تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ البقرة (2) — آیت 146

اَلَّذِیۡنَ اٰتَیۡنٰہُمُ الۡکِتٰبَ یَعۡرِفُوۡنَہٗ کَمَا یَعۡرِفُوۡنَ اَبۡنَآءَہُمۡ ؕ وَ اِنَّ فَرِیۡقًا مِّنۡہُمۡ لَیَکۡتُمُوۡنَ الۡحَقَّ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۴۶﴾ؔ
وہ لوگ جنھیں ہم نے کتاب دی، اسے پہچانتے ہیں جیسے وہ اپنے بیٹوں کوپہچانتے ہیں اور بے شک ان میں سے کچھ لوگ یقینا حق کو چھپاتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں۔ En
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ ان (پیغمبر آخرالزماں) کو اس طرح پہچانتے ہیں، جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں، مگر ایک فریق ان میں سے سچی بات کو جان بوجھ کر چھپا رہا ہے
En
جنہیں ہم نے کتاب دی ہے وه تو اسے ایسا پہچانتے ہیں جیسے کوئی اپنے بچوں کو پہچانے، ان کی ایک جماعت حق کو پہچان کر پھر چھپاتی ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تعالیٰ آگاہ کرتا ہے کہ اہل کتاب کو معلوم ہے اور ان کے ہاں یہ بات متحقق ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ جو کتاب آپ لے کر مبعوث ہوئے ہیں وہ حق اور سچ ہے اور انھیں اس بات کا پورا پورا یقین ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح انھیں اپنے بیٹوں کے بارے میں یہ یقین ہوتا ہے کہ وہ ان کے بیٹے ہیں اور اس کی بابت انھیں کوئی شبہ نہیں ہوتا۔ پس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی پہچان ان کے ہاں اس حد تک پہنچی ہوئی تھی کہ اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہ تھی، مگر اس کے باوجود ان میں سے ایک فریق جو تعداد میں زیادہ تھا۔ اس نے آپ کا انکار کیا اور آپ کے بارے میں یقینی شہادت کو چھپا لیا۔ درآں حالیکہ وہ جانتے تھے۔ فرمایا: ﴿وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ كَتَمَ شَهَادَةً عِنْدَهٗ مِنَ اللّٰهِ (البقرہ:140) اس سے بڑا ظالم کون ہے جو اس گواہی کو چھپائے جو اللہ کی طرف سے اس کے پاس ہے اس آیت کریمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان کے لیے تسلی اور ان کو اہل کتاب کے شر اور شبہات سے بچنے کی تلقین ہے۔ البتہ ان میں سے کچھ ایسے لوگ تھے جنھوں نے جانتے بوجھتے حق کو نہیں چھپایا۔ پس ان میں سے بعض آپ پر ایمان لے آئے اور بعض نے محض جہالت کی بنا پر آپ کا انکار کر دیا۔ پس صاحب علم اپنے علم کے مطابق جس قدر دلیل دینے اور تعبیر کرنے پر قادر ہے اس پر اسی قدر حق کا اظہار کرنا، اس کو بیان کرنا اور اس کو مزین کرنا فرض ہے اور اسی قدر باطل کا ابطال کرنا، حق سے اس کو علیحدہ کرنا اورہر ممکن طریقے سے نفوس کے سامنے اس کی برائی نمایاں کرنا اس پر لازم ہے۔ لیکن اس حق کو چھپانے والوں نے اس کے برعکس رویہ اختیار کیا، لہٰذا ان کے احوال بھی اس کے برعکس ہو گئے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يخبر تعالى أن أهل الكتاب قد تقرر عندهم وعرفوا أن محمداً رسول الله وأن ما جاء به حق وصدق، وتيقنوا ذلك كما تيقنوا أبناءهم بحيث لا يشتبهون [عليهم] بغيرهم، فمعرفتهم بمحمد - صلى الله عليه وسلم -، وصلت إلى حد لا يشكون فيه ولا يمترون. لكن فريقاً منهم وهم أكثرهم الذين كفروا به كتموا هذه الشهادة مع تيقنها وهم يعلمون، ومن أظلم ممن كتم شهادة عنده من الله وفي ضمن ذلك تسلية للرسول والمؤمنين وتحذير لهم من شرهم وشبههم، وفريق منهم لم يكتموا الحق وهم يعلمون، فمنهم من آمن به، ومنهم من كفر به جهلاً.

فالعالم عليه إظهار الحق وتبيينه وتزيينه بكلِّ ما يقدر عليه من عبارة وبرهان ومثال وغير ذلك، وإبطال الباطل وتمييزه عن الحق وتشيينه وتقبيحه للنفوس بكل طريق مؤدٍّ لذلك، فهؤلاء الكاتمون عكسوا الأمر فانعكست أحوالهم.