تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ طه (20) — آیت 63

قَالُوۡۤا اِنۡ ہٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیۡدٰنِ اَنۡ یُّخۡرِجٰکُمۡ مِّنۡ اَرۡضِکُمۡ بِسِحۡرِہِمَا وَ یَذۡہَبَا بِطَرِیۡقَتِکُمُ الۡمُثۡلٰی ﴿۶۳﴾
کہا بے شک یہ دونوں یقینا جادوگر ہیں، چاہتے ہیں کہ تمھیں تمھاری سرزمین سے اپنے جادو کے ذریعے نکال دیں اور تمھارا وہ طریقہ لے جائیں جو سب سے اچھا ہے۔ En
کہنے لگے یہ دونوں جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ اپنے جادو (کے زور) سے تم کو تمہارے ملک سے نکل دیں اور تمہارے شائستہ مذہب کو نابود کردیں
En
کہنے لگے یہ دونوں محض جادوگر ہیں اور ان کا پختہ اراده ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کر دیں اور تمہارے بہترین مذہب کو برباد کر دیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

وہ سرگوشی، جو وہ آپس میں کر رہے تھے، اس کی بابت اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ قَالُوْۤا اِنْ هٰؔذٰنِ لَسٰحِرٰؔنِ یُرِیْدٰؔنِ اَنْ یُّخْرِجٰؔكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ بِسِحْرِهِمَا انھوں نے کہا، یہ دونوں جادوگر ہیں جو تمھیں اپنے جادو کے ذریعے سے تمھاری زمین سے نکالنا چاہتے ہیں۔ ان کا یہ قول فرعون کے قول کی مانند ہے جو گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے۔ یا تو فرعون اور جادوگروں میں بغیر کسی قصد کے اس قول پر اتفاق ہوا یا فرعون نے ان جادوگروں کو اس قول کی تلقین کی جس کا اس نے لوگوں کے سامنے اظہار کیا تھا اور لوگوں سے کہلوایا تھا، چنانچہ جادوگروں نے فرعون کی بات پر اضافہ کرتے ہوئے کہا: ﴿وَیَذْهَبَا بِطَرِیْقَتِكُمُ۠ الْ٘مُثْ٘لٰى اور تمھارے بہترین طریقے کو ختم کر دیں۔ یعنی تمھارا جادو کا طریقہ جس پر موسیٰ علیہ السلام تمھارے ساتھ حسد کرتا ہے اور تم پر غالب آنا چاہتا ہے تاکہ اسے فخر اور شہرت حاصل ہو اور اس علم کا مقصد بھی یہی ہے جس میں تم ایک زمانے سے مشغول ہو۔ موسیٰ چاہتا ہے کہ وہ تمھارے جادو کو ختم کر دے جو تمھارا ذریعہ معاش ہے، جس کی وجہ سے تمھیں ریاست ملی ہوئی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

والنجوى التي أسرُّوها فسَّرها بقوله: {قالوا إنْ هذانِ لساحرانِ يُريدان أن يخرِجاكم من أرضِكم بسحرِهما}؛ كمقالة فرعون السابقة؛ فإمَّا أن يكونَ ذلك توافقاً من فرعون والسحرة على هذه المقالة من غير قصدٍ، وإما أن يكون تلقيناً منه لهم مقالته التي صمَّم عليها وأظهرها للناس، وزادوا على قول فرعون أن قالوا: {ويَذْهَبا بطريقتِكُم المُثلى}؛ أي: طريقة السحر؛ حسدكم عليها، وأراد أن يظهر عليكم؛ ليكون له الفخرُ والصيتُ والشهرةُ، ويكون هو المقصودُ بهذا العلم الذي شغلتُم زمانَكم فيه ويذهب عنكم ما كنتُم تأكلون بسببه، وما يتبع ذلك من الرياسة.