تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 91

وَ الَّتِیۡۤ اَحۡصَنَتۡ فَرۡجَہَا فَنَفَخۡنَا فِیۡہَا مِنۡ رُّوۡحِنَا وَ جَعَلۡنٰہَا وَ ابۡنَہَاۤ اٰیَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۹۱﴾
اور اس عورت کو جس نے اپنی شرم گاہ کو محفوظ رکھا، تو ہم نے اس میں اپنی روح سے پھونکا اور اسے اور اس کے بیٹے کو جہانوں کے لیے عظیم نشانی بنا دیا۔ En
اور ان (مریم) کو (بھی یاد کرو) جنہوں نے اپنی عفّت کو محفوظ رکھا۔ تو ہم نے ان میں اپنی روح پھونک دی اور ان کے بیٹے کو اہل عالم کے لئے نشانی بنا دیا
En
اور وه پاک دامن بی بی جس نے اپنی عصمت کی حفاﻇت کی ہم نے اس کے اندر روح سے پھونک دی اور خود انہیں اور ان کے لڑکے کو تمام جہان کے لئے نشانی بنا دیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی مریم علیہا السلام کا، ان کی مدح و ثنا کے ساتھ، ان کی قدر و منزلت کا بیان اور ان کے فضل و شرف کا اعلان کرتے ہوئے، ذکر کیجیے! فرمایا: ﴿وَالَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا یعنی جس نے حرام کے قریب جانے سے بلکہ حلال سے بھی اپنی شرمگاہ کو بچائے رکھا۔ پس مریم علیہا السلام نے ہمہ وقت عبادت میں مشغول اور اپنے رب کی خدمت میں مستغرق رہنے کی وجہ سے شادی نہیں کی تھی۔ جب حضرت جبریل علیہ السلام ایک کامل اور خوبصورت مرد کی شکل میں مریم علیہا السلام کے پاس آئے تو آپ کہنے لگیں: ﴿اِنِّیْۤ اَعُوْذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنْكَ اِنْ كُنْتَ تَقِیًّا (مریم:19؍18) میں تجھ سے رحمان کی پناہ مانگتی ہوں، اگر تو اللہ سے ڈرتا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم علیہا السلام کو ان کے عمل کی جنس ہی سے اس کا بدلہ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بغیر باپ کے ایک بیٹے سے نوازا۔ جبریل علیہ السلام نے پھونک ماری تو اللہ تعالیٰ کے حکم سے حضرت مریم علیہا السلام کو حمل ٹھہر گیا ﴿ وَجَعَلْنٰهَا وَابْنَهَاۤ اٰیَةً لِّلْ٘عٰلَمِیْنَ اور کر دیا ہم نے اس کو اور اس کے بیٹے کو نشانی جہانوں کے لیے۔ کیونکہ حضرت مریم علیہا السلام کو بغیر کسی مرد کے چھوئے حمل ٹھہرا اور پھر بیٹے کو جنم دیا اور اس بیٹے نے گہوارے میں کلام کیا اور بہتان طراز آپ پر جو تہمت لگاتے تھے اس سے مریم علیہا السلام کی براء ت کا اعلان کیا اور اسی حالت میں انھوں نے اپنے بارے میں آگاہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے ہاتھ پر معجزات ظاہر فرمائے جو کہ سب کو معلوم ہیں۔
حضرت مریم اور ان کا فرزند ارجمند علیہما السلام تمام جہانوں کے لیے ایک نشانی بن گئے لوگ نسل در نسل اس واقعے کو بیان کرتے اور اس سے عبرت حاصل کرتے چلے آ رہے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: واذكر مريم عليها السلام مثنياً عليها مبيِّناً لقَدْرها شاهراً لشرفها، فقال: {والتي أحصَنَتْ فرجَها}؛ أي: حفظته من الحرام وقربانه، بل ومن الحلال، فلم تتزوَّج؛ لاشتغالها بالعبادة واستغراق وقتها بالخدمةِ لربِّها، وحين جاءها جبريل في صورة بشرٍ سويٍّ تامِّ الخَلْق والحسن؛ {قالتْ إنِّي أعوذُ بالرحمن منك إن كنتَ تقيًّا}، فجازاها اللَّه من جنس عملها ورزقها ولداً من غير أب، بل نَفَخَ فيها جبريلُ عليه السلام، فحملت بإذنِ الله، {وجَعَلْناها وابْنها آيةً للعالمين}؛ حيثُ حملت به ووضَعَتْه من دون مسيس أحدٍ، وحيث تكلَّم في المهد، وبرَّأها مما ظنَّ بها المتَّهِمُون، وأخبر عن نفسه في تلك الحالة، وأجرى الله على يديه من الخوارق والمعجزات ما هو معلوم، فكانت وابنها آيةً للعالمين، يتحدَّث بها جيلاً بعد جيل، ويعتبر بها المعتبرون.