تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اَفَلَا يَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِي الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا …:} یعنی کیا یہ مشرکین جو عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں اس عذاب کے آثار اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے کہ ہم ان کی زمین کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے اسے مسلسل کم کرتے چلے آ رہے ہیں۔ مسلمان شہروں پر شہر اور علاقوں پر علاقے فتح کرتے چلے جا رہے ہیں اور وہ وقت آ رہا ہے کہ ان کی مقبوضہ زمین گھٹتے گھٹتے ساری کی ساری ان کے قبضے سے نکل جائے گی، تو کیا پھر بھی یہی غالب ہوں گے؟ زمین کو اس کے کناروں سے کم کرتے چلے آنے کا ایک مطلب یہ ہے کہ زمین سے مراد زمین کے رہنے والے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ وَ سْـَٔلِ الْقَرْيَةَ الَّتِيْ كُنَّا فِيْهَا }» [یوسف: ۸۲] ”اور اس بستی سے پوچھ لیجیے جس میں ہم تھے۔“ یہاں بستی سے مراد بستی میں رہنے والے ہیں۔ یعنی کیا یہ کافر ہماری زبردست قدرت اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھ رہے کہ بے سروسامان اور مظلوم و مقہور مسلمانوں کی تعداد بڑھتی چلی جا رہی ہے اور ان سرداروں کے ساتھی مسلمان ہوتے جا رہے ہیں، جس سے کفار کی تعداد روز بروز کم ہوتی جارہی ہے، جو آخر کار ختم ہو جانے والی ہے۔ تیسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ کیا یہ لوگ ہماری زبردست قدرت نہیں دیکھتے کہ ہم آسمانی اور زمینی آفات مثلاً طوفانوں، سیلابوں، زلزلوں، آتش فشاں پہاڑوں کی ہلاکت خیزیوں، جنگوں، وباؤں اور دوسرے عذابوں کی صورت میں ہزاروں لاکھوں لوگوں کو ہلاک کرکے آباد زمینوں کو بے آباد کر دیتے ہیں؟ ان کے اردگرد ہود علیہ السلام، صالح علیہ السلام، لوط علیہ السلام اور قوم سبا کی برباد شدہ بستیاں ان کی آنکھوں کے سامنے ہیں، بھلا ہماری اس عظیم الشان قوت کے مقابلے میں یہ لوگ غالب ا ٓسکتے ہیں؟ پہلا مطلب الفاظ کے بہت قریب ہے، مگر سورت مکی ہونے کی وجہ سے آخری دو مطلب بیان کیے گئے ہیں، کیونکہ مکہ میں مسلمانوں کی فتوحات کا سلسلہ شروع نہیں ہوا تھا۔ مزید دیکھیے سورۂ رعد (۴۱)۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس کے بعد انہیں نصیحت کرتا ہے کہ ’ کیا وہ یہ نہیں دیکھتے کہ ہم نے کافروں کی بستیوں کی بستیاں بوجہ ان کے کفر کے ملیامیٹ کر دیں؟ ‘ اس جملے کے اور بھی بہت سے معنی کئے گئے ہیں جو سورۃ الرعد میں ہم بیان کر آئے ہیں۔ لیکن زیادہ ٹھیک معنی یہی ہیں۔
جیسے فرمایا آیت «ووَلَقَدْ اَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُمْ مِّنَ الْقُرٰى وَصَرَّفْنَا الْاٰيٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ» ۱؎ [46-الأحقاف:27]، ’ ہم نے تمہارے آس پاس کی بستیاں ہلاک کیں اور اپنی نشانیاں ہیر پھیر کر کے تمہیں دکھا دیں تاکہ لوگ اپنی برائیوں سے باز آجائیں ‘۔ حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ نے اس کے ایک معنی یہ بھی بیان کئے ہیں کہ ’ ہم کفر پر اسلام کو غالب کرتے چلے آئے ہیں ‘۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:494/1:]
کیا تم اس سے عبرت حاصل نہیں کرتے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے دوستوں کو اپنے دشمنوں پر غالب کر دیا اور کس طرح جھٹلانے والی اگلی امتوں کو اس نے ملیامیٹ کر دیا اور اپنے مومنوں کو نجات دے دی۔ کیا اب بھی یہ لوگ اپنے آپ کو غالب ہی سمجھ رہے ہیں؟ نہیں نہیں بلکہ یہ مغلوب ہیں، ذلیل ہیں، رذیل ہیں، نقصان میں ہیں، بربادی کے ماتحت ہیں۔
میں تو اللہ کی طرف سے مبلغ ہوں، جن جن عذابوں سے تمہیں خبردار کر رہا ہوں، یہ اپنی طرف سے نہیں ہے بلکہ اللہ کا کہا ہوا ہے۔ ہاں جن کی آنکھیں اللہ نے اندھی کر دی ہیں، جن کے دل و دماغ بند کر دیئے ہیں، انہیں یہ اللہ کی باتیں سود مند نہیں پڑتیں۔ بہروں کو آگاہ کرنا بے کار ہے کیونکہ وہ تو سنتے ہی نہیں۔ ان گنہگاروں پر اک ادنیٰ سا بھی عذاب آ جائے تو واویلا کرنے لگتے ہیں اور اسی وقت بے ساختہ اپنے قصور کا اقرار کر لیتے ہیں۔ قیامت کے دن عدل کی ترازو قائم کی جائے گی۔ یہ ترازو ایک ہی ہوگی لیکن چونکہ جو اعمال اس میں تولے جائیں گے وہ بہت سے ہوں گے، اس اعتبار سے لفظ جمع لائے۔ «وَلَا يَظْلِمُ رَبُّكَ أَحَدًا» ۱؎ [18-الكهف:49] ’ اس دن کسی پر کسی طرح کا ذرا سا بھی ظلم نہ ہوگا ‘۔
اس لیے کہ حساب لینے والا خود اللہ ہے جو اکیلا ہی تمام مخلوق کے حساب کے لیے کافی ہے۔ ہر چھوٹے سے چھوٹا عمل بھی وہاں موجود ہو جائے گا۔
لقمان رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی وصیتوں میں اپنے بیٹے سے فرمایا تھا، «يَابُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّـهُ إِنَّ اللَّـهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:16] ’ بیٹے ایک رائی کے دانے برابر بھی جو عمل ہو خواہ وہ پتھر میں ہو یا آسمانوں میں ہو یا زمین میں، وہ اللہ اسے لائے گا، وہ بڑا ہی باریک بین اور باخبر ہے ‘۔
بخاری و مسلم میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں { دو کلمے ہیں جو زبان پر ہلکے ہیں، میزان میں وزن دار ہیں اور اللہ کو بہت پیارے ہیں «سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ سُبْحَانَ اللَّهِ الْعَظِيمِ» } }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2695]
پھر اس سے جناب باری تعالیٰ دریافت فرمائے گا کہ ’ کیا تجھے اپنے کئے ہوئے ان گناہوں میں سے کسی کا انکار ہے؟ میری طرف سے جو محافظ فرشتے تیرے اعمال لکھنے پر مقرر تھے انہوں نے تجھ پر کوئی ظلم تو نہیں کیا؟ ‘ یہ جواب دے گا کہ اے اللہ! نہ انکار کی گنجائش ہے نہ یہ کہہ سکتا ہوں کہ ظلماً لکھا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اچھا تیرے پاس کوئی عذر ہے یا کوئی نیکی ہے؟ ‘ وہ گھبرایا ہوا کہے گا اے اللہ کوئی نہیں۔ پروردگار عالم فرمائے گا ’ کیوں نہیں؟ بیشک تیری ایک نیکی ہمارے پاس ہے اور آج تجھ پر کوئی ظلم نہ ہوگا ‘۔
اب ایک چھوٹا سا پرچہ نکالا جائے گا جس میں «اَشْهَدُ اَنْ لاَّ اِلٰهَ اِلاَّ اﷲُ وَ اَنَّ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲِ» لکھا ہوا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’ اسے پیش کرو ‘۔ وہ کہے گا اے اللہ یہ پرچہ ان دفتروں کے مقابلے میں کیا کرے گا؟ جناب باری فرمائے گا ’ تجھ پر ظلم نہ کیا جائے گا ‘۔
اب تمام کے تمام دفتر ترازو کے ایک پلڑے میں رکھے جائیں گے اور وہ پرچہ دوسرے پلڑے میں رکھا جائے گا تو اس پرچے کا وزن ان تمام دفتروں سے بڑھ جائے گا۔ یہ جھک جائے گا اور وہ اونچے ہو جائیں گے اور اللہ رحمان و رحیم کے نام سے کوئی چیز وزنی نہ ہوگی } }۔ ابن ماجہ اور ترمذی میں بھی روایت ہے۔ ۱؎ [سنن ترمذي:2639،قال الشيخ الألباني:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ { قیامت کے دن جب ترازوئیں رکھی جائیں گی پس ایک شخص کو لایا جائے گا اور ایک پلڑے میں رکھا جائے گا اور جو کچھ اس پر شمار کیا گیا ہے، وہ بھی رکھا جائے گا تو وہ پلڑا جھک جائے گا اور اسے جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا۔ ابھی اس نے پیٹھ پھیری ہی ہوگی کہ اللہ کی طرف سے ایک آواز دینے والا فرشتہ آواز دے گا اور کہے گا جلدی نہ کرو۔ ایک چیز اس کی ابھی باقی رہ گئی ہے پھر ایک پرچہ نکالا جائے گا جس میں «لَآ اِلٰهَ اِلَّا اﷲُ» ہوگا وہ اس شخص کے ساتھ ترازو کے پلڑے میں رکھا جائے گا اور یہ پلڑا نیکی کا جھک جائے گا }۔۱؎ [مسند احمد:221/2:حسن]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { اسے کیا ہو گیا؟ کیا اس نے قرآن کریم میں یہ نہیں پڑھا آیت «وَنَضَعُ الْمَوَازِينَ الْقِسْطَ لِيَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَيْئًا وَإِن كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ أَتَيْنَا بِهَا وَكَفَىٰ بِنَا حَاسِبِينَ» } [آیت:47] یہ سن کر اس صحابی رضی اللہ عنہ نے کہا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان معاملات کو سن کر تو میرا جی چاہتا ہے کہ میں اپنے ان تمام غلاموں کو آزاد کردوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گواہ رہئے یہ سب اللہ کی راہ میں آزاد ہیں }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3165،قال الشيخ الألباني:صحیح]
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
والذي أوجب لهم استمرارهم على كفرهم وشركهم قوله: {بل مَتَّعْنا هؤلاء وآباءَهم حتى طالَ عليهم العُمُرُ}؛ أي: أمددناهم بالأموال والبنين، وأطلنا أعمارهم، فاشتغلوا بالتمتُّع بها، ولهوا بها عما له خُلقوا، وطال عليهم الأمد، فقست قلوبُهم، وعظُم طغيانُهم، وتغلَّظ كفرانهم؛ فلو لفتوا أنظارهم إلى مَنْ عن يمينهم وعن يسارهم من الأرض؛ لم يَجِدوا إلاَّ هالكاً، ولم يسمعوا إلاَّ صوتَ ناعيةٍ، ولم يحسُّوا إلا بقرونٍ متتابعة على الهلاك، وقد نَصَبَ الموتُ في كلِّ طريق ـ لاقتناص النفوس ـ الأشْراكَ، ولهذا قال: {أفلا يَرَوْنَ أنَّا نأتي الأرض نَنقُصُها من أطرافِها}؛ أي: بموت أهلها وفنائهم شيئاً فشيئاً حتى يَرِثَ الله الأرض ومَنْ عليها وهو خيرُ الوارثين؛ فلو رأوا هذه الحالة؛ لم يغترُّوا ويستمرُّوا على ما هم عليه. {أفهم الغالبونَ}: الذين بوسِعِهم الخروج عن قَدَرِ الله، وبطاقَتِهِم الامتناع من الموت؛ فهل هذا وصفهم حتى يغترُّوا بطول البقاء؟ أم إذا جاءهم رسولُ ربِّهم، لِقَبْضِ أرواحهم، أذعنوا وذلُّوا ولم يظهرْ منهم أدنى ممانعةٍ؟