تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 90

فَاسۡتَجَبۡنَا لَہٗ ۫ وَ وَہَبۡنَا لَہٗ یَحۡیٰی وَ اَصۡلَحۡنَا لَہٗ زَوۡجَہٗ ؕاِنَّہُمۡ کَانُوۡا یُسٰرِعُوۡنَ فِی الۡخَیۡرٰتِ وَ یَدۡعُوۡنَنَا رَغَبًا وَّ رَہَبًا ؕوَ کَانُوۡا لَنَا خٰشِعِیۡنَ ﴿۹۰﴾
تو ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے یحییٰ عطا کیا اور اس کی بیوی کو اس کے لیے درست کر دیا، بے شک وہ نیکیوں میں بہت جلدی کرتے تھے اور ہمیں رغبت اور خوف سے پکارتے تھے اور وہ ہمارے ہی لیے عاجزی کرنے والے تھے۔ En
تو ہم نے ان کی پکار سن لی۔ اور ان کو یحییٰ بخشے اور ان کی بیوی کو اُن کے (حسن معاشرت کے) قابل بنادیا۔ یہ لوگ لپک لپک کر نیکیاں کرتے اور ہمیں امید سے پکارتے اور ہمارے آگے عاجزی کیا کرتے تھے
En
ہم نے اس کی دعا کو قبول فرما کر اسے یحيٰ (علیہ السلام) عطا فرمایا اور ان کی بیوی کو ان کے لئے درست کر دیا۔ یہ بزرگ لوگ نیک کاموں کی طرف جلدی کرتے تھے اور ہمیں ﻻلچ طمع اور ڈر خوف سے پکارتے تھے۔ اور ہمارے سامنے عاجزی کرنے والے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿فَاسْتَجَبْنَا لَهٗ١ٞ وَوَهَبْنَا لَهٗ یَحْیٰى پس ہم نے اس کی دعا قبول کی اور اسے یحییٰ عطا کیا۔ جو ایسا مکرم نبی ہے کہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے اس نام کا کوئی شخص نہیں کیا ﴿وَاَصْلَحْنَا لَهٗ زَوْجَهٗ اور ہم نے درست کر دیا اس کے لیے اس کی بیوی کو۔ یعنی حضرت زکریا علیہ السلام کی بیوی بانجھ تھیں اور ان کا رحم بچہ پیدا کرنے کے قابل نہ تھا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی زکریا علیہ السلام کی خاطر ان کے رحم کو درست کر کے اسے حمل کے قابل بنا دیا۔ نیک ساتھی اور ہم نشین کے فوائد میں سے ہے کہ وہ اپنے ساتھی کے لیے بابرکت ہوتا ہے۔ پس حضرت یحییٰ علیہ السلام ماں باپ میں (برکت کے لیے) مشترک ہو گئے۔
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان تمام انبیاء و مرسلین کا فرداً فرداً ذکر کرنے کے بعد ان سب کو عمومی مدح و ثنا سے نوازا ہے چنانچہ فرمایا: ﴿اِنَّهُمْ كَانُوْا یُسٰرِعُوْنَ فِی الْخَیْرٰتِ یعنی وہ نیکیوں میں سبقت کرتے تھے، اوقات فاضلہ میں نیکیاں کرتے تھے اور ان کی تکمیل اس طریقے سے کرتے تھے جو ان کے لائق اور ان کے لیے مناسب ہو۔ وہ مقدور بھر کسی فضیلت کو نہ چھوڑتے تھے اور فرصت کو غنیمت جانتے تھے۔ ﴿وَیَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّرَهَبًا یعنی ہم سے دنیا و آخرت کے مرغوب امور کا سوال کرتے تھے اور دنیا و آخرت کے ضرر رساں، خوفناک امور سے ہماری پناہ طلب کرتے تھے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف رغبت رکھتے تھے، وہ غافل اور کھیل کود میں ڈوبے ہوئے تھے نہ اللہ تعالیٰ کے حضور گستاخی اور جرأت کرتے تھے۔ ﴿وَؔكَانُوْا لَنَا خٰشِعِیْنَ یعنی ہمارے سامنے خشوع، تذلل اور انکساری کا اظہار کرتے تھے اور اس کا سبب یہ تھا کہ وہ اپنے رب کی کامل معرفت رکھتے تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فاستجَبْنا له ووَهَبْنا له يحيى}: النبيَّ الكريمَ، الذي لم يجعل الله له من قبل سميًّا، {وأصْلَحْنا له زَوْجَه}: بعدما كانت عاقراً لا يصلُحُ رحمها للولادةِ، فأصلح الله رَحِمَها للحمل لأجل نبيِّه زكريا، وهذا من فوائد الجليس والقرين الصالح؛ أنَّه مباركٌ على قرينه، فصار يحيى مشتركاً بين الوالدين. ولما ذَكَرَ هؤلاء الأنبياء والمرسلين كلًّا على انفراده؛ أثنى عليهم عموماً، فقال: {إنَّهم كانوا يسارِعون في الخيراتِ}؛ أي: يبادرون إليها، ويفعلونها في أوقاتها الفاضلة، ويكمِّلونها على الوجه اللائق الذي ينبغي، ولا يتركون فضيلةً يقدِرون عليها إلا انتهزوا الفرصة فيها. {ويَدْعوننا رَغَباً ورَهَباً}؛ أي: يسألوننا الأمورَ المرغوب فيها من مصالح الدنيا والآخرة، ويتعوَّذون بنا من الأمور المرهوب منها من مضارِّ الدارين، وهم راغبون [راهبون]، لا غافلون لاهون، ولا مدلون. {وكانوا لَنا خاشعينَ}؛ أي: خاضعين متذلِّلين متضرِّعين، وهذا لكمال معرفتهم بربِّهم.