تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ اَمْلَهُمْاٰلِهَةٌتَمْنَعُهُمْمِّنْدُوْنِنَا ﴾ یعنی جب ہم ان کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کرتے ہیں تو کیا ان کے خود ساختہ معبود ان کو اس برائی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والے شر سے بچانے کی قدرت رکھتے ہیں؟ ﴿لَایَسْتَطِیْعُوْنَ۠نَصْرَاَنْفُسِهِمْوَلَاهُمْمِّؔنَّایُصْحَبُوْنَ ﴾”نہیں طاقت رکھتے وہ خود اپنی مدد کرنے کی اور نہ وہ ہماری طرف سے رفاقت دیے جاتے ہیں۔“ یعنی ہماری طرف سے ان کے معاملات میں ان کی مدد نہیں کی جاتی۔ جب ان کی مدد نہ کی جائے تو گویا ان کو اللہ تعالیٰ کی توفیق سے محروم کر کے ان کے اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا ہے اور یوں وہ کوئی فائدہ اٹھانے اور ضرر دور کرنے پر قادر نہیں ہوتے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{أم لهم آلهةٌ تمنَعُهم من دوننا}؛ أي: إذا أردناهم بسوءٍ؛ هل من آلهتهم من يقدِرُ على منعهم من ذلك السوء والشرِّ النازل بهم؟ {لا يستطيعونَ نصرَ أنفسِهِم ولا هم منا يُصْحَبون}؛ أي: لا يُعانون على أمورهم من جهتنا، وإذا لم يُعانوا من الله؛ فهم مَخْذولون في أمورهم، لا يستطيعون جَلْبَ منفعةٍ ولا دفع مَضَرَّةٍ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔