تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 43

اَمۡ لَہُمۡ اٰلِہَۃٌ تَمۡنَعُہُمۡ مِّنۡ دُوۡنِنَا ؕ لَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ نَصۡرَ اَنۡفُسِہِمۡ وَ لَا ہُمۡ مِّنَّا یُصۡحَبُوۡنَ ﴿۴۳﴾
یا ان کے لیے ہمارے سوا کوئی اور معبود ہیں، جو انھیں بچاتے ہیں؟ وہ نہ خود اپنی جانوں کی مدد کر سکتے ہیں اور نہ ہماری طرف سے ان کا ساتھ دیا جاتا ہے۔ En
کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں کہ ان کو (مصائب سے) بچاسکیں۔ وہ آپ اپنی مدد تو کر ہی نہیں سکتے اور نہ ہم سے پناہ ہی دیئے جائیں گے
En
کیا ہمارے سوا ان کے اور معبود ہیں جو انہیں مصیبتوں سے بچا لیں۔ کوئی بھی خود اپنی مدد کی طاقت نہیں رکھتا اور نہ کوئی ہماری طرف سے رفاقت دیا جاتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا یعنی جب ہم ان کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کرتے ہیں تو کیا ان کے خود ساختہ معبود ان کو اس برائی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے شر سے بچانے کی قدرت رکھتے ہیں؟ ﴿لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ۠ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَلَا هُمْ مِّؔنَّا یُصْحَبُوْنَ نہیں طاقت رکھتے وہ خود اپنی مدد کرنے کی اور نہ وہ ہماری طرف سے رفاقت دیے جاتے ہیں۔ یعنی ہماری طرف سے ان کے معاملات میں ان کی مدد نہیں کی جاتی۔ جب ان کی مدد نہ کی جائے تو گویا ان کو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے محروم کر کے ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور یوں وہ کوئی فائدہ اٹھانے اور ضرر دور کرنے پر قادر نہیں ہوتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أم لهم آلهةٌ تمنَعُهم من دوننا}؛ أي: إذا أردناهم بسوءٍ؛ هل من آلهتهم من يقدِرُ على منعهم من ذلك السوء والشرِّ النازل بهم؟ {لا يستطيعونَ نصرَ أنفسِهِم ولا هم منا يُصْحَبون}؛ أي: لا يُعانون على أمورهم من جهتنا، وإذا لم يُعانوا من الله؛ فهم مَخْذولون في أمورهم، لا يستطيعون جَلْبَ منفعةٍ ولا دفع مَضَرَّةٍ.