ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 44

بَلۡ مَتَّعۡنَا ہٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَہُمۡ حَتّٰی طَالَ عَلَیۡہِمُ الۡعُمُرُ ؕ اَفَلَا یَرَوۡنَ اَنَّا نَاۡتِی الۡاَرۡضَ نَنۡقُصُہَا مِنۡ اَطۡرَافِہَا ؕ اَفَہُمُ الۡغٰلِبُوۡنَ ﴿۴۴﴾
بلکہ ہم نے انھیں اور ان کے باپ دادا کو سازو سامان دیا، یہاں تک کہ ان پر لمبی عمر گزر گئی، پھر کیا وہ دیکھتے نہیں کہ بیشک ہم زمین کو آتے ہیں، اسے اس کے کناروں سے گھٹاتے آتے ہیں، تو کیا وہی غالب آنے والے ہیں ؟ En
بلکہ ہم ان لوگوں کو اور ان کے باپ دادا کو متمتع کرتے رہے یہاں تک کہ (اسی حالت میں) ان کی عمریں بسر ہوگئیں۔ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آتے ہیں۔ تو کیا یہ لوگ غلبہ پانے والے ہیں؟
En
بلکہ ہم نے انہیں اور ان کے باپ دادوں کو زندگی کے سروسامان دیے یہاں تک کہ ان کی مدت عمر گزر گئی۔ کیا وه نہیں دیکھتے کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں، اب کیا وہی غالب ہیں؟ En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 44) ➊ { بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ …:} یعنی ان کے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بے پروا ہونے، پیغمبر کا مذاق اڑانے اور جلدی عذاب لانے کا مطالبہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ان پر جو مہربانی کی، انھیں اور ان کے آبا و اجداد کو دنیا کے سازو سامان سے فائدہ اٹھانے کا جو موقع دیا تو اس پر احسان مند ہونے کے بجائے اس غلط فہمی میں پڑ گئے کہ یہ نعمت ہمیشہ رہے گی، کبھی زائل نہ ہو گی، جیسا کہ فرمایا: «{ اَوَ لَمْ تَكُوْنُوْۤا اَقْسَمْتُمْ مِّنْ قَبْلُ مَا لَكُمْ مِّنْ زَوَالٍ [إبراہیم: ۴۴] اور کیا تم نے اس سے پہلے قسمیں نہ کھائی تھیں کہ تمھارے لیے کوئی بھی زوال نہیں۔ اور پھر ہوتے ہوتے اپنی خوش حالی میں اس قدر مست ہو گئے کہ سرے سے بھول ہی گئے کہ ان کے اوپر کوئی ان کا رب بھی ہے، جو جب چاہے عذاب بھیج کر ان کا نام و نشان مٹا سکتا ہے۔
➋ { اَفَلَا يَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِي الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا …:} یعنی کیا یہ مشرکین جو عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں اس عذاب کے آثار اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے کہ ہم ان کی زمین کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے اسے مسلسل کم کرتے چلے آ رہے ہیں۔ مسلمان شہروں پر شہر اور علاقوں پر علاقے فتح کرتے چلے جا رہے ہیں اور وہ وقت آ رہا ہے کہ ان کی مقبوضہ زمین گھٹتے گھٹتے ساری کی ساری ان کے قبضے سے نکل جائے گی، تو کیا پھر بھی یہی غالب ہوں گے؟ زمین کو اس کے کناروں سے کم کرتے چلے آنے کا ایک مطلب یہ ہے کہ زمین سے مراد زمین کے رہنے والے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ سْـَٔلِ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ كُنَّا فِيْهَا [یوسف: ۸۲] اور اس بستی سے پوچھ لیجیے جس میں ہم تھے۔ یہاں بستی سے مراد بستی میں رہنے والے ہیں۔ یعنی کیا یہ کافر ہماری زبردست قدرت اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے کہ بے سروسامان اور مظلوم و مقہور مسلمانوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے اور ان سرداروں کے ساتھی مسلمان ہوتے جا رہے ہیں، جس سے کفار کی تعداد روز بروز کم ہوتی جارہی ہے، جو آخر کار ختم ہو جانے والی ہے۔ تیسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ کیا یہ لوگ ہماری زبردست قدرت نہیں دیکھتے کہ ہم آسمانی اور زمینی آفات مثلاً طوفانوں، سیلابوں، زلزلوں، آتش فشاں پہاڑوں کی ہلاکت خیزیوں، جنگوں، وباؤں اور دوسرے عذابوں کی صورت میں ہزاروں لاکھوں لوگوں کو ہلاک کرکے آباد زمینوں کو بے آباد کر دیتے ہیں؟ ان کے اردگرد ہود علیہ السلام، صالح علیہ السلام، لوط علیہ السلام اور قوم سبا کی برباد شدہ بستیاں ان کی آنکھوں کے سامنے ہیں، بھلا ہماری اس عظیم الشان قوت کے مقابلے میں یہ لوگ غالب ا ٓسکتے ہیں؟ پہلا مطلب الفاظ کے بہت قریب ہے، مگر سورت مکی ہونے کی وجہ سے آخری دو مطلب بیان کیے گئے ہیں، کیونکہ مکہ میں مسلمانوں کی فتوحات کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا۔ مزید دیکھیے سورۂ رعد (۴۱)۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

44۔ 1 یعنی ان کی یا ان کے آبا واجداد، کی زندگیاں اگر عیش و راحت میں گزر گئیں تو کیا وہ یہ سمجھتے ہیں کہ وہ صحیح راستے پر ہیں؟ اور آئندہ بھی انھیں کچھ نہیں ہوگا؟ نہیں بلکہ یہ چند روزہ زندگی کا آرام تو ہمارے اصول مہلت کا ایک حصہ ہے، اس سے کسی کو دھوکا اور فریب میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔ 44۔ 2 یعنی زمین کفر بتدریج گھٹ رہی ہے اور دولت اسلام وسعت پذیر ہے۔ کفر کے پیروں تلے سے زمین کھسک رہی ہے اور اسلام کا غلبہ بڑھ رہا ہے اور مسلمان علاقے پر علاقہ فتح کرتے چلے جا رہے ہیں۔ 44۔ 3 یعنی کفر کو سمٹتا اور اسلام کو بڑھتا ہوا دیکھ کر بھی، کیا وہ کافر یہ سمجھتے ہیں کہ وہ غالب ہیں؟ استفہام انکاری ہے۔ یعنی وہ غالب نہیں، مغلوب ہیں، فاتح نہیں، مفتوح ہیں، معزز و سرفراز نہیں، ذلت اور خواری ان کا مقدر ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

44۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ ہم نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو طویل مدت [39] تک سامان زیست سے فائدہ پہنچایا۔ کیا یہ دیکھتے نہیں کہ ہم ان کی زمین کو مختلف سمتوں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں۔ پھر کیا یہی غالب [40] رہیں گے۔
[39] خوشحالی انسان کو اللہ سے غافل کر دیتی ہے:۔
یعنی ان قریش مکہ کی حالت یہ ہے کہ ایک طویل مدت سے ان پر سختی کا کوئی دور نہیں آیا۔ کعبہ کی تولیت کی بنا پر ان کی عرب بھر میں عزت ہے۔ ان کے تجارتی قافلوں پر کوئی بھی قبیلہ ڈاکہ ڈالنے کی جرأت نہیں کرتا۔ بلکہ جس قافلے کو یہ لوگ پروانہ راہداری دے دیں۔ وہ بھی لوٹ مار سے محفوظ و مامون ہو جاتا ہے۔ سردی اور گرمی کے تجارتی سفروں کی بنا پر بہت دولت کما رہے ہیں اور آسودہ حال ہیں۔ اسی آسودہ حالی نے انھیں اللہ اور اس کی یاد سے غافل بنا دیا ہے۔ اب ان کے دماغ اس وقت تک درست نہیں ہو سکتے جب تک یہ اللہ کے عذاب کا مزا نہ چکھ لیں۔
[40] زمین کو گھٹانے کا مطلب:۔
یہ لوگ بچشم خود دیکھ رہے ہیں کہ اسلام کو روکنے کی ان کی ساری تدبیروں اور کوششوں کے باوجود اسلام دن بدن بڑھتا اور پھیلتا جا رہا ہے اور جوں جوں اسلام پھیل رہا ہے ان پر از خود عرصہ حیات تنگ ہوتا جا رہا ہے اور ان کی پریشانیوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اس کا دوسرا مطلب یہ ہے کہ جس علاقہ میں اسلام آگیا وہاں سے کفر رخصت ہوا اور کفر کی سرزمین گھٹ گئی۔ اور یہ سلسلہ بدستور جاری رہے گا کفر کا علاقہ یا سرزمین گھٹتی، سمٹتی اور سکڑتی جائے گی اور اسلام کی سرزمین بڑھتی جائے گی۔ جس کا آغاز ہو چکا ہے۔ یہ سب کچھ دیکھنے کے باوجود کیا اب بھی وہ اس وہم میں مبتلا ہیں کہ وہ اسلام کو دبا لینے میں کامیاب ہو جائیں گے اور بالآخر انھیں کا بول بالا رہے گا؟

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

ذلت و رسوائی کے مارے لوگ ٭٭
کافروں کے کینے کی اور اپنی گمراہی پر جم جانے کی وجہ بیان ہو رہی ہے کہ انہیں کھانے پینے کو ملتا رہا، لمبی لمبی عمریں ملیں، انہوں نے سمجھ لیا کہ ہمارے کرتوت اللہ کو پسند ہیں۔
اس کے بعد انہیں نصیحت کرتا ہے کہ ’ کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے کافروں کی بستیوں کی بستیاں بوجہ ان کے کفر کے ملیامیٹ کر دیں؟ ‘ اس جملے کے اور بھی بہت سے معنی کئے گئے ہیں جو سورۃ الرعد میں ہم بیان کر آئے ہیں۔ لیکن زیادہ ٹھیک معنی یہی ہیں۔
جیسے فرمایا آیت «ووَلَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» ۱؎ [46-الأحقاف:27]‏‏‏‏، ’ ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں ہلاک کیں اور اپنی نشانیاں ہیر پھیر کر کے تمہیں دکھا دیں تاکہ لوگ اپنی برائیوں سے باز آجائیں ‘۔ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ نے اس کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے ہیں کہ ’ ہم کفر پر اسلام کو غالب کرتے چلے آئے ہیں ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:494/1:]‏‏‏‏
کیا تم اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں کو اپنے دشمنوں پر غالب کر دیا اور کس طرح جھٹلانے والی اگلی امتوں کو اس نے ملیامیٹ کر دیا اور اپنے مومنوں کو نجات دے دی۔ کیا اب بھی یہ لوگ اپنے آپ کو غالب ہی سمجھ رہے ہیں؟ نہیں نہیں بلکہ یہ مغلوب ہیں، ذلیل ہیں، رذیل ہیں، نقصان میں ہیں، بربادی کے ماتحت ہیں۔
میں تو اللہ کی طرف سے مبلغ ہوں، جن جن عذابوں سے تمہیں خبردار کر رہا ہوں، یہ اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ اللہ کا کہا ہوا ہے۔ ہاں جن کی آنکھیں اللہ نے اندھی کر دی ہیں، جن کے دل و دماغ بند کر دیئے ہیں، انہیں یہ اللہ کی باتیں سود مند نہیں پڑتیں۔ بہروں کو آگاہ کرنا بے کار ہے کیونکہ وہ تو سنتے ہی نہیں۔ ان گنہگاروں پر اک ادنیٰ سا بھی عذاب آ جائے تو واویلا کرنے لگتے ہیں اور اسی وقت بے ساختہ اپنے قصور کا اقرار کر لیتے ہیں۔ قیامت کے دن عدل کی ترازو قائم کی جائے گی۔ یہ ترازو ایک ہی ہوگی لیکن چونکہ جو اعمال اس میں تولے جائیں گے وہ بہت سے ہوں گے، اس اعتبار سے لفظ جمع لائے۔ «وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا» ۱؎ [18-الكهف:49]‏‏‏‏ ’ اس دن کسی پر کسی طرح کا ذرا سا بھی ظلم نہ ہوگا ‘۔
اس لیے کہ حساب لینے والا خود اللہ ہے جو اکیلا ہی تمام مخلوق کے حساب کے لیے کافی ہے۔ ہر چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی وہاں موجود ہو جائے گا۔
اور آیت میں فرمایا تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا۔ فرمان ہے «إِنَّ اللَّـهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِن تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِن لَّدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا» ۱؎ [4-النساء:40]‏‏‏‏، ’ اللہ تعالیٰ ایک رائی کے دانے برابر بھی ظلم نہیں کرتا، نیکی کو بڑھاتا ہے اور اس کا اجر اپنے پاس سے بہت بڑا عنایت فرماتا ہے ‘۔
لقمان رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی وصیتوں میں اپنے بیٹے سے فرمایا تھا، «يَابُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:16]‏‏‏‏ ’ بیٹے ایک رائی کے دانے برابر بھی جو عمل ہو خواہ وہ پتھر میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں، وہ اللہ اسے لائے گا، وہ بڑا ہی باریک بین اور باخبر ہے ‘۔
بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں وزن دار ہیں اور اللہ کو بہت پیارے ہیں «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2695]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { میری امت کے ایک شخص کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اہل محشر کے سامنے اپنے پاس بلائے گا اور اس کے گناہوں کے ایک کم ایک سو دفتر اس کے سامنے کھولے جائیں گے۔ جہاں تک نگاہ کام کرے وہاں تک کا ایک ایک دفتر ہوگا۔
پھر اس سے جناب باری تعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ ’ کیا تجھے اپنے کئے ہوئے ان گناہوں میں سے کسی کا انکار ہے؟ میری طرف سے جو محافظ فرشتے تیرے اعمال لکھنے پر مقرر تھے انہوں نے تجھ پر کوئی ظلم تو نہیں کیا؟ ‘ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ! نہ انکار کی گنجائش ہے نہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ ظلماً لکھا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اچھا تیرے پاس کوئی عذر ہے یا کوئی نیکی ہے؟ ‘ وہ گھبرایا ہوا کہے گا اے اللہ کوئی نہیں۔ پروردگار عالم فرمائے گا ’ کیوں نہیں؟ بیشک تیری ایک نیکی ہمارے پاس ہے اور آج تجھ پر کوئی ظلم نہ ہوگا ‘۔
اب ایک چھوٹا سا پرچہ نکالا جائے گا جس میں «اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ وَ اَنَّ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» لکھا ہوا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اسے پیش کرو ‘۔ وہ کہے گا اے اللہ یہ پرچہ ان دفتروں کے مقابلے میں کیا کرے گا؟ جناب باری فرمائے گا ’ تجھ پر ظلم نہ کیا جائے گا ‘۔
اب تمام کے تمام دفتر ترازو کے ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا تو اس پرچے کا وزن ان تمام دفتروں سے بڑھ جائے گا۔ یہ جھک جائے گا اور وہ اونچے ہو جائیں گے اور اللہ رحمان و رحیم کے نام سے کوئی چیز وزنی نہ ہوگی } }۔ ابن ماجہ اور ترمذی میں بھی روایت ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے کہ { قیامت کے دن جب ترازوئیں رکھی جائیں گی پس ایک شخص کو لایا جائے گا اور ایک پلڑے میں رکھا جائے گا اور جو کچھ اس پر شمار کیا گیا ہے، وہ بھی رکھا جائے گا تو وہ پلڑا جھک جائے گا اور اسے جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ ابھی اس نے پیٹھ پھیری ہی ہوگی کہ اللہ کی طرف سے ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا اور کہے گا جلدی نہ کرو۔ ایک چیز اس کی ابھی باقی رہ گئی ہے پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس میں «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» ہوگا وہ اس شخص کے ساتھ ترازو کے پلڑے میں رکھا جائے گا اور یہ پلڑا نیکی کا جھک جائے گا }۔۱؎ [مسند احمد:221/2:حسن]‏‏‏‏
مسند احمد میں ہے کہ { ایک صحابی رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے غلام ہیں جو مجھے جھٹلاتے بھی ہیں، میری خیانت بھی کرتے ہیں، میری نافرمانی بھی کرتے ہیں اور میں بھی انہیں مارتا پیٹتا ہوں اور برا بھلا بھی کہتا ہوں۔ اب فرمائیے میرا ان کا کیا حال ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ان کی خیانت، نافرمانی، جھٹلانا و‏غیرہ جمع کیا جائے گا اور تیرا مارنا پیٹنا برا بھلا کہنا بھی۔ اگر تیری سزا ان کی خطاؤں کے برابر ہوئی تو تو چھوٹ گیا نہ عذاب نہ ثواب۔ ہاں اگر تیری سزا کم رہی تو تجھے اللہ کا فضل و کرم ملے گا اور اگر تیری سزا ان کے کرتوتوں سے بڑھ گئی تو تجھ سے اس بڑھی ہوئی سزا کا انتقام لیا جائے گا }۔ یہ سن کر وہ صحابی رضی اللہ عنہ رونے لگے اور چیخنا شروع کردیا۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسے کیا ہو گیا؟ کیا اس نے قرآن کریم میں یہ نہیں پڑھا آیت «وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ» } [آیت:47]‏‏‏‏ یہ سن کر اس صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان معاملات کو سن کر تو میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنے ان تمام غلاموں کو آزاد کردوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گواہ رہئے یہ سب اللہ کی راہ میں آزاد ہیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3165،قال الشيخ الألباني:صحیح]‏‏‏‏

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جو چیز ان کے اپنے کفر و شرک پر جمے رہنے کی باعث بنی اس کے بارے میں فرمایا: ﴿ بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَاٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْ٘عُمُرُ ہم نے مال اور اولاد کے ذریعے سے ان کی مدد کی، ان کو لمبی عمریں عطا کیں تو وہ ان مقاصد کو چھوڑ کر جن کے لیے ان کو پیدا کیا گیا تھا، لہو و لعب کی بنا پر، مال اور اولاد سے متمتع ہونے میں مشغول ہو گئے اور ان کی مدت مہلت طویل ہو گئی، جس سے ان کے دل سخت ہو گئے، ان کی سرکشی بڑھ گئی اور ان کا کفر بہت زیادہ ہو گیا۔ اگر وہ اس زمین پر دائیں بائیں مڑ کر اپنے جیسے لوگوں کا انجام دیکھتے تو ہلاک ہونے والوں کے سوا کچھ نہ پاتے اور موت کی خبر دینے والے کی آواز کے سوا کوئی آواز نہ سنتے۔ انھیں معلوم ہوتا کہ کئی قومیں پے در پے ہلاک ہو گئیں اور موت نے نفوس کو پھانسنے کے لیے ہر راستے پر پھندہ لگا رکھا ہے۔
بناء بریں فرمایا: ﴿اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا یعنی ہم زمین کو اہل زمین کی موت اور ان کو فنا کرنے کے ذریعے آہستہ آہستہ کم کررہے ہیں یہاں تک کہ صرف اللہ تعالیٰ ہی زمین اور زمین کے رہنے والوں کا وارث ہو گا اور وہ بہترین وارث ہے اگر وہ اپنی اس حالت کو دیکھیں تو کبھی فریب میں مبتلا نہ ہوں اور کبھی اپنے کفر و شرک کے موجودہ رویے پر جمے نہ رہیں۔ ﴿ اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ کیا پس وہ غالب ہیں۔ جو اپنے زور سے اللہ تعالیٰ کی قضا و قدر کو روک سکتے ہوں اور اپنی طاقت سے موت سے بچ سکتے ہوں؟ کیا یہ ان کا وصف ہے کہ جس کی بنا پر وہ طول بقاء کے فریب میں مبتلا ہیں؟ یا ان کی حالت یہ ہے کہ جب ان کی ارواح کو قبض کرنے کے لیے ان کے رب کا فرشتہ ان کے پاس آئے گا تو اس کے سامنے سرنگوں ہو جائیں گے اور ادنیٰ سی مزاحمت پر بھی قادر نہ ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

والذي أوجب لهم استمرارهم على كفرهم وشركهم قوله: {بل مَتَّعْنا هؤلاء وآباءَهم حتى طالَ عليهم العُمُرُ}؛ أي: أمددناهم بالأموال والبنين، وأطلنا أعمارهم، فاشتغلوا بالتمتُّع بها، ولهوا بها عما له خُلقوا، وطال عليهم الأمد، فقست قلوبُهم، وعظُم طغيانُهم، وتغلَّظ كفرانهم؛ فلو لفتوا أنظارهم إلى مَنْ عن يمينهم وعن يسارهم من الأرض؛ لم يَجِدوا إلاَّ هالكاً، ولم يسمعوا إلاَّ صوتَ ناعيةٍ، ولم يحسُّوا إلا بقرونٍ متتابعة على الهلاك، وقد نَصَبَ الموتُ في كلِّ طريق ـ لاقتناص النفوس ـ الأشْراكَ، ولهذا قال: {أفلا يَرَوْنَ أنَّا نأتي الأرض نَنقُصُها من أطرافِها}؛ أي: بموت أهلها وفنائهم شيئاً فشيئاً حتى يَرِثَ الله الأرض ومَنْ عليها وهو خيرُ الوارثين؛ فلو رأوا هذه الحالة؛ لم يغترُّوا ويستمرُّوا على ما هم عليه. {أفهم الغالبونَ}: الذين بوسِعِهم الخروج عن قَدَرِ الله، وبطاقَتِهِم الامتناع من الموت؛ فهل هذا وصفهم حتى يغترُّوا بطول البقاء؟ أم إذا جاءهم رسولُ ربِّهم، لِقَبْضِ أرواحهم، أذعنوا وذلُّوا ولم يظهرْ منهم أدنى ممانعةٍ؟