تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 145

وَ لَئِنۡ اَتَیۡتَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡکِتٰبَ بِکُلِّ اٰیَۃٍ مَّا تَبِعُوۡا قِبۡلَتَکَ ۚ وَ مَاۤ اَنۡتَ بِتَابِعٍ قِبۡلَتَہُمۡ ۚ وَ مَا بَعۡضُہُمۡ بِتَابِعٍ قِبۡلَۃَ بَعۡضٍ ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَہۡوَآءَہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ مَا جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ ۙ اِنَّکَ اِذًا لَّمِنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۴۵﴾ۘ
اور یقینا اگر تو ان لوگوں کے پاس جنھیں کتاب دی گئی ہے، ہر نشانی بھی لے آئے وہ تیرے قبلے کی پیروی نہیں کریں گے اور نہ تو کسی صورت ان کے قبلے کی پیروی کرنے والا ہے اور نہ ان کا بعض کسی صورت بعض کے قبلے کی پیروی کرنے والا ہے اور یقینا اگر تو نے ان کی خواہشوں کی پیروی کی، اس علم کے بعد جو تیرے پاس آیا ہے، تو بے شک تو اس وقت ضرور ظالموں سے ہوگا۔ En
اور اگر تم ان اہلِ کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آؤ، تو بھی یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہ کریں۔ اور تم بھی ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں ہو۔ اور ان میں سے بھی بعض بعض کے قبلے کے پیرو نہیں۔ اور اگر تم باوجود اس کے کہ تمہارے پاس دانش (یعنی وحئ خدا) آ چکی ہے، ان کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے
En
اور آپ اگرچہ اہل کتاب کو تمام دلیلیں دے دیں لیکن وه آپ کے قبلے کی پیروی نہیں کریں گے اور نہ آپ ان کے قبلے کو ماننے والے ہیں اور نہ یہ آپس میں ایک دوسرے کے قبلے کو ماننے والے ہیں اور اگر آپ باوجودیکہ آپ کے پاس علم آچکا پھر بھی ان کی خواہشوں کے پیچھے لگ جائیں تو بالیقین آپ بھی ﻇالموں میں سے ہوجائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مخلوقات کی ہدایت کی بہت تمنا اور آرزو کیا کرتے تھے اور ان کی نہایت درجہ خیر خواہی کرتے تھے۔ نرمی اور پیار سے انھیں ہدایت کی راہ پر لانے کی کوششیں کیا کرتے تھے اور جب وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت نہیں کرتے، تو یہ امر آپ کو نہایت غمگین کر دیتا تھا۔ پس کافروں میں ایسے لوگ بھی تھے جنھوں نے اللہ کے حکم کے مقابلے میں سرتابی اختیار کی۔ اللہ تعالیٰ کے انبیاء و مرسلین علیہم السلام کے ساتھ تکبر سے پیش آئے اور جان بوجھ کر ظلم و عدوان کی بنا پر ہدایت کو چھوڑ دیا۔ انھی میں سے پہلے اہل کتاب یعنی یہود و نصاریٰ ہیں جنھوں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا جہالت کی بنا پر نہیں بلکہ یہ یقین رکھتے ہوئے انکار کیا کہ آپ نبی ہیں اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو آگاہ فرمایا ﴿وَلَىِٕنْ اَتَیْتَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ بِكُ٘لِّ اٰیَةٍ اگر آپ ان اہل کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آئیں۔ یعنی اگر آپ ان کے سامنے ہر قسم کی دلیل اور برہان پیش کردیں جو آپ کی بات اور دعوت کو واضح کر دیں ﴿مَّا تَبِعُوْا قِبْلَتَكَ تو بھی یہ آپ کے قبلے کی پیروی نہ کریں گے۔ یعنی تب بھی وہ آپ کی اتباع نہیں کریں گے۔ کیونکہ قبلہ کی طرف منہ کرنا درحقیقت آپ کی اتباع کی دلیل ہے اور اس لیے کہ اصل سبب قبلے کا معاملہ ہے اور معاملہ واقعی ایسا ہے، کیونکہ وہ حق کے ساتھ عناد رکھتے ہیں انھوں نے حق کو پہچانا اور اسے چھوڑ دیا۔ پس اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے صرف وہی شخص فائدہ اٹھا سکتا ہے جو حق کا متلاشی ہو اور حق اس پر مشتبہ ہو گیا ہو، تب یہ آیات بینات اس پر حق کو واضح کر دیتی ہیں اور جو کوئی اس بات پر اڑ جاتا ہے کہ وہ حق کی اتباع نہیں کرے گا تو اسے حق کی طرف لانے کی کوئی صورت نہیں۔
نیز ان میں آپس میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے اور وہ ایک دوسرے کے قبلہ کی پیروی نہیں کرتے۔ یہ سب کچھ ہوتے ہوئے اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم یہ کوئی تعجب خیز بات نہیں کہ وہ آپ کے قبلہ کی پیروی نہیں کرتے، کیونکہ وہ دشمن اور حاسد ہیں اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ﴿وَمَاۤ اَنْتَ بِتَابِـعٍ قِبْلَتَهُمْ (وَلَا تَتَّبِـعْ) سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ یہ لفظ اس بات کو متضمن ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی مخالفت سے متصف ہیں، پس آپ سے اس کا وقوع ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا (وَلَوْ اَتَوْا بِکُلِّ آیَۃٍ) کیونکہ ان کے پاس اپنے موقف کو ثابت کرنے کے لیے کوئی دلیل ہی نہیں۔
اسی طرح جب یقینی دلائل و براہین سے حق واضح ہو جاتا ہے تو اس پر وارد شبہات کا جواب دینا لازم نہیں۔ کیونکہ ان شبہات کی تو کوئی حد نہیں اور ان کا بطلان واضح ہے، کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ جو چیز واضح حق کے منافی ہو وہ باطل ہوتی ہے۔ تب شبہ کو حل کرنا تبرع کے زمرے میں آئے گا۔ (یعنی بغیر ضرورت کے محض خوشی سے شبہات کا ازالہ کرنا) ﴿وَلَىِٕنِ اتَّبَعْتَ اَهْوَؔآءَهُمْ اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے ﴿ اَهْوَؔآءَهُمْ ان کی خواہشات کا لفظ استعمال کیا ہے اور اس کی بجائے (دِینَھُمْ) ان کا دین کا لفظ استعمال نہیں کیا کیونکہ وہ محض اپنی خواہشات نفس کی پیروی کر رہے تھے۔ حتیٰ کہ وہ خود بھی یہ جانتے تھے کہ یہ دین نہیں ہے۔ اور جو کوئی دین کو چھوڑ دیتا ہے وہ لامحالہ خواہشات نفس کی پیروی کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ﴿اَفَرَءَیْتَ مَنِ اتَّؔخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ (الجاثیہ: 45؍23) بھلا آپ نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا معبود بنا رکھا ہے؟
﴿مِّنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَكَ مِنَ الْعِلْمِ اس کے بعد کہ آپ کے پاس علم آچکا ہے۔ یعنی یہ جان لینے کے بعد کہ آپ حق پر اور وہ باطل پر ہیں ﴿اِنَّكَ اِذًا تب آپ یعنی اگر آپ نے ان کی اتباع کی۔ یہ احتراز ہے تاکہ یہ جملہ اپنے ماقبل جملے سے علیحدہ نہ رہے۔ خواہ وہ افہام ہی میں کیوں نہ ہو۔ ﴿ لَّ٘مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ظالموں میں سے ہوجائیں گے۔ یعنی آپ کا شمار ظالموں میں ہو گا اور اس شخص کے ظلم سے بڑھ کر کون سا ظلم ہے جس نے حق اور باطل کو پہچان کر باطل کو حق پر ترجیح دی۔ یہ خطاب اگرچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے تاہم آپ کی امت اس میں داخل ہے، نیز اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہ کام کیا ہوتا، حاشا وکلّا، آپ سے یہ ممکن نہیں تھا، تو آپ بھی اپنے بلند مرتبہ اور نیکیوں کی کثرت کے باوجود ظالموں میں شمار ہوتے تب آپ کے علاوہ کوئی دوسرا تو بطریق اولیٰ بڑا ظالم ہوگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

كان النبي - صلى الله عليه وسلم - من كمال حرصه على هداية الخلق يبذل [لهم] غاية ما يقدر عليه من النصيحة ويتلطف بهدايتهم، ويحزن إذا لم ينقادوا لأمر الله، فكان من الكفار من تمرَّد عن أمر الله واستكبر على رسل الله وترك الهدى عمداً وعدواناً فمنهم اليهود والنصارى أهل الكتاب الأول الذين كفروا بمحمد عن يقين لا عن جهل؛ فلهذا أخبره الله تعالى أنك لو {أتيت الذين أتُوا الكتاب بكل آيةٍ}؛ أي: بكلِّ برهان ودليل يوضح قولك ويبين ما تدعو إليه، {ما تبعوا قبلتك}؛ أي: ما تبعوك؛ لأن اتباع القبلة دليل على اتباعه، ولأن السبب هو شأن القبلة، وإنما كان الأمر كذلك لأنهم معاندون عرفوا الحقَّ وتركوه، فالآياتُ إنما [تفيد و] ينتفع بها من يتطلب الحق وهو مشتبه عليه؛ فتوضح له الآيات البينات، وأما من جزم بعدم اتباع الحق فلا حيلة فيه، وأيضاً فإن اختلافهم فيما بينهم حاصل، وبعضهم غير تابع قبلة بعض، فليس بغريب منهم مع ذلك أن لا يتبعوا قبلتك يا محمد وهم الأعداء حقيقة الحسدة. وقوله: {وما أنت بتابع قبلتهُم}؛ أبلغ من قوله ولا تتبع؛ لأن ذلك يتضمن أنه - صلى الله عليه وسلم -، اتصف بمخالفتهم، فلا يمكن وقوع ذلك منه، ولم يقل ولو أُتُوا بكل آية؛ لأنهم لا دليل لهم على قولهم، وكذلك إذا تبين الحق بأدلته اليقينية لم يلزم الإتيان بأجوبة الشُبَه الواردة عليه؛ لأنه لا حد لها، ولأنه يعلم بطلانها للعلم بأن كلَّ ما نافى الحق الواضح فهو باطل، فيكون حل الشبه من باب التبرع.

{ولئن اتَّبعت أهواءهُم}؛ إنما قال: أهواءهم ولم يقل دينهم؛ لأن ما هم عليه مجرد أهوية نفس، حتى هم في قلوبهم يعلمون أنه ليس بدين، ومن ترك الدين اتبع الهوى ولا محالة، قال تعالى: {أفرأيت من اتخذ إلهه هواه}، {من بعد ما جاءك من العلم}؛ بأنك على الحق وهم على الباطل، {إنَّك إذاً}؛ أي: إن اتبعتهم، فهذا احتراز لئلا تنفصل هذه الجملة عما قبلها ولو في الأفهام {لمن الظالمين}؛ أي: داخل فيهم ومندرج في جملتهم، وأي ظلم أعظم من ظلم من علم الحق والباطل؟ فآثر الباطل على الحق، وهذا وإن كان الخطاب له - صلى الله عليه وسلم -، فإن أمته داخلة في ذلك؛ وأيضاً فإذا كان هو - صلى الله عليه وسلم -، لو فعل ذلك ـ وحاشاه ـ صار ظالماً مع علو مرتبته وكثرة إحسانه فغيره من باب أولى وأحرى. ثم قال تعالى: