(آیت 15){ فَمَازَالَتْتِّلْكَدَعْوٰىهُمْ …: ”حَصِيْدًا“”حَصَدَيَحْصُدُ“} (درانتی سے کاٹنا) سے {”فَعِيْلٌ“} بمعنی مفعول ({مَحْصُوْدٌ}) ہے۔ فعیل کا وزن مذکر و مؤنث اور واحد، تثنیہ، جمع سب کے لیے ایک ہی آتا ہے، معنی کٹے ہوئے۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
15۔ 1 یعنی جب تک زندگی کے آثار ان کے اندر رہے، وہ اعتراف ظلم کرتے رہے۔ 15۔ 2 حَصِیْد کٹی ہوئی کھیتی کو اور خُمُوْد آگ کے بج جانے کو کہتے ہیں۔ یعنی بالآخر وہ کٹی ہوئی کھیتی اور بھجی ہوئی آگ کی طرح راکھ کا ڈھیر ہوگئے، کوئی تاب و توانائی اور حس و حرکت ان کے اندر نہ رہی۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
15۔ وہ یہی پکارتے رہے تا آنکہ ہم نے کٹی ہوئی کھیتی کی طرح بنا دیا [13] اور وہ بجھ کر وہیں ڈھیر ہو گئے۔
[13] عذاب الٰہی جب آجائے اس وقت ایمان لانے سے رک نہیں سکتا:۔
اللہ کے نافرمان اور سرکش لوگوں کی ہمیشہ سے یہ عادت رہی ہے کہ ڈنڈے کے بغیر سیدھے نہیں ہوتے۔ ان پر جب عذاب الٰہی آجاتا ہے اور موت اپنے سامنے کھڑی دیکھتے ہیں۔ تو اس وقت اپنے گناہوں کا بھی اعتراف کرنے لگتے ہیں اور ایمان بھی لانے پر فوراً تیار ہو جاتے ہیں۔ مگر جس طرح عذاب الٰہی یک دم نہیں آن پڑتا اور اس کے آنے کے لئے تدریج و امسال کا قانون مقرر ہے اس طرح اس کے لئے ایک قانون یہ ہے کہ جب آجائے تو پھر واقع ہوکے رہتا ہے پھر ٹل نہیں سکتا اور اس قوم کا صفحہ ہستی سے نام و نشان تک مٹا دیا جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَمَازَالَتْتِّؔلْكَدَعْوٰىهُمْ ﴾ پس ہمیشہ رہے گا ان کا یہ پکارنا۔“ یعنی ہلاکت اور موت کی دعا مانگنا۔ وہ اس حقیقت کا اقرار کریں گے کہ خود انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اللہ تعالیٰ نے عذاب بھیجنے میں ان کے ساتھ انصاف کیا ہے ﴿حَتّٰىجَعَلْنٰهُمْحَصِیْدًاخٰمِدِیْنَ ﴾”علاوہ ازیں یہاں تک کہ کر دیا ہم نے ان کو کٹے ہوئے کھیت اور بجھنے والی آگ (کی طرح)۔“ یعنی اس نباتات کی مانند جسے کاٹ گرایا گیا ہو۔ ان کی حرکات مدہم پڑ گئیں اور آوازیں ختم ہو گئیں، اس لیے اے لوگو جن کو مخاطب کیا جا رہا ہے تم افضل ترین رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جھٹلانے سے بچو۔کہیں ایسا نہ ہو کہ تم پر بھی اللہ کا عذاب اسی طرح نازل ہو جائے جیسے ان لوگوں پر ہوا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{فما زالتْ تلك دَعْواهم}؛ أي: الدعاء بالويل والثبور والندم والإقرار على أنفسِهِم بالظُّلم وأنَّ الله عادلٌ فيما أحلَّ بهم، {حتى جَعَلْناهم حصيداً خامدينَ}؛ أي: بمنزلة النبات الذي قد حُصِدَ وأنيم؛ قد خمدت منهم الحركاتُ، وسكنتْ منهم الأصواتُ؛ فاحذروا أيُّها المخاطَبون، أن تستمرُّوا على تكذيب أشرف الرُّسل، فيحلَّ بكم كما حلَّ بأولئك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔