ترجمہ و تفسیر — سورۃ طه (20) — آیت 64

فَاَجۡمِعُوۡا کَیۡدَکُمۡ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا ۚ وَ قَدۡ اَفۡلَحَ الۡیَوۡمَ مَنِ اسۡتَعۡلٰی ﴿۶۴﴾
سو تم اپنی تدبیر پختہ کرو، پھر صف باندھ کر آجاؤ اور یقینا آج وہ کامیاب ہوگا جس نے غلبہ حاصل کر لیا۔ En
تو تم (جادو کا) سامان اکھٹا کرلو اور پھر قطار باندھ کر آؤ۔ آج جو غالب رہا وہی کامیاب ہوا
En
تو تم بھی اپنا کوئی داؤ اٹھا نہ رکھو، پھر صف بندی کرکے آؤ۔ جو غالب آگیا وہی بازی لے گیا En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 64) ➊ {فَاَجْمِعُوْا كَيْدَكُمْ …: جَمَعَ يَجْمَعُ} (ف) جمع کرنا اور {أَجْمَعَ} (افعال) پختہ کرنا، پختہ ارادہ کرنا، اتفاق کرنا۔ لہٰذا { فَاَجْمِعُوْا } (افعال)کا ترجمہ جمع کرو یا اکٹھا کرو درست نہیں۔ یعنی یہ تذبذب اور اختلاف چھوڑو کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کیا جائے یا نہ کیا جائے، تم اپنا ارادہ اور اپنی خفیہ تدبیر پختہ اور مستحکم کرو اور پھر صف کی صورت میں اکٹھے ہو کر میدان میں آؤ، تاکہ سب پر تمھارا رعب پڑے اور دفعتاً ایسا حملہ کرو کہ حریف کے قدم اکھڑ جائیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ جادوگر بہت بڑی تعداد میں تھے اور انھوں نے ایک بے ہنگم ہجوم کی صورت میں سامنے آنے کے بجائے باقاعدہ فوجی ترتیب سے آگے پیچھے صفیں باندھ کر اپنی ہیبت اور شان و شوکت کے اظہار کا فیصلہ کیا۔ { صَفًّا } یہاں جنس کے معنی میں ہے اور اس سے ایک صف مراد نہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ صَفًّا [النبا: ۳۸] جس دن روح اور فرشتے صف بنا کر کھڑے ہوں گے۔ فرعون کے حکم سے مصر کے تمام شہروں میں سے ہر ماہر جادوگر وہاں لایا گیا تھا، اس لیے مراد کئی صفیں ہیں۔
➋ { وَ قَدْ اَفْلَحَ الْيَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى: اسْتَعْلٰى عَلَا يَعْلُوْ } سے استفعال ہے۔ زائد حروف مبالغے کے لیے ہیں، یعنی آج کے مقابلے کی اتنی اہمیت ہے کہ جس نے اس میں واضح اور نمایاں غلبہ حاصل کر لیا اس کا سکہ ہمیشہ کے لیے بیٹھ گیا اور جو اس میں رہ گیا پھر کبھی سر نہ اٹھا سکے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

64۔ لہٰذا اپنی سب تدبیریں اکٹھی کرو اور متحد ہو کر مقابلہ میں آؤ اور سمجھ لو کہ جو آج غالب رہا وہ جیت گیا“

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

یہ جادوگروں کی ایک دوسرے کو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر غالب آنے کے لیے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی ترغیب ہے، اس لیے انھوں نے ایک دوسرے سے کہا: ﴿فَاَجْمِعُوْا كَیْدَؔكُمْ پس تم اپنا داؤ اکٹھا کرو۔ یعنی اپنی رائے اور بات پر متفق ہو کر، ایک دوسرے کی مدد کرتے ہوئے یکبارگی موسیٰ پر غلبہ حاصل کر لو۔ ﴿ ثُمَّ ائْتُوْا صَفًّا پھر آؤ تم صف بندی کر کے۔ تاکہ تم بہتر طریقے سے اپنا کام کر سکو اور دلوں میں تمھاری ہیبت بیٹھ جائے اور تاکہ تم میں سے کوئی اس کام کو نہ چھوڑے جس کی وہ قدرت رکھتا ہے اور یاد رکھو! جو آج کامیاب ہو کر اپنے مدمقابل پر غالب آ گیا وہی فوزوفلاح کے مقام پر فائز ہے آج کی کامیابی پر مستقبل کی تمام کامیابیوں کا دارومدار ہے۔ وہ اپنے باطل میں کتنے سخت تھے، حق کے خلاف سازشوں میں انھوں نے ہر قسم کا سبب اور وسیلہ استعمال کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وهذا حضٌّ من بعضهم على بعض على الاجتهاد في مغالبته، ولهذا قالوا: {فأجْمِعوا كيدَكم}؛ أي: أظهروه دفعةً واحدةً متظاهرين متساعدين فيه متناصرين متفقاً رأيُكم وكلمتُكم، {ثم ائْتوا صفًّا}: ليكونَ أمكنَ لعملكم وأهيبَ لكم في القلوب، ولئلاَّ يتركَ بعضُكم بعضَ مقدورِهِ من العمل، واعلموا أنَّ مَنْ أفلح اليوم ونجح وغلب غيره؛ فإنَّه المفلح الفائز؛ فهذا يومٌ له ما بعده من الأيام؛ فما أصلبهم في باطلهم وأشدَّهم فيه! حيث أتوا بكل سببٍ ووسيلةٍ وممكنٍ ومكيدةٍ يكيدون بها الحقَّ.