تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 85

قَالَ فَاِنَّا قَدۡ فَتَنَّا قَوۡمَکَ مِنۡۢ بَعۡدِکَ وَ اَضَلَّہُمُ السَّامِرِیُّ ﴿۸۵﴾
فرمایا پھر بے شک ہم نے تو تیری قوم کو تیرے بعد آزمائش میں ڈال دیا ہے اور انھیں سامری نے گمراہ کر دیاہے۔ En
فرمایا کہ ہم نے تمہاری قوم کو تمہارے بعد آزمائش میں ڈال دیا ہے اور سامری نے ان کو بہکا دیا ہے
En
فرمایا! ہم نے تیری قوم کو تیرے پیچھے آزمائش میں ڈال دیا اور انہیں سامری نے بہکا دیا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ فَاِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَكَ مِنْۢ بَعْدِكَ یعنی تیرے بعد تیری قوم کو بچھڑے کی پوجا کے ذریعے سے ہم نے آزمایا۔ پس انھوں نے صبر نہیں کیا اور جب ان کا امتحان ہوا تو انھوں نے کفر کا ارتکاب کیا۔ ﴿وَاَضَلَّهُمُ السَّامِرِیُّ اور سامری نے ان کو گمراہ کر دیا ﴿فَاَخْرَجَ لَهُمْ عِجْلًا جَسَدًا وہ ان کے لیے ایک بچھڑے کا بت بنا لایا ﴿لَّهٗ خُوَارٌؔ فَقَالُوْا اس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ لوگ کہنے لگے۔ ﴿ هٰؔذَاۤ اِلٰهُكُمْ وَاِلٰ٘هُ مُوْسٰؔى یہ تمھارا اور موسیٰ کا معبود ہے جسے موسیٰ بھول گیا ہے۔ اسی طرح بنی اسرائیل فتنے میں مبتلا ہو گئے اور انھوں نے بچھڑے کو پوجنا شروع کر دیا حضرت ہارون علیہ السلام نے ان کو روکا مگر وہ بچھڑے کی عبادت سے باز نہ آئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فقال الله له: {فإنَّا قد فَتَنَّا قومَكَ من بعدِكَ}؛ أي: بعبادتهم للعجل ابتليناهم واختبرناهم فلم يصبِروا، وحين وصلتْ إليهم المحنة كفروا، {وأضلَّهم السامرِيُّ}: فأخرج لهم عجلاً جسداً وصاغَهُ فصار له خُوارٌ، وقال لهم: هذا إلهكم وإله موسى، فنسِيَه موسى، فافتتن به بنو إسرائيل، فعبدوه، ونهاهم هارونُ، فلم ينتهوا.