تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
ابراہیم علیہ السلام نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلْفَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِیْرُهُمْهٰؔذَا﴾ یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم علیہ السلام کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا: ﴿ فَسْـَٔلُوْهُمْاِنْكَانُوْایَنْطِقُوْنَ ﴾”ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں۔“ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فقال إبراهيم والناس مشاهدونَ: {بل فَعَلَهُ كبيرُهم هذا}؛ أي: كسَّرها غضباً عليها لمَّا عُبِدَتْ معه، وأراد أن تكونَ العبادةُ منكم لصنمكم الكبير وحدَه، وهذا الكلامُ من إبراهيم القصدُ منه إلزامُ الخصم وإقامةُ الحجَّة عليه، ولهذا قال: {فاسْألوهُم إن كانوا ينطقونَ}، وأراد الأصنام المكسَّرة؛ اسألوها لم كُسِّرَتْ؟ والصنم الذي لم يكسر؛ اسألوه لأيِّ شيءٍ كسَّرها؟ إنْ كان عندَهم نطقٌ؛ فسيجيبونكم إلى ذلك، وأنا وأنتم وكلُّ أحدٍ يدري أنَّها لا تنطِقُ، ولا تتكلَّم، ولا تنفع ولا تضرُّ، بل ولا تنصر نفسَها ممَّن يريدها بأذى.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔