تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا: ﴿فَاَجْمِعُوْاكَیْدَؔكُمْ ﴾”پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔“ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّائْتُوْاصَفًّا﴾”پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔“ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا حضٌّ من بعضهم على بعض على الاجتهاد في مغالبته، ولهذا قالوا: {فأجْمِعوا كيدَكم}؛ أي: أظهروه دفعةً واحدةً متظاهرين متساعدين فيه متناصرين متفقاً رأيُكم وكلمتُكم، {ثم ائْتوا صفًّا}: ليكونَ أمكنَ لعملكم وأهيبَ لكم في القلوب، ولئلاَّ يتركَ بعضُكم بعضَ مقدورِهِ من العمل، واعلموا أنَّ مَنْ أفلح اليوم ونجح وغلب غيره؛ فإنَّه المفلح الفائز؛ فهذا يومٌ له ما بعده من الأيام؛ فما أصلبهم في باطلهم وأشدَّهم فيه! حيث أتوا بكل سببٍ ووسيلةٍ وممكنٍ ومكيدةٍ يكيدون بها الحقَّ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔