تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 62

قَالُوۡۤا ءَاَنۡتَ فَعَلۡتَ ہٰذَا بِاٰلِہَتِنَا یٰۤـاِبۡرٰہِیۡمُ ﴿ؕ۶۲﴾
انھوں نے کہا کیا تو نے ہی ہمارے معبودوں کے ساتھ یہ کیا ہے اے ابراہیم!؟ En
(جب ابراہیم آئے تو) بت پرستوں نے کہا کہ ابراہیم بھلا یہ کام ہمارے معبودوں کے ساتھ تم نے کیا ہے؟
En
کہنے لگے! اے ابراہیم (علیہ السلام) کیا تو نے ہی ہمارے خداؤں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب لوگ اکٹھے ہو گئے اور ابراہیم علیہ السلام کو بھی حاضر کیا گیا تو انھوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے پوچھا ﴿ءَاَنْتَ فَعَلْتَ هٰؔذَا کیا تو نے یہ کیا ہے؟ یعنی بتوں کو توڑا ہے ﴿ بِاٰلِهَتِنَا یٰۤاِبْرٰهِیْمُ یہ استفہام تقریری ہے یعنی اس اقدام کی تجھے کیسے جرأت ہوئی؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فحين حضر الناس وأُحْضِر إبراهيم؛ قالوا له: {أأنتَ فعلتَ هذا}؛ أي: التكسير {بآلهتنا يا إبراهيمُ}؟ وهذا استفهام تقريرٍ؛ أي: فما الذي جرَّأك؟ وما الذي أوجبَ لك الإقدام على هذا الأمر؟