ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 63

قَالَ بَلۡ فَعَلَہٗ ٭ۖ کَبِیۡرُہُمۡ ہٰذَا فَسۡـَٔلُوۡہُمۡ اِنۡ کَانُوۡا یَنۡطِقُوۡنَ ﴿۶۳﴾
اس نے کہا بلکہ ان کے اس بڑے نے یہ کیا ہے، سو ان سے پوچھ لو، اگر وہ بولتے ہیں۔ En
(ابراہیم نے) کہا (نہیں) بلکہ یہ ان کے اس بڑے (بت) نے کیا (ہوگا) ۔ اگر یہ بولتے ہیں تو ان سے پوچھ لو
En
آپ نے جواب دیا بلکہ اس کام کو ان کے بڑے نے کیا ہے تم اپنے خداؤں سے ہی پوچھ لو اگر یہ بولتے چالتے ہوں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

اس آیت کی تفسیر آیت 62 میں تا آیت 64 میں گزر چکی ہے۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

63۔ 1 چناچہ حضرت ابراہیم ؑ کو مجمع عام میں لایا گیا اور ان سے پوچھا گیا، حضرت ابراہیم ؑ نے جواب دیا کہ یہ کام تو اس بڑے بت نے کیا ہے، اگر یہ (ٹوٹے ہوئے بت) بول کر بتلا سکتے ہیں تو ذرا ان سے پوچھو تو سہی۔ یہ بطور اپنے مطلب کے بات کی یا انہوں نے کہا تاکہ وہ یہ بات جان لیں کہ جو نہ بول سکتا ہو نہ کسی چیز سے آگاہی کی صلاحیت رکھتا ہو، وہ معبود نہیں ہوسکتا۔ نہ اس پر الہ کا اطلاق ہی صحیح ہے ایک حدیث صحیح میں حضرت ابراہیم ؑ کے اس قول بل فعلہ کبیرھم کو لفظ کذب سے تعبیر کیا گیا ہے کہ ابراہیم ؑ نے تین جھوٹ بولے دو اللہ کے لیے ایک (انی سقیم) اور دوسرا یہی اور تیسرا حضرت سارہ اپنی بیوی کو بہن کہنا (صحیح بخاری کتاب الانبیاء باب واتخذاللہ ابراہیم خلیلا) زمانہ حال کے بعض مفسرین نے اس حدیث صحیح کو قرآن کے خلاف باور کر کے اس کا انکار کردیا ہے اور اس کی صحت پر اصرار غلو اور روایت پرستی قرار دیا ہے لیکن ان کی یہ رائے صحیح نہیں یقینا حقیقت کے اعتبار سے انھیں جھوٹ نہیں کہا جاسکتا لیکن ظاہری شکل کے لحاظ سے ان کو کذب سے خارج بھی نہیں کیا جاسکتا ہے گو یہ کذب اللہ کے ہاں قابل مواخذہ نہیں ہے کیونکہ وہ اللہ ہی کے لیے بولے گئے ہیں درآنحالیکہ کوئی گناہ کا کام اللہ کے لیے نہیں ہوسکتا اور یہ تب ہی ہوسکتا ہے کہ ظاہری طور پر کذب ہونے کے باوجود وہ حقیقتا کذب نہ ہو جیسے حضرت آدم ؑ کے لیے عصی اور غوی کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں حالانکہ خود قرآن میں ہی ان کے فعل اکل شجر کو نسیان اور ارادے کی کمزوری کا نتیجہ بھی بتلایا گیا ہے جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ کسی کام کے دو پہلو بھی ہوسکتے ہیں من وجہ اس میں استحسان اور من وجہ ظاہری قباحت کا پہلو۔ حضرت ابراہیم ؑ کا یہ قول اس پہلو سے ظاہری طور پر کذب ہی ہے کہ واقعے کے خلاف تھا بتوں کو انہوں نے خود توڑا تھا لیکن اس کا انتساب بڑے بت کی طرف کیا لیکن چونکہ مقصد ان کا تعریض اور اثبات توحید تھا اس لیے حقیقت کے اعتبار ہم اسے جھوٹ کے بجائے اتمام حجت کا ایک طریق اور مشرکین کی بےعقلی کے اثبات واظہار کا ایک انداز کہیں گے علاوہ ازیں حدیث میں ان کذبات کا ذکر جس ضمن میں آیا ہے وہ بھی قابل غور ہے اور وہ ہے میدان محشر میں اللہ کے روبرو جاکر سفارش کرنے سے اس لیے گریز کرنا کہ ان سے دنیا میں تین موقعوں پر لغزش کا صدور ہوا ہے درآنحالیکہ وہ لغزشیں نہیں یعنی حقیقت اور مقصد کے اعتبار وہ جھوٹ نہیں ہیں مگر وہ اللہ کی عظمت وجلا کیوجہ سے اتنے خوف زدہ ہوں گے کہ یہ باتیں جھوٹ کے ساتھ مماثلت کی وجہ سے قابل گرفت نظر آئیں گی گویا حدیث کا مقصد حضرت ابراہیم ؑ کو جھوٹا ثابت کرنا ہرگز نہیں ہے بلکہ اس کیفیت کا اظہار ہے جو قیامت والے دن خشیت الہی کی وجہ سے ان پر طاری ہوگی۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

63۔ ابراہیم نے جواب دیا: نہیں بلکہ ان پر بڑے (بت) نے ہی یہ کچھ کیا ہو گا۔ لہذا انھیں (ٹوٹے ہوئے بتوں) سے ہی پوچھ لو۔ اگر بولتے [55] ہوں؟“
[55] چنانچہ حضرت ابراہیمؑ کو سب لوگوں کے سامنے برسر میدان لایا گیا اور ان سے پہلا سوال جو ہوا تو وہ اعتراف جرم سے متعلق تھا۔ کیونکہ جب تک مجرم کا جرم ہی ثابت نہ ہو سزا کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حضرت ابراہیمؑ سے پوچھا یہ گیا کہ: آیا ہمارے مشکل کشاؤں کو تم ہی نے توڑا پھوڑا ہے؟ اس سوال کا جواب حضرت ابراہیمؑ نے یہ دیا کہ قرینہ کی شہادت تو یہ ہے کہ یہ سب کارستانی بڑے بت کی ہے۔ جس نے کلہاڑا اپنے کندھے پر اٹھا رکھا ہے۔ ممکن ہے بڑے خدا کو تمہارے جانے کے بعد چھوٹے خداؤں پر غصہ آ گیا ہو اور اس نے انھیں تہس نہس کر دیا ہو۔ اور اس سوال کا اصل حل یہ ہے کہ ان مظلوم اور ٹوٹے پھوٹے مشکل کشاؤں سے ہی پوچھ لو کہ ان پر کس نے یہ ظلم روا رکھا ہے اور یقین جانو کہ اگر وہ بولتے ہیں تو یقیناً تم کو اس سوال کا جواب دے دیں گے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ابراہیم علیہ السلام نے لوگوں کے سامنے بھرے مجمع میں جواب دیا ﴿ بَلْ فَعَلَهٗ١ۖ ۗ كَبِیْرُهُمْ هٰؔذَا یعنی اس بڑے بت نے ناراض ہو کر ان کو توڑا ہے کیونکہ اس کے ساتھ ان کی بھی عبادت کی جاتی تھی اور وہ چاہتا تھا کہ عبادت صرف تمھارے اس بڑے بت کی ہو۔ اس سے ابراہیم علیہ السلام کا مقصد الزامی جواب اور حجت قائم کرنا تھا، اس لیے فرمایا: ﴿ فَسْـَٔلُوْهُمْ اِنْ كَانُوْا یَنْطِقُوْنَ ان سے پوچھو، اگر یہ بول سکتے ہیں۔ یعنی ان ٹوٹے ہوئے بتوں سے پوچھو کہ ان کو کیوں توڑا گیا؟ اور جس بت کو نہیں توڑا گیا، اس سے پوچھو کہ اس نے ان بتوں کو کیوں توڑا؟ اگر وہ بول سکتے ہیں تو تمھیں جواب دیں … میں، تم اور ہر شخص اچھی طرح جانتا ہے کہ یہ بت بول سکتے ہیں نہ کلام کر سکتے ہیں، کوئی نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔ بلکہ اگر کوئی ان کو نقصان پہنچانا چاہے تو یہ خود اپنی مدد کرنے پر بھی قادر نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقال إبراهيم والناس مشاهدونَ: {بل فَعَلَهُ كبيرُهم هذا}؛ أي: كسَّرها غضباً عليها لمَّا عُبِدَتْ معه، وأراد أن تكونَ العبادةُ منكم لصنمكم الكبير وحدَه، وهذا الكلامُ من إبراهيم القصدُ منه إلزامُ الخصم وإقامةُ الحجَّة عليه، ولهذا قال: {فاسْألوهُم إن كانوا ينطقونَ}، وأراد الأصنام المكسَّرة؛ اسألوها لم كُسِّرَتْ؟ والصنم الذي لم يكسر؛ اسألوه لأيِّ شيءٍ كسَّرها؟ إنْ كان عندَهم نطقٌ؛ فسيجيبونكم إلى ذلك، وأنا وأنتم وكلُّ أحدٍ يدري أنَّها لا تنطِقُ، ولا تتكلَّم، ولا تنفع ولا تضرُّ، بل ولا تنصر نفسَها ممَّن يريدها بأذى.