تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 65

قَالُوۡا یٰمُوۡسٰۤی اِمَّاۤ اَنۡ تُلۡقِیَ وَ اِمَّاۤ اَنۡ نَّکُوۡنَ اَوَّلَ مَنۡ اَلۡقٰی ﴿۶۵﴾
انھوں نے کہا اے موسیٰ! یا تو یہ کہ تو پھینکے اور یا یہ کہ ہم پہلے ہوں جو پھینکے۔ En
بولے کہ موسیٰ یا تم (اپنی چیز) ڈالو یا ہم (اپنی چیزیں) پہلے ڈالتے ہیں
En
کہنے لگے کہ اے موسیٰ! یا تو تو پہلے ڈال یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

مگر اللہ تعالیٰ اپنی روشنی کو مکمل اور حق کو باطل پر غالب کر کے رہنے والا ہے۔ پس جب ان کی سازش مکمل ہو گئی اور ان کا قصد منحصر ہو گیا اور عمل کے سوا کچھ باقی نہ رہا۔ ﴿ قَالُوْا یٰمُوْسٰۤى اِمَّاۤ اَنْ تُ٘لْ٘قِیَ انھوں نے کہا، اے موسیٰ یا تو تو پہلے ڈال۔ یعنی اپنا عصا ﴿ وَاِمَّاۤ اَنْ نَّـكُوْنَ اَوَّلَ مَنْ اَلْ٘قٰى یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں۔ انھوں نے یہ ظاہر کرتے ہوئے کہ وہ ہر حالت میں غالب آئیں گے، موسیٰ علیہ السلام کو ابتدا کرنے یا نہ کرنے کا اختیار دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ويأبى الله إلاَّ أن يُتِمَّ نورَه ويظهِرَ الحقَّ على الباطل، فلما تمَّتْ مكيدتُهم وانحصر قصدُهم ولم يبقَ إلاَّ العمل؛ {قالوا} لموسى: {إمَّا أن تلقي}: عصاك، {وإمَّا أن نكونَ أولَ من ألقى}: خيَّروه موهمين أنَّهم على جزم من ظهورهم عليه بأيِّ حالة كانت.