تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {قَالَ يٰقَوْمِ اَلَمْ يَعِدْكُمْ رَبُّكُمْ وَعْدًا حَسَنًا:} اس وعدے سے مراد توبہ، ایمان اور عمل صالح کے بعد اس پر استقامت اختیار کرنے والے کے لیے مغفرت کا وعدہ، طور کی جانبِ ایمن پر موسیٰ علیہ السلام سے کلام اور بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے تورات عطا کرنے کا وعدہ اور من و سلویٰ نازل کرنے کا وعدہ ہے۔ (طبری)
➌ { اَفَطَالَ عَلَيْكُمُ الْعَهْدُ …: ” الْعَهْدُ “} کا معنی ہے وصیت، کسی آدمی سے کوئی بات طے کر لینا، پختہ وعدہ، قسم، حرمت کا خیال رکھنا، امان، ذمہ، ملاقات، پہچان، زمانہ، وفا، اللہ تعالیٰ کی توحید وغیرہ۔ (قاموس) یہاں ملاقات بھی معنی ہو سکتا ہے اور مدت بھی کہ کیا تمھیں میری ملاقات کو بہت لمبی مدت ہو چکی تھی کہ تم نے مجھ سے جو وعدہ کیا تھا اس کی خلاف ورزی کی؟ تیس دنوں سے دس دن ہی تو زیادہ گزرے تھے، یہ کون سی لمبی مدت تھی کہ تم نے مجھ سے کیے ہوئے سب وعدے توڑ ڈالے۔ وعدہ خلافی سے مراد ان کا طور کے دامن تک جانے کے لیے موسیٰ علیہ السلام کے پیچھے چلتے رہنے کے بجائے راستے میں ٹھہر جانا، بچھڑے کی پرستش اور مجاوری پر اڑ جانا اور ہارون علیہ السلام کے انھیں چلتے رہنے کی تاکید اور بچھڑے کی عبادت ترک کرنے کی نصیحت پر یہ کہنا کہ {” لَنْ نَّبْرَحَ عَلَيْهِ عٰكِفِيْنَ “} یعنی ہم اسی پر مجاور بن کر بیٹھے رہیں گے یہاں تک کہ موسیٰ ہمارے پاس آئیں۔ یہ تمام باتیں وعدے کی خلاف ورزی تھیں۔ (طبری)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما رجع موسى إلى قومِهِ وهو غضبان أسف؛ أي: ممتلئ غيظاً وحنقاً وغمًّا؛ قال لهم موبِّخاً ومقبحاً لفعلهم: {يا قوم ألمْ يَعِدْكُم ربُّكم وعداً حسناً}: وذلك بإنزال التوراة. {أفطالَ عليكُمُ العهدُ}؛ أي: المدة فتطاولتم غيبتي وهي مدة قصيرة؟! هذا قول كثيرٍ من المفسرين، ويُحتمل أنَّ معناه: أفطال عليكُم عهد النبوَّة والرِّسالة، فلم يكن لكم بالنبوَّة علمٌ ولا أثرٌ، واندرستْ آثارُها، فلم تقِفوا منها على خبرٍ، فانمحت آثارُها لبعد العهد بها، فعبدتُم غير الله لغلبة الجهل وعدم العلم بآثار الرسالة؟! أي: ليس الأمر كذلك، بل النبوَّة بين أظهركم، والعلم قائمٌ، والعذر غيرُ مقبول. {أم أردتُم}: بفعلكم {أن يَحِلَّ عليكم غضبٌ من ربِّكم}؛ أي: فتعرَّضتم لأسبابه واقتحمتم موجب عذابه، وهذا هو الواقع. {فأخلفتُم موعدي}: حين أمرتكم بالاستقامة ووصيت بكم هارون فلم ترقُبوا غائباً ولم تحترموا حاضراً.