تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اِنَّهُمْ كَانُوْا يُسٰرِعُوْنَ فِي الْخَيْرٰتِ:} یعنی زکریا علیہ السلام، ان کی بیوی اور یحییٰ علیہ السلام نیکیوں میں جلدی کرتے اور رغبت اور خوف کے ساتھ ہمیں پکارتے تھے اور صرف ہمارے لیے عاجزی کرنے والے تھے۔ یہ بھی مراد ہو سکتا ہے کہ ان تمام انبیاء میں، جن کا ذکر اس سے پہلے گزرا، یہ تینوں صفات پائی جاتی تھیں۔ معلوم ہوا دعا کی قبولیت کے لیے یہ تینوں باتیں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ ان بڑے لوگوں میں یہ بات نہ تھی کہ شفا بخش سکیں یا مشکل کشائی کر سکیں یا اولاد عطا کر دیں، بلکہ وہ نیکیوں میں جلدی کرتے تھے اور خوف اور طمع کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہی سے دعا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ بندگی میں ان کے عظیم مرتبے کے پیش نظر معجزانہ طریقے سے ان کی دعا قبول فرماتا تھا۔
➌ {وَ يَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا:} یعنی وہ ہمیں اس طرح پکارتے تھے کہ ایک طرف انھیں ہمارے اجر کی توقع رہتی تھی اور دوسری طرف ہمارے عذاب کا ڈر اور یہی بندگی کا اعلیٰ ترین مقام ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا }» [السجدۃ: ۱۶] ”وہ اپنے رب کو ڈرتے ہوئے اور طمع کرتے ہوئے پکارتے ہیں۔“ بعض صوفی حضرات کہا کرتے ہیں کہ جنت کے لالچ یا جہنم کے خوف سے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا تو سودے بازی ہے، عبادت تو بس اللہ کی رضا کے لیے کرنی چاہیے، اس آیت میں ان کا رد ہے، انبیائے کرام اللہ کے قرب کے سب سے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوتے ہیں، ان کے متعلق فرمایا: «{ يَدْعُوْنَنَا رَغَبًا وَّ رَهَبًا }» یعنی وہ ہمیں اس طرح پکارتے تھے کہ ایک طرف انھیں ہمارے اجر کی توقع رہتی تھی اور دوسری طرف ہمارے عذاب کا ڈر اور یہی بندگی کا اعلیٰ ترین مقام ہے۔ جاہل صوفیوں کو علم نہیں کہ جنت اللہ کی رضا سے ملے گی اور جہنم اللہ کے غضب کا نتیجہ ہے۔ رہی سودے بازی، تو وہ خود اللہ تعالیٰ نے بندوں سے کی ہے، فرمایا: «{ اِنَّ اللّٰهَ اشْتَرٰى مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ اَنْفُسَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ بِاَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ }» [التوبۃ: ۱۱۱] ”بے شک اللہ نے مومنوں سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لیے ہیں، اس کے بدلے کہ ان کے لیے جنت ہے۔“
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
سوداگری نہیں یہ عبادت خدا کی ہے
او بے خبر جزا کی تمنا بھی چھوڑ دے
حالانکہ اللہ تعالیٰ انبیاء کی یہ صفت بیان فرما رہے ہیں کہ وہ ہمیں توقع اور خوف سے پکارا کرتے تھے۔ گویا اس آیت میں ایسے متصوفین کا مکمل رد موجود ہے۔ کیونکہ انبیاء سے بڑھ کر اللہ کا محب اور کون ہو سکتا ہے؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
دعا کے بعد اللہ تعالیٰ کی ثناء کی جیسے کہ اس دعا کے لائق تھی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کی دعا قبول فرمائی۔ اور آپ علیہ السلام کی بیوی صاحبہ کو جنہیں بڑھاپے تک کوئی اولاد نہ ہوئی تھی اولاد کے قابل بنا دیا۔
بعض لوگ کہتے ہیں ان کی طول زبانیں بند کردی۔ بعض کہتے ہیں کہ ان کے اخلاق کی کمی پوری کردی۔ لیکن الفاظ قرآن کے قریب پہلا معنی ہی ہے۔ یہ سب بزرگ نیکیوں کی طرف اللہ کی فرمانبرداری کی طرف بھاگ دوڑ کرنے والے تھے۔ اور لالچ اور ڈر سے اللہ سے دعائیں کرنے والے تھے اور سچے مومن رب کی باتیں ماننے والے اللہ کا خوف رکھنے والے تواضع انکساری اور عاجزی کرنے والے اللہ کے سامنے اپنی فروتنی ظاہر کرنے والے تھے۔
مروی ہے کہ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک خطبے میں فرمایا ”میں تمہیں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنے کی اور اس کی پوری ثناء و صفت بیان کرتے رہنے کی اور لالچ اور خوف سے دعائیں مانگنے کی اور دعاؤں میں خشوع وخضوع کرنے کی وصیت کرتا ہوں دیکھو اللہ عزوجل نے زکریا علیہ السلام کے گھرانے کی یہی فضیلت بیان فرمائی ہے“ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فاستجَبْنا له ووَهَبْنا له يحيى}: النبيَّ الكريمَ، الذي لم يجعل الله له من قبل سميًّا، {وأصْلَحْنا له زَوْجَه}: بعدما كانت عاقراً لا يصلُحُ رحمها للولادةِ، فأصلح الله رَحِمَها للحمل لأجل نبيِّه زكريا، وهذا من فوائد الجليس والقرين الصالح؛ أنَّه مباركٌ على قرينه، فصار يحيى مشتركاً بين الوالدين. ولما ذَكَرَ هؤلاء الأنبياء والمرسلين كلًّا على انفراده؛ أثنى عليهم عموماً، فقال: {إنَّهم كانوا يسارِعون في الخيراتِ}؛ أي: يبادرون إليها، ويفعلونها في أوقاتها الفاضلة، ويكمِّلونها على الوجه اللائق الذي ينبغي، ولا يتركون فضيلةً يقدِرون عليها إلا انتهزوا الفرصة فيها. {ويَدْعوننا رَغَباً ورَهَباً}؛ أي: يسألوننا الأمورَ المرغوب فيها من مصالح الدنيا والآخرة، ويتعوَّذون بنا من الأمور المرهوب منها من مضارِّ الدارين، وهم راغبون [راهبون]، لا غافلون لاهون، ولا مدلون. {وكانوا لَنا خاشعينَ}؛ أي: خاضعين متذلِّلين متضرِّعين، وهذا لكمال معرفتهم بربِّهم.