے اور ایک ایک دن مثل ہزار ہزار سال کے ہے پس چھ دن تو گزر گئے اور اب تم ساتویں دن میں ہو اب تو بالکل اس حاملہ کی طرح ہے جو پورے دنوں میں ہو اور نہ جانے کب بچہ ہو جائے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

عذاب کی تکذیب کرنے والے، اپنی جہالت، ظلم، عناد، اللہ تعالیٰ کو عاجز سمجھتے اور اس کے رسولوں کی تکذیب کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جلدی عذاب نازل کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ عذاب کا جو وعدہ کیا ہے وہ ضرور واقع ہو کر رہے گا کوئی روکنے والا اس کو روک نہیں سکتا۔ رہا اس عذاب کا جلدی آنا تو اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم یہ آپ کے اختیار میں نہیں ان کے جلدی مچانے اور ہمیں عاجز گرداننے پر، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہلکا نہ سمجھیں، قیامت کا دن ان کے سامنے ہے، جس میں اللہ تعالیٰ تمام اولین و آخرین کو اکٹھا کرے گا، ان کو ان کے اعمال کی جزا دی جائے گی اور ان کو دردناک عذاب میں ڈالا جائے گا، اس لیے فرمایا: ﴿ وَاِنَّ یَوْمًا عِنْدَ رَبِّكَ كَاَلْفِ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّوْنَ یعنی قیامت کا دن اپنی طوالت، اپنی شدت اور اپنی ہولناکی کی وجہ سے ہزار برس کا لگے گا … لہذا خواہ ان پر دنیا کا عذاب نازل ہو جائے یا آخرت تک عذاب کو موخر کر دیا جائے یہ دن تو بہرطور ان پر آکر رہے گا۔
اور یہ احتمال بھی ہے کہ مراد یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ نہایت حلم والا ہے، پس اگر وہ عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں تو (انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ) اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک دن تمھارے شمار کے ہزاربرس کے برابر ہے۔ پس یہ مدت خواہ تم اس کو کتنا ہی لمبا کیوں نہ سمجھو اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کو کتنا ہی دور کیوں نہ سمجھو، اللہ تعالیٰ بہت طویل مدتوں تک مہلت عطا کرتا رہتا ہے مگر حساب لیے بغیر، بے فائدہ نہیں چھوڑتا حتیٰ کہ جب وہ ظالموں کو اپنے عذاب کی گرفت میں لے لیتا ہے تو پھر ان کو چھوڑتا نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: يتعجَّلُك هؤلاء المكذِّبون بالعذاب لجهلهم وظلمهم وعنادهم وتعجيزاً لله وتكذيباً لرسله، ولن يُخْلِفَ الله وعده؛ فما وَعَدَهُم به من العذاب لا بدَّ من وقوعه، ولا يمنعُهم منه مانعٌ، وأمَّا عَجَلَتُهُ والمبادرةُ فيه؛ فليس ذلك إليك يا محمدُ، ولا يستفزنَّك عجلتُهم وتعجيزُهم إيَّانا؛ فإنَّ أمامهم يوم القيامة الذي يُجمع فيه أولهم وآخرهم، ويجازَوْن بأعمالهم، ويقع بهم العذابُ الدائم الأليم، ولهذا قال: {وإنَّ يوماً عند ربِّكَ كألفِ سنةٍ مما تَعُدُّونَ}: من طوله وشدَّته وهولِهِ؛ فسواء أصابهم عذابٌ في الدنيا أم تأخَّر عنهم العذاب؛ فإنَّ هذا اليوم لا بدَّ أن يدرِكهم.

ويُحتمل أنَّ المراد أنَّ الله حليمٌ، ولو استعجلوا العذاب؛ فإنَّ يوماً عنده كألف سنة مما تعدُّون؛ فالمدَّة وإنْ تطاوَلْتُموها، واستبطأتم فيها نزول العذاب؛ فإنَّ الله يمهل المدد الطويلةَ، ولا يُهمل، حتى إذا أخذ الظالمين بعذابه؛ لم يُفْلِتْهم.