تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 64

فَرَجَعُوۡۤا اِلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ فَقَالُوۡۤا اِنَّکُمۡ اَنۡتُمُ الظّٰلِمُوۡنَ ﴿ۙ۶۴﴾
تو وہ اپنے دلوں کی طرف لوٹے اور کہنے لگے یقینا تم خود ہی ظالم ہو۔ En
انہوں نے اپنے دل غور کیا تو آپس میں کہنے لگے بےشک تم ہی بےانصاف ہو
En
پس یہ لوگ اپنے دلوں میں قائل ہوگئے اور کہنے لگے واقعی ﻇالم تو تم ہی ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ پس وہ اپنے آپ ہی کی طرف لوٹے۔ یعنی ان کی عقل ان کی طرف لوٹی اور انھیں معلوم ہو گیا کہ وہ ان بتوں کی عبادت کر کے گمراہی میں مبتلا تھے اور انھوں نے اپنے ظلم اور شرک کا اقرار کر لیا۔ ﴿ فَقَالُوْۤا اِنَّـكُمْ اَنْتُمُ الظّٰلِمُوْنَ اور کہنے لگے، تم ہی ظالم ہو۔ پس اس سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مقصد حاصل ہو گیا اور ان کے اس اقرار کے ساتھ، کہ ان کا موقف باطل اور ان کا فعل کفر اور ظلم ہے، ان پر حجت قائم ہو گئی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فرجعوا إلى أنفسهم}؛ أي: ثابتْ عليهم عقولُهم، ورجعتْ إليهم أحلامُهم، وعلموا أنَّهم ضالُّون في عبادتها، وأقرُّوا على أنفسهم بالظُّلم والشرك، {فقالوا إنَّكم أنتم الظالمون}: فحصل بذلك المقصودُ، ولزمتهم الحجَّة بإقرارهم أنَّ ما هم عليه باطلٌ، وأنَّ فعلَهم كفرٌ وظلمٌ.