تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 15

فَمَا زَالَتۡ تِّلۡکَ دَعۡوٰىہُمۡ حَتّٰی جَعَلۡنٰہُمۡ حَصِیۡدًا خٰمِدِیۡنَ ﴿۱۵﴾
تو ان کی پکار ہمیشہ یہی رہی، یہاں تک کہ ہم نے انھیں کٹے ہوئے، بجھے ہوئے بنا دیا۔ En
تو وہ ہمیشہ اسی طرح پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے ان کو (کھیتی کی طرح) کاٹ کر (اور آگ کی طرح) بجھا کر ڈھیر کردیا
En
پھر تو ان کا یہی قول تھا یہاں تک کہ ہم نے انہیں جڑ سے کٹی ہوئی کھیتی اور بجھی پڑی آگ (کی طرح) کر دیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ فَمَا زَالَتْ تِّؔلْكَ دَعْوٰىهُمْ پس ہمیشہ رہے گا ان کا یہ پکارنا۔ یعنی ہلاکت اور موت کی دعا مانگنا۔ وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ خود انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اللہ تعالیٰ نے عذاب بھیجنے میں ان کے ساتھ انصاف کیا ہے ﴿حَتّٰى جَعَلْنٰهُمْ حَصِیْدًا خٰمِدِیْنَ علاوہ ازیں یہاں تک کہ کر دیا ہم نے ان کو کٹے ہوئے کھیت اور بجھنے والی آگ (کی طرح)۔ یعنی اس نباتات کی مانند جسے کاٹ گرایا گیا ہو۔ ان کی حرکات مدہم پڑ گئیں اور آوازیں ختم ہو گئیں، اس لیے اے لوگو جن کو مخاطب کیا جا رہا ہے تم افضل ترین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے سے بچو۔کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی اللہ کا عذاب اسی طرح نازل ہو جائے جیسے ان لوگوں پر ہوا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{فما زالتْ تلك دَعْواهم}؛ أي: الدعاء بالويل والثبور والندم والإقرار على أنفسِهِم بالظُّلم وأنَّ الله عادلٌ فيما أحلَّ بهم، {حتى جَعَلْناهم حصيداً خامدينَ}؛ أي: بمنزلة النبات الذي قد حُصِدَ وأنيم؛ قد خمدت منهم الحركاتُ، وسكنتْ منهم الأصواتُ؛ فاحذروا أيُّها المخاطَبون، أن تستمرُّوا على تكذيب أشرف الرُّسل، فيحلَّ بكم كما حلَّ بأولئك.