یقینا ہم تیرے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف پھرنا دیکھ رہے ہیں، تو یقینا ہم تجھے اس قبلے کی طرف ضرور پھیر دیں گے جسے تو پسند کرتا ہے، سو اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف پھیر لے اور تم جہاں بھی ہو سو اپنے چہرے اس کی طرف پھیر لو اور بے شک وہ لوگ جنھیں کتاب دی گئی ہے یقینا جانتے ہیں کہ ان کے رب کی طرف سے یہی حق ہے اور اللہ اس سے ہرگز غافل نہیں جو وہ کر رہے ہیں۔
En
(اے محمدﷺ) ہم تمہارا آسمان کی طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں۔ سو ہم تم کو اسی قبلے کی طرف جس کو تم پسند کرتے ہو، منہ کرنے کا حکم دیں گے تو اپنا منہ مسجد حرام (یعنی خانہٴ کعبہ) کی طرف پھیر لو۔ اور تم لوگ جہاں ہوا کرو، (نماز پڑھنے کے وقت) اسی مسجد کی طرف منہ کر لیا کرو۔ اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے، وہ خوب جانتے ہیں کہ (نیا قبلہ) ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں، خدا ان سے بے خبر نہیں
ہم آپ کے چہرے کو بار بار آسمان کی طرف اٹھتے ہوئے دیکھ رہے ہیں، اب ہم آپ کو اس قبلہ کی جانب متوجہ کریں گے جس سے آپ خوش ہوجائیں، آپ اپنا منھ مسجد حرام کی طرف پھیر لیں اور آپ جہاں کہیں ہوں اپنا منھ اسی طرف پھیرا کریں۔ اہل کتاب کو اس بات کے اللہ کی طرف سے برحق ہونے کا قطعی علم ہے اور اللہ تعالیٰ ان اعمال سے غافل نہیں جو یہ کرتے ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتا ہے ﴿قَدْنَرٰؔىتَقَلُّبَوَجْهِكَفِیالسَّمَآءِ﴾”ہم تمھارا آسمان کی طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں۔“ یعنی ہم آپ کو دیکھتے ہیں کہ آپ استقبال کعبہ کے بارے میں نزول وحی کے شوق اور انتظار میں اپنا منہ تمام جہات میں کثرت سے پھیرتے ہیں۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے ﴿وَجْهَكَ﴾ ارشاد فرمایا ہے ﴿بَصْرُکَ﴾ نہیں، کیونکہ اس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے فکروغم کی زیادتی کو بیان کرنا مقصود ہے، نیز چہرہ پھیرنا نظر پھیرنے کو بھی شامل ہے۔ ﴿فَلَنُوَلِّیَنَّكَ﴾”سو ہم آپ کو پھیر دیں گے۔“ یعنی چونکہ ہم آپ کے سرپرست اور مددگار ہیں اس لیے ہم ضرور آپ کا منہ پھیر دیں گے ﴿قِبْلَةًتَرْضٰىهَا﴾”اس قبلہ کی طرف جس کو آپ پسند کرتے ہیں۔“ یعنی ہم آپ کا منہ اس قبلہ کی طرف پھیر دیں گے جسے آپ پسند کرتے ہیں اور وہ ہے کعبہ شریف۔ اس آیت کریمہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے شرف و فضیلت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پسندیدہ امر کے مطابق حکم نازل کرنے میں جلدی فرمائی۔ اس کے بعد اللہ نے آپ کو استقبال کعبہ کا صراحتاً حکم فرمایا۔ چنانچہ فرمایا: ﴿فَوَلِّوَجْهَكَشَطْرَالْمَسْجِدِالْحَرَامِ﴾”پس اپنا چہرہ مسجد حرام کی طرف موڑ لیں“”وَجْہٌ“ سے مراد انسان کے بدن کے سامنے کا حصہ ہے۔ فرمایا: ﴿وَحَیْثُمَاكُنْتُمْ﴾”اور تم جہاں کہیں بھی ہو“ یعنی بحر و بر، مشرق و مغرب اور شمال و جنوب جہاں کہیں بھی ہو ﴿فَوَلُّوْاوُجُوْهَكُمْشَطْرَهٗ﴾”پس اپنے چہروں کو اس جہت کی طرف پھیر لو۔“ اس آیت کریمہ سے واضح ہے کہ تمام نمازوں میں، خواہ فرض ہو یا نفل اگر عین کعبہ کی طرف منہ کرنا ممکن ہو تو اس کی طرف منہ کرنا فرض ہے ورنہ اس کی طرف اور جہت میں منہ کر لینا کافی ہے۔ اور یہ کہ نماز کے اندر بدن کے ساتھ ادھر ادھر التفات کرنا نماز کو باطل کرنے والا عمل ہے کیونکہ کسی چیز کی بابت حکم دینا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی ضد ممنوع ہے۔
گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے کہ جہاں اللہ تعالیٰ نے اہل کتاب وغیرہ میں سے اعتراض کرنے والوں کا ذکر کیا ہے وہاں ان کے اعتراض کا جواب بھی دیا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ اہل کتاب اور ان کے اہل علم جانتے ہیں کہ آپ اس معاملے میں واضح حق پر ہیں کیونکہ انھیں اپنی کتابوں میں اس نبی کی نشانیاں ملتی ہیں، اس لیے وہ عناد اور سرکشی کی وجہ سے اعتراض کرتے ہیں۔ پس جب وہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے مبتلائے غم ہیں تو تم ان کے اعتراضات کی پروا نہ کرو، اس لیے کہ انسان کو صرف اس اعتراض کرنے والے کا اعتراض غم میں ڈالتا ہے، جب معاملہ مشتبہ ہو اور اس کا امکان ہو کہ صواب (صحیح بات) اس کے ساتھ ہو۔
لیکن جب یہ یقین ہو جائے کہ حق و صواب اس شخص کے ساتھ ہے جس پر اعتراض کیا جا رہا ہے اور اعتراض کرنے والا محض عناد سے کام لے رہا ہے اور اسے یہ بھی علم ہے کہ معترض کا اعتراض باطل ہے تو اسے پروا نہیں کرنی چاہیے بلکہ اسے انتظار کرنا چاہیے کہ معترض کو دنیاوی اور اخروی عقوبت کا ضرور سامنا کرنا پڑے گا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿وَمَااللّٰهُبِغَافِلٍعَمَّؔایَعْمَلُوْنَ﴾”اللہ ان کے اعمال سے بے خبر نہیں“ بلکہ وہ ان کے اعمال کو محفوظ کرتا ہے اور ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا۔ اس آیت کریمہ میں اعتراض کرنے والوں کے لیے وعید اور اہل ایمان کے لیے تسلی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يقول الله لنبيه: {قد نرى تقلب وجهك في السماء}؛ أي كثرة تردده في جميع جهاته شوقاً وانتظاراً لنزول الوحي باستقبال الكعبة، وقال: {وجهك}؛ ولم يقل بصرك لزيادة اهتمامه، ولأن تقليب الوجه مستلزم لتقليب البصر، {فلنُوَلِّيَنَّكَ}؛ أي: نوجهك لولايتنا إياك، {قبلة ترضاها}؛ أي: تحبها، وهي الكعبة، وفي هذا بيان لفضله وشرفه - صلى الله عليه وسلم -، حيث أن الله تعالى يسارع في رضاه. ثم صرح له باستقبالها فقال: {فولِّ وجهك شطر المسجد الحرام}؛ والوجه: ما أقبل من بدن الإنسان {وحيث ما كنتم}؛ أي: من بر وبحر شرق وغرب جنوب وشمال، {فولوا وجوهكم شطره}؛ أي: جهته، ففيها اشتراط استقبال الكعبة للصلوات كلها فرضها ونفلها، وأنه إن أمكن استقبال عينها وإلا فيكفي شطرها وجهتها، وأن الالتفات بالبدن مبطل للصلاة؛ لأن الأمر بالشيء نهي عن ضده.
ولما ذكر تعالى ـ فيما تقدم ـ المعترضين على ذلك من أهل الكتاب وغيرهم وذكر جوابهم، ذكر هنا أن أهل الكتاب والعلمِ منهم يعلمون أنك في ذلك على حقٍّ واضحٍ لما يجدونه في كتبهم فيعترضون عناداً وبغياً، فإذا كانوا يعلمون بخطئهم فلا تبالوا بذلك، فإن الإنسان إنما يغمه اعتراض من اعترض عليه إذا كان الأمر مشتبهاً وكان ممكناً أن يكون معه صواب، فأما إذا تيقن أن الصواب والحق مع المعترض عليه وأن المعترض معاند عارف ببطلان قوله فإنه لا محل للمبالاة، بل يُنتظَر بالمعترض العقوبة الدنيوية والأخروية فلهذا قال تعالى: {وما الله بغافل عمَّا يعملُون}؛ بل يحفظ عليهم أعمالهم ويجازيهم عليها، وفيها وعيد للمعترضين وتسلية للمؤمنين.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔