تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 89

وَ زَکَرِیَّاۤ اِذۡ نَادٰی رَبَّہٗ رَبِّ لَا تَذَرۡنِیۡ فَرۡدًا وَّ اَنۡتَ خَیۡرُ الۡوٰرِثِیۡنَ ﴿ۚۖ۸۹﴾
اور زکریا کو جب اس نے اپنے رب کو پکارا اے میرے رب! مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو ہی سب وارثوں سے بہتر ہے۔ En
اور زکریا (کو یاد کرو) جب انہوں نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ پروردگار مجھے اکیلا نہ چھوڑ اور تو سب سے بہتر وارث ہے
En
اور زکریا (علیہ السلام) کو یاد کرو جب اس نے اپنے رب سے دعا کی کہ اے میرے پروردگار! مجھے تنہا نہ چھوڑ، تو سب سے بہتر وارث ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یعنی ہمارے بندے اور رسول زکریا علیہ السلام کو اس کی تعریف و تعظیم کے ساتھ اور ان مناقب و فضائل کا ذکر کرتے ہوئے یاد کیجیے۔ ان جملہ فضائل میں یہ عظیم منقبت بھی شامل ہے کہ انھوں نے مخلوق کے ساتھ خیرخواہی کی اور ان پر اللہ تعالیٰ کی خاص رحمت ہوئی۔ زکریا علیہ السلام نے اپنے رب کو پکارا: ﴿ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا اے رب! مجھے تنہا نہ چھوڑنا۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے کہا: ﴿رَبِّ اِنِّیْ وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّیْ وَاشْتَعَلَ الرَّاْسُ شَیْبًا وَّلَمْ اَكُ٘نْۢ بِدُعَآىِٕكَ رَبِّ شَقِیًّا۰۰وَاِنِّیْ خِفْتُ الْ٘مَوَالِیَ مِنْ وَّرَآءِیْ وَؔكَانَتِ امْرَاَتِیْ عَاقِرًا فَهَبْ لِیْ مِنْ لَّدُنْكَ وَلِیًّاۙ۰۰یَّرِثُنِیْ وَیَرِثُ مِنْ اٰلِ یَعْقُوْبَ١ۖ ۗ وَاجْعَلْهُ رَبِّ رَضِیًّا (مریم:19؍4-6) اے میرے رب! میری ہڈیاں کمزور پڑ گئیں اور سر بڑھاپے کی وجہ سے سفید ہو گیا۔ اے میرے رب میں تجھ سے دعا مانگ کر کبھی نامراد نہیں رہا۔ مجھے اپنے پیچھے اپنے رشتہ داروں کے بارے میں خوف ہے اور میری بیوی بانجھ ہے تو اپنی عنایت سے مجھے ایک وارث عطا کر جو میرا وارث ہو اور آل یعقوب کا وارث بنے اور اے میرے رب! تو اسے ایک پسندیدہ انسان بنا۔
ان آیات کریمہ سے ہمیں معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿ رَبِّ لَا تَذَرْنِیْ فَرْدًا سے مراد یہ ہے کہ جب حضرت زکریا علیہ السلام کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ کو یہ خوف لاحق ہوا کہ آپ کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے اور مخلوق کے ساتھ خیرخواہی کرنے کے لیے کوئی آپ کا قائم مقام نہ ہو گا، نیز یہ کہ حضرت زکریا علیہ السلام اس وقت تنہا تھے کوئی ان کا خلف رشید نہ تھا جو دعوت میں ان کی اعانت کرتا۔
﴿ وَّاَنْتَ خَیْرُ الْوٰرِثِیْنَ یعنی تو باقی رہنے والوں میں سب سے بہتر ہے اور بھلائی میں میرے کسی خلف رشید سے بہتر ہے اور تو اپنے بندوں کے ساتھ مجھ سے زیادہ رحم کرنے والا ہے مگر میں چاہتا ہوں کہ میرا دل مطمئن اور نفس کو سکون حاصل ہو اور میرے لیے اس کا ثواب جاری رہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: واذكر عبدَنا ورسولَنا زكريَّا، منوِّهاً بذكره، ناشراً لمناقبه وفضائله التي من جملتها هذه المنقبةُ العظيمة، المتضمِّنة لنُصحه للخلق ورحمة الله إيَّاه، وأنه {نادى ربَّه ربِّ لا تَذَرْني فَرْداً}؛ أي: {قال ربِّ إنِّي وَهَنَ العظمُ منِّي واشتعلَ الرأسُ شيباً ولم أكُن بدعائِكَ ربِّ شقيًّا. وإنِّي خفتُ المواليَ من ورائي وكانتِ امرأتي عاقراً فَهَبْ لي مِن لَدُنكَ وَلِيًّا. يرِثُني ويرثُ من آل يعقوبَ واجْعَلْه ربِّ رضيًّا}: من هذه الآيات علِمْنا أنَّ قوله: {ربِّ لا تذرني فرداً}: أنَّه لما تقارب أجلُه؛ خاف أن لا يقوم أحدٌ بعده مقامَه في الدعوة إلى الله والنُّصح لعباد الله، وأن يكون في وقتِهِ فرداً ولا يُخْلِفَ من يشفَعُه ويعينُه على ما قام به. {وأنت خير الوارثين}؛ أي: خير الباقين، وخيرُ من خَلَفَني بخيرٍ، وأنت أرحمُ بعبادك منِّي، ولكنِّي أريدُ ما يطمئنُّ به قلبي، وتسكنُ له نفسي ويجري في موازيني ثوابه.