تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 14

قَالُوۡا یٰوَیۡلَنَاۤ اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۱۴﴾
انھوں نے کہا ہائے ہماری بربادی! یقینا ہم ظالم تھے۔ En
کہنے لگے ہائے شامت بےشک ہم ظالم تھے
En
کہنے لگے ہائے ہماری خرابی! بیشک ہم ﻇالم تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اب دنیا میں کیسے واپس جایا جا سکتا ہے، وہ وقت ہاتھ سے نکل گیا اور ان پر اللہ تعالیٰ کی ناراضی اور اس کا عذاب نازل ہو گیا، ان کا عزوشرف ختم ہو گیا اور ان کی دنیا بھی فنا ہو گئی اور ندامت اور حسرت ان کا نصیب بن گئی۔ اس لیے وہ پکار اٹھیں گے: ﴿ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰ٘لِمِیْنَ ہائے افسوس، ہم ہی ظالم تھے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أين الوصول إلى هذا وقد فات الوقت، وحلَّ بهم العقاب والمقت، وذهب عنهم عزُّهم وشرفُهم ودنياهم، وحضرهم ندمُهم وتحسُّرهم؟! ولهذا {قالوا يا وَيْلَنا إنَّا كنَّا ظالمين}.