تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 45

قُلۡ اِنَّمَاۤ اُنۡذِرُکُمۡ بِالۡوَحۡیِ ۫ۖ وَ لَا یَسۡمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنۡذَرُوۡنَ ﴿۴۵﴾
کہہ دے میں تو تمھیں صرف وحی کے ساتھ ڈراتا ہوں اور بہرے پکار کو نہیں سنتے، جب کبھی ڈرائے جاتے ہیں۔ En
کہہ دو کہ میں تم کو حکم خدا کے مطابق نصیحت کرتا ہوں۔ اور بہروں کوجب نصیحت کی جائے تو وہ پکار کر سنتے ہی نہیں
En
کہہ دیجئے! میں تو تمہیں اللہ کی وحی کے ذریعہ آگاه کر رہا ہوں مگر بہرے لوگ بات نہیں سنتے جبکہ انہیں آگاه کیا جائے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿قُ٘لْ اے محمد! صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں سے کہہ دیجیے ﴿ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُؔكُمْ بِالْوَحْیِ یعنی میں تو اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں جو کچھ تمھارے پاس لایا ہوں وہ اپنی طرف سے نہیں لایا نہ میرے پاس اللہ تعالیٰ کے خزانے ہیں، نہ میں غیب جانتا ہوں اور نہ میں دعویٰ کرتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں، میں تو صرف اس چیز کے ذریعے سے تمھیں ڈراتا ہوں جو اللہ تعالیٰ میری طرف وحی کرتا ہے۔ اگر تم نے میری دعوت پر لبیک کہی تو یہ اللہ تعالیٰ کی دعوت پر لبیک ہے وہ تمھیں اس پر ثواب عطا کرے گا اور اگر تم روگردانی کر کے اس کی مخالفت کروگے تو میرے ہاتھ میں کوئی اختیار نہیں۔ اختیار تو تمام تر اللہ تعالیٰ کے قبضۂ قدرت میں ہے اور تقدیر صرف اسی کی طرف سے ہے۔
﴿ وَلَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ یعنی بہرہ کسی قسم کی آواز نہیں سن سکتا کیونکہ اس کی سماعت خراب ہو چکی ہے جس طرح آواز کا سننا اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ آواز کو قبول کرنے والا مقام و محل موجود ہو۔ اسی طرح وحی قلب و روح کے لیے زندگی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے سمجھ کا سبب ہے لیکن اگر قلب ہدایت کی آواز کو قبول نہیں کرتا تو وہ ہدایت اور ایمان کی نسبت سے اس بہرے کی مانند ہے جو آوازوں کو نہیں سن سکتا۔ یہ مشرکین بھی ہدایت اور ایمان کی آواز سننے سے بہرے ہیں اس لیے ان کا ہدایت کو قبول نہ کرنا کوئی تعجب انگیز بات نہیں خاص طور پر اس حالت میں کہ ابھی تک ان کو عذاب اور اس کی تکلیف نے چھویا نہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {قلْ}: يا محمدُ للناس كلِّهم: {إنَّما أنذِرُكم بالوَحْي}؛ أي: إنما أنا رسولٌ، لا آتيكم بشيء من عندي، ولا عندي خزائنُ الله، ولا أعلم الغيبَ، ولا أقولُ إنِّي مَلَكٌ، وإنما أنذركم بما أوحاه الله لي؛ فإنِ استجَبْتُم فقد استجبتم لله، وسَيُثيبكم على ذلك، وإن أعرضتُم وعارضتم؛ فليس بيدي من الأمر شيء، وإنَّما الأمر لله، والتقدير كلُّه لله. {ولا يسمعُ الصمُّ الدُّعاء}؛ أي: الأصم لا يسمع صوتاً؛ لأنَّ سمعه قد فَسَدَ وتعطَّل، وشرط السماع مع الصوت أن يوجَدَ محلٌّ قابلٌ لذلك. كذلك الوحي سببٌ لحياة القلوب والأرواح وللفقهِ عن الله، ولكنْ إذا كان القلبُ غير قابل لسماع الهُدى؛ كان بالنسبة للهدى والإيمان بمنزلةِ الأصمِّ بالنسبة إلى الأصوات؛ فهؤلاء المشركون صمٌّ عن الهدى؛ فلا يُسْتَغْرَبُ عدم اهتدائهم، خصوصاً في هذه الحالة التي لم يأتِهِمُ العذابُ، ولا مسَّهم ألمه.