تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 16

وَ مَا خَلَقۡنَا السَّمَآءَ وَ الۡاَرۡضَ وَ مَا بَیۡنَہُمَا لٰعِبِیۡنَ ﴿۱۶﴾
اور ہم نے آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے، کھیلتے ہوئے نہیں بنایا۔ En
اور ہم نے آسمان اور زمین کو جو اور (مخلوقات) ان دونوں کے درمیان ہے اس کو لہوولعب کے لئے پیدا نہیں کیا
En
ہم نے آسمان وزمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو کھیلتے ہوئے نہیں بنایا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے زمین اور آسمان کو کھیل تماشے کے طور پر عبث اور بے فائدہ پیدا نہیں کیا بلکہ ان کو حق کے ساتھ اور حق کے لیے پیدا کیا ہے تاکہ بندے اس کائنات سے استدلال کریں کہ اللہ تعالیٰ ہی خالق، عظمت والا، کائنات کی تدبیر کرنے والا، حکمت والا اور رحمان و رحیم ہے، جو کمال کلی، ہر قسم کی تعریف اور تمام تر عزت کا مالک ہے۔ وہ اپنے قول میں سچا ہے اس کے رسول بھی اس کی طرف سے خبردینے میں سچے ہیں۔ وہ قادر ہستی جو زمین و آسمان کو ان کی وسعت اور عظمت کے ساتھ پیدا کرنے پر قادر ہے وہ جسموں کے مرنے کے بعد ان کو دوبارہ پیدا کرنے پر بھی قدرت رکھتی ہے تاکہ نیک کو اس کی نیکی کی جزا اور بدکو اس کی بدی کی سزا دے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أنه ما خلق السماواتِ والأرضَ عَبَثاً ولا لَعِباً من غير فائدة، بل خلقها بالحقِّ وللحقِّ؛ ليستدلَّ بها العبادُ على أنَّه الخالق العظيم، المدبِّر الحكيم، الرحمن الرحيم، الذي له الكمالُ كلُّه والحمدُ كلُّه والعزَّةُ كلُّها، الصادق في قيله، الصادقةُ رسلُه فيما تخبر عنه، وأنه القادر على خلقِهما مع سَعَتِهِما وعِظَمِهِما، قادرٌ على إعادة الأجساد بعد موتها؛ ليجازي المحسنُ بإحسانه، والمسيء بإساءته.