بلکہ ہم نے انھیں اور ان کے باپ دادا کو سازو سامان دیا، یہاں تک کہ ان پر لمبی عمر گزر گئی، پھر کیا وہ دیکھتے نہیں کہ بیشک ہم زمین کو آتے ہیں، اسے اس کے کناروں سے گھٹاتے آتے ہیں، تو کیا وہی غالب آنے والے ہیں ؟
En
بلکہ ہم ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادا کو متمتع کرتے رہے یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ان کی عمریں بسر ہوگئیں۔ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں۔ تو کیا یہ لوگ غلبہ پانے والے ہیں؟
بلکہ ہم نے انہیں اور ان کے باپ دادوں کو زندگی کے سروسامان دیے یہاں تک کہ ان کی مدت عمر گزر گئی۔ کیا وه نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں، اب کیا وہی غالب ہیں؟
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جو چیز ان کے اپنے کفر و شرک پر جمے رہنے کی باعث بنی اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ بَلْمَتَّعْنَاهٰۤؤُلَآءِوَاٰبَآءَهُمْحَتّٰىطَالَعَلَیْهِمُالْ٘عُمُرُ ﴾ ہم نے مال اور اولاد کے ذریعے سے ان کی مدد کی، ان کو لمبی عمریں عطا کیں تو وہ ان مقاصد کو چھوڑ کر جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا تھا، لہو و لعب کی بنا پر، مال اور اولاد سے متمتع ہونے میں مشغول ہو گئے اور ان کی مدت مہلت طویل ہو گئی، جس سے ان کے دل سخت ہو گئے، ان کی سرکشی بڑھ گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا۔ اگر وہ اس زمین پر دائیں بائیں مڑ کر اپنے جیسے لوگوں کا انجام دیکھتے تو ہلاک ہونے والوں کے سوا کچھ نہ پاتے اور موت کی خبر دینے والے کی آواز کے سوا کوئی آواز نہ سنتے۔ انھیں معلوم ہوتا کہ کئی قومیں پے در پے ہلاک ہو گئیں اور موت نے نفوس کو پھانسنے کے لیے ہر راستے پر پھندہ لگا رکھا ہے۔
بناء بریں فرمایا: ﴿اَفَلَایَرَوْنَاَنَّانَاْتِیالْاَرْضَنَنْقُصُهَامِنْاَطْرَافِهَا﴾ یعنی ہم زمین کو اہل زمین کی موت اور ان کو فنا کرنے کے ذریعے آہستہ آہستہ کم کررہے ہیں یہاں تک کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی زمین اور زمین کے رہنے والوں کا وارث ہو گا اور وہ بہترین وارث ہے اگر وہ اپنی اس حالت کو دیکھیں تو کبھی فریب میں مبتلا نہ ہوں اور کبھی اپنے کفر و شرک کے موجودہ رویے پر جمے نہ رہیں۔ ﴿ اَفَهُمُالْغٰلِبُوْنَ ﴾”کیا پس وہ غالب ہیں۔“ جو اپنے زور سے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کو روک سکتے ہوں اور اپنی طاقت سے موت سے بچ سکتے ہوں؟ کیا یہ ان کا وصف ہے کہ جس کی بنا پر وہ طول بقاء کے فریب میں مبتلا ہیں؟ یا ان کی حالت یہ ہے کہ جب ان کی ارواح کو قبض کرنے کے لیے ان کے رب کا فرشتہ ان کے پاس آئے گا تو اس کے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے اور ادنیٰ سی مزاحمت پر بھی قادر نہ ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
والذي أوجب لهم استمرارهم على كفرهم وشركهم قوله: {بل مَتَّعْنا هؤلاء وآباءَهم حتى طالَ عليهم العُمُرُ}؛ أي: أمددناهم بالأموال والبنين، وأطلنا أعمارهم، فاشتغلوا بالتمتُّع بها، ولهوا بها عما له خُلقوا، وطال عليهم الأمد، فقست قلوبُهم، وعظُم طغيانُهم، وتغلَّظ كفرانهم؛ فلو لفتوا أنظارهم إلى مَنْ عن يمينهم وعن يسارهم من الأرض؛ لم يَجِدوا إلاَّ هالكاً، ولم يسمعوا إلاَّ صوتَ ناعيةٍ، ولم يحسُّوا إلا بقرونٍ متتابعة على الهلاك، وقد نَصَبَ الموتُ في كلِّ طريق ـ لاقتناص النفوس ـ الأشْراكَ، ولهذا قال: {أفلا يَرَوْنَ أنَّا نأتي الأرض نَنقُصُها من أطرافِها}؛ أي: بموت أهلها وفنائهم شيئاً فشيئاً حتى يَرِثَ الله الأرض ومَنْ عليها وهو خيرُ الوارثين؛ فلو رأوا هذه الحالة؛ لم يغترُّوا ويستمرُّوا على ما هم عليه. {أفهم الغالبونَ}: الذين بوسِعِهم الخروج عن قَدَرِ الله، وبطاقَتِهِم الامتناع من الموت؛ فهل هذا وصفهم حتى يغترُّوا بطول البقاء؟ أم إذا جاءهم رسولُ ربِّهم، لِقَبْضِ أرواحهم، أذعنوا وذلُّوا ولم يظهرْ منهم أدنى ممانعةٍ؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔