تو موسیٰ اپنی قوم کی طرف پلٹا غصے سے بھرا ہوا، افسوس کرتا ہوا، کہا اے میری قوم! کیا تمھارے رب نے تمھیں اچھا وعدہ نہ دیا تھا؟ پھر کیا وہ مدت تم پر لمبی ہوگئی، یا تم نے چاہا کہ تم پر تمھارے رب کی طرف سے کوئی غضب اترے؟ تو تم نے میرے وعدے کی خلاف ورزی کی۔
En
اور موسیٰ غصّے اور غم کی حالت میں اپنی قوم کے پاس واپس آئے (اور) کہنے لگے کہ اے قوم کیا تمہارے پروردگار نے تم سے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟ کیا (میری جدائی کی) مدت تمہیں دراز (معلوم) ہوئی یا تم نے چاہا کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے غضب نازل ہو۔ اور (اس لئے) تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا (اس کے) خلاف کیا
پس موسیٰ (علیہ السلام) سخت غضبناک ہو کر رنج کے ساتھ واپس لوٹے، اور کہنے لگے کہ اے میری قوم والو! کیا تم سے تمہارے پروردگار نے نیک وعده نہیں کیا تھا؟ کیا اس کی مدت تمہیں لمبی معلوم ہوئی؟ بلکہ تمہارا اراده ہی یہ ہے کہ تم پر تمہارے پروردگار کا غضب نازل ہو؟ کہ تم نے میرے وعدے کا خلاف کیا
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم میں واپس آئے تو سخت ناراض ہوئے وہ تاسف اور غیظ و غضب سے لبریز تھے انھوں نے اس فعل پر زجرو توبیخ کرتے ہوئے فرمایا: ﴿يٰقَوْمِاَلَمْیَعِدْكُمْرَبُّكُمْوَعْدًاحَسَنًا ﴾”اے میری قوم! کیا تم سے تمھارے رب نے ایک اچھا وعدہ نہیں کیا تھا؟“ اور یہ تورات نازل کرنے کا وعدہ تھا۔ ﴿اَفَطَالَعَلَیْكُمُالْعَهْدُ ﴾ کیا وعدہ پورا ہونے میں دیر لگ گئی تھی اور میری عدم موجودگی طویل ہو گئی تھی، حالانکہ یہ تو بہت ہی تھوڑی سی مدت تھی۔ یہ بہت سے مفسرین کا قول ہے اور اس میں ایک دوسرے معنی کا احتمال بھی ہے، وہ یہ کہ کیا عہد نبوت اور رسالت کو زیادہ عرصہ گزر گیا ہے؟ جس کی وجہ سے تمھارے پاس علم باقی نہ رہا، علم کے تمام آثار مٹ گئے اور تمھارے پاس کوئی خبر نہ پہنچی اور طول عہد کی بنا پر آثار نبوت محو ہو گئے تھے اور اس طرح تم نے آثار رسالت اور علم کے معدوم ہونے اور غلبہء جہالت کی وجہ سے غیر اللہ کی عبادت شروع کر دی…؟ مگر معاملہ یوں نہیں بلکہ نبوت تمھارے درمیان موجود اور علم قائم ہے، اس لیے تمھارا یہ عذر قابل قبول نہیں۔ یا اس فعل کے ذریعے سے تمھارا ارادہ یہ تھا کہ تم پر تمھارے رب کا غضب نازل ہو، یعنی تم نے ایسے اسباب اختیار کیے جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کے موجب ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے۔ ﴿ فَاَخْلَفْتُمْمَّوْعِدِیْ﴾”پس تم نے میرے وعدے کے خلاف کیا۔“ جب میں نے تمھیں استقامت کا حکم دیا اور ہارون علیہ السلام کو تمھارے بارے میں وصیت کی تو تم نے غائب کا انتظار کیا نہ موجود کا احترام کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما رجع موسى إلى قومِهِ وهو غضبان أسف؛ أي: ممتلئ غيظاً وحنقاً وغمًّا؛ قال لهم موبِّخاً ومقبحاً لفعلهم: {يا قوم ألمْ يَعِدْكُم ربُّكم وعداً حسناً}: وذلك بإنزال التوراة. {أفطالَ عليكُمُ العهدُ}؛ أي: المدة فتطاولتم غيبتي وهي مدة قصيرة؟! هذا قول كثيرٍ من المفسرين، ويُحتمل أنَّ معناه: أفطال عليكُم عهد النبوَّة والرِّسالة، فلم يكن لكم بالنبوَّة علمٌ ولا أثرٌ، واندرستْ آثارُها، فلم تقِفوا منها على خبرٍ، فانمحت آثارُها لبعد العهد بها، فعبدتُم غير الله لغلبة الجهل وعدم العلم بآثار الرسالة؟! أي: ليس الأمر كذلك، بل النبوَّة بين أظهركم، والعلم قائمٌ، والعذر غيرُ مقبول. {أم أردتُم}: بفعلكم {أن يَحِلَّ عليكم غضبٌ من ربِّكم}؛ أي: فتعرَّضتم لأسبابه واقتحمتم موجب عذابه، وهذا هو الواقع. {فأخلفتُم موعدي}: حين أمرتكم بالاستقامة ووصيت بكم هارون فلم ترقُبوا غائباً ولم تحترموا حاضراً.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔