انھوں نے کہا ہم نے اپنے اختیار سے تیرے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کی اور لیکن ہم پر لوگوں کے زیوروں کے کچھ بوجھ لاد دیے گئے تھے تو ہم نے انھیں پھینک دیا، پھر اس طرح سامری نے (بنا) ڈالا۔
En
وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے اختیار سے تم سے وعدہ خلاف نہیں کیا۔ بلکہ ہم لوگوں کے زیوروں کا بوجھ اٹھائے ہوئے تھے۔ پھر ہم نے اس کو (آگ میں) ڈال دیا اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا
انہوں نے جواب دیا کہ ہم نے اپنےاختیار سے آپ کے ساتھ وعدے کا خلاف نہیں کیا۔ بلکہ ہم پر زیورات قوم کے جو بوجھ ﻻد دیے گئے تھے انہیں ہم نے ڈال دیا، اور اسی طرح سامری نے بھی ڈال دیئے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
انھوں نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ ان سے یہ کام جان بوجھ کر اور اپنے اختیار سے سرزد نہیں ہوا بلکہ اس کا سبب یہ تھا کہ ہم زیورات کے گناہ سے، جو ہمارے پاس تھے، بچنا چاہتے تھے۔ اہل تفسیر ذکر کرتے ہیں کہ بنی اسرائیل نے مصر سے نکلنے سے پہلے قبطیوں سے زیورات وغیرہ مستعار لیے تھے مصر سے نکلتے وقت وہ زیورات بھی ساتھ لے آئے۔ وہاں سے نکل کر انھوں نے وہ زیورات پھینک دیے تھے جب موسیٰ علیہ السلام چلے گئے تو انھوں نے وہ زیورات اکٹھے کر لیے تاکہ حضرت موسیٰ کی واپسی پر اس بارے میں ان سے رجوع کریں۔
جس روز فرعون اپنے لشکر سمیت سمندر میں غرق ہوا اس روز سامری نے رسول کا نقش پا دیکھ لیا تھا، اس کے نفس نے اسے آمادہ کیا اور اس نے اس نقش پا سے خاک کی ایک مٹھی اٹھالی اور اس خاک میں یہ تاثیر تھی کہ جب اسے کسی چیز پر ڈالا جاتا تو وہ زندہ ہو جاتی تھی… یہ امتحان اور آزمائش تھی۔ اس نے یہ خاک بچھڑے کے اس بت پر ڈال دی، جو اس نے گھڑا تھا۔ اس سے اس میں حرکت پیدا ہو گئی اور اس سے آواز بھی نکلتی تھی۔ بنی اسرائیل نے کہا موسیٰ علیہ السلام اپنے رب کو تلاش کرنے گیا ہے اور وہ یہاں موجود ہے، موسیٰ علیہ السلام بھول گیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: قالوا له: ما فعلنا الذي فعلنا عن تعمُّدٍ منَّا وملكٍ منَّا لأنفسنا، ولكن السبب الداعي لذلك أنَّنا تأثَّمنا من زينة القوم التي عندنا، وكانوا فيما يَذْكُرون استعاروا حُلِيًّا كثيراً من القبط، فخرجوا وهو معهم، وألقوه وجمعوه حين ذهب موسى ليراجعوه فيه إذا رجع، وكان السامريُّ قد بصر يومَ الغرق بأثر الرسول، فسوَّلت له نفسُه أن يأخُذَ قبضةً من أثرِهِ، وأنَّه إذا ألقاها على شيءٍ حَيِيَ فتنة وامتحاناً، فألقاها على ذلك العجل الذي صاغه بصورة عجل، فتحرَّك العجلُ وصار له خُوارٌ وصوتٌ، وقالوا: إنَّ موسى ذهب يطلُبُ ربَّه، وهو هاهنا، فنسِيَه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔